کوٹلی رائے ابو بکر

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
کوٹلی رائے ابو بکر
قصبہ
ملک Flag of Pakistan.svg پاکستان
صوبہ پنجاب
ضلع قصور
تحصیل قصور
منطقۂ وقت پاکستان کا معیاری وقت (UTC+5)

کوٹلی رائے ابو بکر

پاکستان کاایک قصبہ ہے جو صوبہ پنجاب کے ضلع قصور میں واقع ہے اس کا شمارآبادی اور رقبے کے اعتبار سے ضلع قصور کے بڑے اور مشہور و معروف قصبات میں ہوتا ہے۔ کوٹلی رائے ابو بکر محل وقوع کے اعتبار سے قصور شہر سے 22 کلو میٹر کے فاصلہ پر مغرب میں اور کوٹ رادھا کشن کے مشرق میں واقع ہے۔ اس کے شمال میں رائے ونڈ اورجنوب میں کھڈیاں خاص ہے۔

پنجاب کا ایک قدیم دریائے بیاس اب موجود نہیں ہے لیکن اس کی پرانی گزر گاہ کے آثار مشرق سے مغرب کی طرف ضلع قصور کے وسط میں اب بھی موجود ہیں جس نے قدرتی طور پر اس علاقے کو دو حصوں میں تقسیم کر رکھا ہے، اس گزر گاہ کا شمالی علاقہ جنوبی علاقے کی نسبت اونچا ہے جس کی اوسط اونچائی تقریباً ساڑھے پانچ میٹر ہے، شمالی علاقہ اونچا ہونے کی وجہ سے ماجھا اور جنوبی علاقہ ہٹھاڑ کہلاتا ہے، ماجھا کے علاقے میں دریائے بیاس کے ساتھ ساتھ مٹی کے بہت بڑے بڑے ٹیلوں کا ایک وسیع سلسلہ بھی موجود ہے، کوٹلی رائے ابو بکرقصور قدیم شہرکی طرح ماجھا کے جنوب مغربی سرے پر آباد ہے ۔

اس قصبہ میں اہل سنت کے تینوں مسالک اہل حدیث، دیوبندی اور بریلوی کے لوگ رہتے ہیں ،آبادی اورمساجد کے اعتبار سے اہل حدیث مسلک کی اکثریت ہے، جب کہ باقی مسالک کی ایک ایک مسجدہے۔ حفاظ ،قراء اور علماء کرام کثیر تعداد میں ہیں جو ملک بھر میں خدمات سر انجام دے رہے ہیں۔ یہاں تمام لوگوں کا تعلق راجپوت برادری سے ہے۔مادری زبان پنجابی ہے، اس کے ساتھ ایک کوٹ ہے جہاں ملک کھوکھر برادری رہتی ہے، دال پورہ کے نام سے دوسرا کوٹ ہے جو مہاجر برادری پر مشتمل ہے،اس کے علاوہ لوہار، ترکھان، کمہار، موچی اور جولاہے وغیر ہ بھی آباد ہیں۔

اس قصبہ میں لڑکوں کے لیے گورئمنٹ ہائی اسکول، لڑکیوں کے لیے گورنمنٹ مڈل اسکول قائم ہے ،نجی اسکول بھی کام کر رہے ہیں، اس کے علاوہ ہسپتال ،سول ویٹرنری ڈسپنسری،یونین کونسل بھی موجود ہے۔ یہاں کے اکثر لوگوں کاپیشہ زراعت ہے بڑی بڑی فصلوں میں گندم، باجرہ، کپاس، مکئی اورچارہ وغیرہ شامل ہیں، سبزیاں بھی کاشت ہوتی ہیں یہاں کا زیادہ تر سیراب اراضی کا نظام نہری پانی پر مشتمل ہے جبکہ آبپاشی کے لیے ٹیوب ویل بھی ایک ذریعہ ہیں اور ایک کثیر تعداد سرکاری و غیر سرکاری ملازمت سے بھی منسلک ہے۔

حوالہ جات[ترمیم]