کوسماس یروشلمی
| مقدس کوسماس یروشلمی | |
|---|---|
| القدسی | |
| پیدائش | آٹھویں صدی یروشلم |
| وفات | آٹھویں صدی مایوما، غزہ |
| تہوار | 14 اکتوبر |
| منسوب خصوصیات | اسقف و راہب کے کپڑوں میں ملبوس، مناجات کے متن والا طومار |
| سرپرستی | مناجات نگار |
کوسماس یروشلمی مشرقی راسخ الاعتقاد کلیسیا کے ایک اسقف اور مناجات نگار تھے۔ کوسماس کی جائے پیدائش کے متعلق کچھ ماخذ میں یروشلم ملتا ہے جبکہ کچھ میں دمشق ہے۔ کوسماس بچپن ہی میں یتیم ہو گئے تو یوحنا دمشقی کے والد سرجون (سرجیس) نے اُن کو گود لے لیا، تو اس لحاظ سے کوسماس یوحنا دمشقی کے رضاعی بھائی بن گئے۔ یوحنا دمشقی اور کوسماس یروشلمی کو ایک راہب کوسماس (الگ شخصیت) نامی شخص نے تعلیم دی تھی۔ راہب کوسماس کو یوحنا کے والد نے غلامی سے آزادی دلائی تھی۔۔[1] کوسماس یروشلمی اور اُس کا رضاعی بھائی یوحنا دیر مار سابا (خانقاہ) میں راہب بننے کے لیے دمشق سے یروشلم چلے گئے۔[2] اُن دونوں بھائیوں نے یکجا ہوکر تمثال شکنی کی بدعت کے خلاف کلیسیا کا دفاع کیا۔ کوسماس یروشلمی کو جب غزہ کے ایک قصبے ”مایوما“ میں اسقف بنایا گیا تو وہ 743ء میں خانقاہ دیر مار سابا چھوڑ کر اپنے اختیارات سنبھالنے کے لیے مایوما روانہ ہو گئے۔[2] انھوں نے یوحنا دمشقی سے زیادہ عمر پائی اور کافی بڑی عمر میں وفات پاگئے۔
مزید دیکھیے
[ترمیم]حوالہ جات
[ترمیم]- ↑ Anton Baumstark۔ "Cosmas"۔ The Catholic Encyclopedia۔ New Advent۔ 2019-01-07 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2011-04-09
- ^ ا ب Byzantine Music and Liturgy، E. Wellesz, The Cambridge Medieval History: The Byzantine Empire, Part II، Vol. IV, ed. J.M. Hussey, D.M. Nicol and G. Cowan, (Cambridge University Press, 1967)، 149.
- آٹھویں صدی کی عباسی شخصیات
- آٹھویں صدی کی وفیات
- آٹھویں صدی کے اسقف
- آٹھویں صدی کے مصنفین
- آٹھویں صدی کے مقدسین
- بازنطینی رہبان
- خلافت عباسیہ میں مسیحیت
- دمشق کی شخصیات
- مشرقی راسخ الاعتقاد مقدسین
- رومن کیتھولک مقدسین
- بازنطینی مناجات نگار
- سوری مقدسین
- آٹھویں صدی کے راہب
- سوری مصنفین
- 760ء کی وفیات
- غزہ میں وفات پانے والی شخصیات
- 675ء کی پیدائشیں
- دمشق میں پیدا ہونے والی شخصیات
- سوری بزرگان
- بازنطینی مقدسین
- رومن کیتھولک الٰہیات دان
- بازنطینی الٰہیات دان
- 751ء کی وفیات