کوس مینار

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
One Kos Minar, Lahore

کوس مینار کابل سے کلکتہ کے درمیان ہر کوس پر ایک مینار تعمیر کیا گیا جسے کوس مینار کہتے ہیں۔

کوس کی تعریف[ترمیم]

کوس اس قدیم دور میں لمبائی کا ایک پیمانہ تھا جیسا کہ آج کلومیٹر یا میل ہے۔ ایک کوس3کلومیٹر کے لگ بھگ ہوتا تھا۔چنانچہ شیر شاہ سوری اور مغل بادشاہوں نے ہر کوس پر چھوٹے چھوٹے مینار تعمیر کروائے تھے، تاکہ لوگ ان میناروں کی گنتی کے تناسب سے فاصلے اور جگہوں کا تعین کر سکیں۔ ان میناروں کی اونچائی 30فٹ تک ہوتی تھی جو خاص طور پر ان راستوں پر تعمیر کیے گئے جن پر خود بادشاہ سفر کرتے تھے۔ چنانچہ آج بھی جے پور کے راستے آگرہ سے اجمیر اور لاہور کے راستے آگرہ سے دلی جاتے ہوئے آج بھی یہ کوس مینار نظر آتے ہیں۔[1] عظیم جرنیلی سڑک ( جی ٹی روڈ کابل سے کلکتہ ) کے معمار شیر شاہ سوری نے2500 کلو میٹر طویل سڑک پر کوس مینار بنوائے۔ یہ کسی خاص تعمیراتی شاھکار عمارت نہیں ہوتی تھی بلکہ اینٹوں کی تیاری کے لیے بننے والے بھٹے جیسی ساخت کے مینار تھے۔ جو تقریباً ہر تین کلومیٹر (جوایک کوس کہلاتا تھا)کے فاصلے پر بنائے گئے۔ ان کا مقصد شاھراہ ، مسافروں ، نقل و حرکت کے سامان کی حفاظت بھی تھا۔ سرکاری اہلکاروں کی یہاں تعنیاتی ہوتی۔ سرکاری احکامات اور ڈاک کی ترسیل کو بروقت پہنچانے کے لیے سرکاری اہلکار گھوڑوں پر سفر کرتے اگلی منزل یا مقررہ کوس مینار پر ان کے لیے نئے تازہ دم گھوڑے تیار ہوتے۔ پچھلے گھوڑے وہیں روک دیے جاتے اس طرح متواتر انتظامات کے تحت یہ سلسلہ چلتا رھتا۔ مسافروں کے لیے سرائیں بھی تعمیر کی گئیں۔ شاھراہ کے ساتھ ساتھ مسافروں اور جانوروں کی سہولت کے لیے پانی پینے کے لیے باؤلیاں بنوائی گئیں۔ حوادثِ زمانہ کی وجہ سے باقی کوس مینار مہندم ہوتے گئے۔ ان میں سے ایک کوس مینار کراچی پھاٹک لارنس کالونی گڑھی شاھو لاہور اور دوسرا لاہور کے سرحدی علاقے " منہالہ " کے قریب کھلے کھیتوں میں واقع ہے۔ گڑھی شاہو والا مینار باقاعدہ طور پر جنگلہ لگا کر ایک چھوٹے سے پارک میں محفوظ کر دیا گیا ہے۔ جب کہ منہالہ والا کوس مینار غیر محفوظ ہے [2]

حوالہ جات[ترمیم]