مندرجات کا رخ کریں

کونترا لاٹوپولیس (معبد)

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
کانترا لاٹوپولیس میں آئی سس کا مندر

کونترا لاٹوپولیس (جسے ایک زمانے میں الحُلہ بھی کہا جاتا تھا) ایک قدیم مصری معبد ہے۔ [1] [2]

معبد کی تعمیر

[ترمیم]

ملکہ کلیوپیٹرا کے دورِ حکومت میں لاٹوپولیس (موجودہ اسنا) کے مقابل دریائے نیل کے دوسری سمت ایک معبد تعمیر کیا گیا۔ یہ معبد رومیوں نے تعمیر کیا اور اسے کونترا لاٹوپولیس کا نام دیا۔ آج کے زمانے میں اس عمارت کے آثار میں سے صرف چند باقی ہیں، جن میں ایک "بڑا برآمدہ" (رواق) شامل ہے جو دو قطاروں میں چار چار ستونوں پر قائم تھا۔[3]، [4] [5] [6]

معبد کی دیواروں پر ہیروغلیفی تحریریں کندہ ہیں اور ان پر مختلف ادوار کے نام تحریر ہیں۔ ان میں سب سے پرانے نقوش میں کلیوپیٹرا کوکشی (کلیوپیٹرا سوم) اور اس کے بیٹے بطلیموس سوتر کے نام ہیں، جبکہ سب سے نیا نام شہنشاہ کومودوس کا ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مندر کی آرائش و تزئین کلیوپیٹرا سوم سے لے کر سوتر دوم کے زمانے تک جاری رہی۔[7]، [8]، .[9]

مصر کے مشہور ماہرِ آثارِ قدیمہ گاستون ماسپیرو کے مطابق کونترا لاٹوپولیس کے مندر کے ستون بطالسی دور (Ptolemaic period) کے ہیں۔ ان ستونوں کو خاص طور پر ان کے حتحور دیوی سے منسوب طرزِ تعمیر کے باعث نمایاں مثال سمجھا جاتا ہے، کیونکہ ان کے سروں (عواصم) پر حتحور دیوی کی علامتی نقوش کندہ کیے گئے ہیں۔[10]

حوالہ جات

[ترمیم]
  1. ^ "Al Hillah". mapcarta.com. Retrieved 21 September 2011.
  2. 2.^ Contra Latopolis (El-Hella). trismegistos.org. Retrieved 21 September 2011.
  3. 3.^ Abbott, Jacob (1803-1879) History of Cleopatra, Queen of Egypt (1851). Retrieved 21 September 2011
  4. 4.^ Sharpe,Samuel, The History of Egypt: From the Earliest Times till the Conquest by the Arabs A.D. 640, in two volumes (6th ed., 1905). Retrieved 21 September 2011
  5. ^ Rappoport, S. History of Egypt. Retrieved 21 September 2011 Archived 23 May 2012 at the Wayback Machine
  6. 6.^ Thomas Dudley Fosbroke, Encyclopedia of Antiquities, and Elements of Archaeology, Classical and Mediaeval (1843). Retrieved 21 September 2011
  7. 7.^ Ashton, Sally-Ann, The Last Queens of Egypt, (177 pages) Pearson Education, 2003 ISBN 0-582-77210-9.
  8. Rappoport, S. History of Egypt. Retrieved 21 September 2011 Archived 23 May 2012 at the Wayback Machine
  9. 5.^ Jump up to: a b Hölbl, Günther (2001). A History of the Ptolemaic Empire. Routledge, 2001. ISBN 0-415-20145-4. Retrieved 12 December 2011.
  10. 9.^ Maspero, Gaston Camille Charles, Manual Of Egyptian Archaeology And Guide To The Study Of Antiquities In Egypt. (4th ed., 1895)Retrieved 22 September 2011

بیرونی روابط

[ترمیم]
نُشر في كافنديش بيلهام، العالم، أو الحالة الحالية للكون : كونها مجموعة عامة وكاملة من الرحلات والأسفار الحديثة / مختارة ومرتبة ومفهومة من روايات أحدث المسافرين والملاحين وأكثرهم أصالة .