کونسل آف عربک کلچر

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
کونسل آف عربک کلچر کا شعار
کونسل آف عربک کلچر کا شعار

کونسل آف عربک کلچر ایک بین الاقوامی ادارہ ہے جس کی تاسیس سنہ 2014 کو اسلامی جمہوریہء پاکستان میں ہوئی، کونسل کا قیام عربی تہذیب اور لغت کی ترویج کے لیے کیا گیا ہے اور یہ عربی ثقافت کو محفوظ کرنے کے علاوہ، عرب اور غیر عرب مسلمانوں کو ایک دوسرے کے قریب لانے کے لیے کوشاں ہے۔ کونسل کو CACP سے اشارہ کیا جاتا ہے جو کونسل کے انگریزی نام Council of Arabic Culture, Pakistan کا مختصر ہے۔

کونسل کا قیام[ترمیم]

کونسل آف عربک کلچر کی بنیاد 2014 کو اسلامی جمہوریہء پاکستان کے دار الحکومت اسلام آباد میں اس ضرورت کے تحت رکھی گئی کہ گلوبلائزیشن کے چیلینجز سے نمٹنے کے لیے اور معاشرہ میں ترقی، اعتدال پسندی اور میانہ روی کی فروغ میں عربی تہذیب انتہائی اہم ہے۔ کونسل نے قیام کے بعد درج ذیل منصوبوں پر کام کیا:

  • عربی لغت کے قانون کی آئینی ترمیم تیار کرنا اور اس کا مسودہ پاکستانی مجلسِ شوری (پارلیمینٹ) میں جمع کرانا۔
  • ثقافت کی جدید، وسیع اور مختلف خدمات ایک ہی پلیٹ فارم سے پیش کرنا۔
  • ہر دو انتظامی اور پیشہ ورانہ عملہ کو عالمی معیار کے مطابق اور نئے تکنیکی وسائل سے لیس رکھنا۔
  • تخلیقی صلاحیت کے حامل نوجوانوں کو شمولیت کی دعوت دینا۔
  • ایسا عملہ تشکیل دینا جو اپنے فن میں مہارت، اچھی ساکھ اور تجربہ میں منفرد ہو۔

رکنیت اور شراکت داری[ترمیم]

کونسل اپنی سرگرمیوں کے ذریعہ عالمی ثقافتی اداروں کی صف میں پہنچنے کے لیے مصروفِ کا رہے اور اس حوالہ سے مختلف عالمی اداروں کی رکنیت حاصل کر رہی ہے، جیسے کہ:

کونسل کو عربی زبان کی تعلیم اورقرآنی علوم کی تکنیکی تحقیق، عربی کی خود کار پروسیس اور خود کار ترجمہ میں عالمی سطح پر انفارمیشن ٹیکنالوجی سے متعلقہ کئی عالمی کانفرنسز کی رکنیت حاصل ہے جہاں وقتاً فوقتاً مجلس کا آئی ٹی ڈپارٹمنٹ تحقیقاتی ریسرچس پیش کرتا رہتا ہے۔ اِن کانفرنسز میں قابل ذکر یہ ہیں:

تنظیمی معیار وامتیاز[ترمیم]

تنظیمی معیار وامتیاز میں عالمی سطح تک پہنچنے کے لیے کونسل عالمی انتظامی معیار بین الاقوامی تنظیم برائے معیاریت کے حصول کے لیے بین الاقوامی تنظیم برائے معیاریت کے پروسیس سے گزر رہی ہے۔

عربی زبان کی ترویج[ترمیم]

عربی زبان أمت مسلمہ کے لیے شریان کی حیثیت رکھتی ہے، کیونکہ عربینظریات، خیالات اور فِکر کے باہمی ربط کا ذریعہ ہے اور عربی ہی کے ذریعہ مسلمانوں کے درمیان اُلفت، یکسانی اور ہم آہنگی پروان چڑھ سکتی ہے۔ اسی وجہ سے عربی کو ثقافتی قلعہ کا مقام حاصل ہے جو أمت مسلمہ کے نظریاتی وجود کی حفاظت کرتا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ مسلمان ہمیشہ عربی سیکھنے اور سکھانے کا خصوصی اہتمام کرتے آ رہے ہیں اسی لیے عربی صرف عربوں کی زبان نہ رہی بلکہ یہ ایک بین الاقوامی زبان کی حیثیت اختیار کرگئی جس سے کروڑوں مسلمان دینی، نظریاتی اور دِلی طور پر وابستہ ہیں۔عربی زبان کی بین الاقوامی تنظیموں کے اعداد وشمار کے مطابق غیر مسلموں میں بھی اسلامی اور عربی تاریخ سمجھنے کے لیے عربی زبان سیکھنے کا رجحان دِن بدن بڑھتا جا رہا ہے۔

غیرِ عرب لوگوں کو عربی سکھانا انتہائی زر خیز میدان ہے۔ اگر چہ اِس موضوع پر بہتیرے اِداروں نے کافی اچھا کام کیا ہے اور بہترین نتائج بھی پیش کیے ہیں لیکن اگر زبان کی طلب کا موازنہ اِس پر ہونے والے کام سے کیا جائے تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ کامطلب کے مقابلہ میں انتہائی کم ہے۔ کونسل کی کوشش ہے کوشش ہے کہ عالم اسلام کی ایک بڑی مملکت میں عربی کی ترویج کے لیے فعّال کردار ادا کرسکے۔ اِس سلسلہ میں جدّ وجہد درج ذیل بنیادوں پر جاری ہے:

حوالہ جات[ترمیم]

  1. Federation of Arab News Agencies FANA
  2. Qatar News Agency، خبر نمبر: 148، تاريخ: 09/12/2014، وقت: 12:10 صبح
  3. The News International
  4. The Nation
  5. Scribd - Profile of Council of Arabic Culture Pakistan-CACP
  6. Pakistan Educational Events
  7. Southeast Asia Post
  8. Daily Islam News
  9. Daily Ummat News
  10. Council of Arabic Culture Pakistan - CACP

پاکستان اسلامی تنظیمیں عرب تنظیمیں عرب ثقافتی ادارے