کولک
| متبادل نام | Kolek |
|---|---|
| اہم کھانا | میٹھا |
| اصلی وطن | انڈونیشیا |
| علاقہ یا ریاست | Southeast Asia |
| موجد | Indonesians |
| بنیادی اجزائے ترکیبی | Palm sugar, coconut milk, pandanus leaf |
| تغیرات | Kolak pisang, Kolak pisang ubi, Kolak waluh, Kolak biji salak, Kolak nangka, Kolak ubi, Kolak durian |
کولک انڈونیشیا کا ایک روایتی میٹھا ہے جسے خاص طور پر ماہ رمضان میں افطار کے دوران استعمال کیا جاتا ہے۔ اسے عام طور پر ایک قسم کے میٹھے سوپ کے طور پر بیان کیا جاتا ہے جس کی بنیاد کھجور کی چینی یا ناریل کی چینی اور ناریل کے دودھ پر مشتمل ہوتی ہے جبکہ خوشبو کے لیے اس میں پنڈانس کے پتے شامل کیے جاتے ہیں[1] ۔
اردو میں اسے ناریل کے دودھ کا میٹھا یا کولک ہی کہا جاتا ہے۔ کولک کی مقبولیت کی ایک بڑی وجہ اس کا توانائی سے بھرپور ہونا ہے جو روزے کے بعد جسم کو فوری توانائی فراہم کرتا ہے۔ اس میٹھے کی تیاری میں بنیادی اجزاء کے طور پر کیلے، شکر قندی، کٹہل، کاساوا، کدو اور پام کے پھل استعمال کیے جاتے ہیں۔[2] اسے عام طور پر گرم پیش کیا جاتا ہے لیکن کچھ لوگ اسے ٹھنڈا کھانا بھی پسند کرتے ہیں۔
کولک کی اقسام اور تاریخ
[ترمیم]انڈونیشیا میں کولک کی کئی اقسام موجود ہیں جن کے نام ان میں شامل بنیادی جزو کی بنیاد پر رکھے جاتے ہیں۔ مثال کے طور پر کولک پسانگ میں کیلے شامل ہوتے ہیں جبکہ کولک اوبی میں شکر قندی کا استعمال کیا جاتا ہے۔ انڈونیشیا کے ثقافتی تناظر میں کولک محض ایک غذا نہیں بلکہ یہ رمضان کی روایات کا ایک اہم حصہ بن چکا ہے اور اسے انڈونیشیائی زبان میں تعجیل یعنی افطاری کے پکوانوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ کولک کی تاریخ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اسے انڈونیشیا میں اسلام کی تبلیغ کے ابتدائی دور میں ایک ذریعہ کے طور پر استعمال کیا گیا تھا۔ لفظ کولک کے بارے میں ایک نظریہ یہ ہے کہ یہ عربی لفظ خالق سے نکلا ہے جس کا مقصد لوگوں کو خدا کے قریب لانا تھا۔ اگرچہ یہ بات حتمی طور پر ثابت نہیں ہے لیکن یہ اس پکوان کی مذہبی اور سماجی اہمیت کو ضرور اجاگر کرتی ہے۔
تیاری
[ترمیم]کولک کی تیاری کا طریقہ سادہ ہے جس میں پہلے پانی کو چینی اور پنڈانس کے پتوں کے ساتھ ابالا جاتا ہے اور پھر اس میں پھل اور ناریل کا دودھ شامل کر کے اسے گاڑھا ہونے تک پکایا جاتا ہے۔ انڈونیشیا کے بازاروں میں رمضان کے دوران ہر گلی اور موڑ پر کولک فروخت کرنے والے ٹھیلے نظر آتے ہیں۔ اس کی مقبولیت کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ اس کے اجزاء سستے اور آسانی سے دستیاب ہوتے ہیں۔ کولک کی غذائی اہمیت پر نظر ڈالی جائے تو اس میں موجود ناریل کا دودھ اور چینی کاربوہائیڈریٹ کا ایک بڑا ذریعہ ہیں جو تھکن دور کرنے میں مدد دیتے ہیں۔ انڈونیشیا کے علاوہ جنوب مشرقی ایشیا کے دیگر ممالک میں بھی اس سے ملتے جلتے میٹھے بنائے جاتے ہیں لیکن جو شہرت اور مقام کولک کو انڈونیشیا میں حاصل ہے وہ کہیں اور نظر نہیں آتا۔آج کے دور میں بھی یہ روایتی میٹھا جدید میٹھوں کے مقابلے میں اپنی جگہ برقرار رکھے ہوئے ہے۔ انڈونیشیا کے لوگ اسے افطار کا لازمی جزو سمجھتے ہیں کیونکہ یہ زود ہضم ہوتا ہے اور خالی پیٹ کے لیے موزوں رہتا ہے۔ سال 2026 میں بھی اس کی روایتی ترکیب میں کوئی خاص تبدیلی نہیں آئی اور یہ اب بھی اسی ذائقے کے ساتھ گھروں اور بازاروں میں دستیاب ہے۔
حوالہ جات
[ترمیم]| ویکی ذخائر پر کولک سے متعلق سمعی و بصری مواد ملاحظہ کریں۔ |
- ↑ "Twenties: popular iftar dishes to break the fast". The Jakarta Post (بزبان انگریزی). 13 Apr 2022. Retrieved 2024-03-15.
- ↑ Ni Nyoman Wira (9 Jun 2016). "Kolak recipes for Ramadhan you can easily make at home". The Jakarta Post (بزبان انگریزی). Retrieved 2024-03-15.