کوٹ مٹھن

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
کوٹ مٹھن شریف
کوٹ مٹھن
ملک Flag of Pakistan.svg پاکستان
صوبہ پنجاب
ضلع راجن پور
قدیم شہر کی بنیاد 1713ء
نئے شہر کی بنیاد 1862ء
حکومت
 • ممبر صوبائی اسمبلی سردار عاطف حسین خان مزاری
 • اعلٰی ضلعی افسر ظہور حسین گجر
 • متوقع چیئر مین حمزه فرید ملک
آبادی
 • کل 120,504
لسانیت
 • اکثریتی زبان سرائیکی
منطقۂ وقت پاکستان کا معیاری وقت (UTC+5)
رمز ڈاک 33600
رموز رقبہ 0604
شرح خواندگی 40%
ویب سائٹ http://kotmithan.info

کوٹ مٹھن شریف (دیگرنام:مٹھن کوٹ،شہر فرید،کوٹ, فرید دا کوٹ)ضلع راجن پور کے جنوب میں 17کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔

دربار حضرت خواجه غلام فریدرح.jpg

پنجاب (پاکستان) میں شامل کوٹ مٹھن خاص کر پیر غلام فرید کی جائے مدفن کی وجہ سے مشہور ہے۔ یہ سرائیکی زبان کے نامور صوفی شاعر تھے۔ ان کو ہفت زبان شاعر بھی کہا جاتا ہے کیونکہ انہوں نے سرائیکی کے علاوہ اردو، پنجابی، فارسی، سنسکرت اور انگریزی میں بھی نظمیں کہیں ہیں۔ یوں کل ملا کر سات زبانیں بنتی ہیں۔یہ شہرماضی قریب میں ایک شاندار تجارتی بندرگاه رہا ہے. یہ شہر دریائے سندھ کے مغربی کنارے پر آباد ہے. جبکہ اس کے عین سامنے دریا سندھ کے مشرقی کنارے پر چاچڑاں شریف واقع ہے ــ

تاریخ[ترمیم]

نہڑ لودھی کے دورِحکومت میں کوٹ مٹھن 1713ء میں معروض وجود آیا۔نہڑ لودھی کی سلطنت کا بانی گورنر ملتان بہلول لودھی کا چچا اسلام خان تھا. مٹھن خان نامی شخص نے اپنے پیرو مرشد حضرت خواجہ شریف محمدؒ کی ہدایت پر کوٹ مٹھن آباد کیا۔مٹھن کوٹ کا صدر مقام سیت پور تھا. مٹھن خان کا تعلق جتوئی قوم سے تھا مٹھن خان مٹھن والی یا یارے والی سیت پور(مظفر گڑھ) کا رہنےوالا تھا۔مٹھن خان کے والدکا نام کالن خان تھا۔کوٹ مقامی زبان میں چار دیواری پر مشتمل احاطے کو کہتے ہیں۔ یہ علاقہ مٹھن خان کی علمداری میں تھا یا اس نے پٹہ(لیز) پر حاصل کیا تھا۔اس لیے اسے " کوٹ مٹھن خان" کہا جاتا تھا۔ وقت کے ساتھ ساتھ یہ نام کوٹ مٹھن بن گیا۔ 18ویں صدی کے دوسرے عشرے میں سقوطملتان کے ساتھ ساتھ یہ شہر بھی سکھوں کے قبضے میں آ گیا۔ تاہم 1849ء میں انگریزوں نے سکھ راج کا خاتمہ کر کے اس خطے پر قبضہ کر لیا۔ 1862ء میں دریائے سندھ میں طغیانی کے باعث کوٹ مٹھن شہر دریا بردہو گیا۔ اور اس کے آثار تک مٹ گئے۔ کوٹ مٹھن قدیم موجوده شہر سے دو یا تین کلو میٹر جنوب مشرق کی طرف آباد تھا۔

کوٹ مٹھن جدید[ترمیم]

1849ء میں کوٹ مٹھن انگریزوں کی مکمل عملداری میں آ گیا۔ انگریزوں نے اپنی حکومت کو مستحکم کرنے کے لیے خطہ میں انتظامی اصلاحات نافذ کیں۔ یوں کوٹ مٹھن کو تحصیل کا درجہ ملا۔ کوٹ مٹھن کا ضلعی ہیڈ کواٹرگرمیوںفورٹ منرو جبکہ سردیوں میں ڈیره غازی خان تھا۔ کوٹ مٹھن کو تحصیل کا درجہ 1862 ء تک حاصل رہا۔ 1862ء میں دریا سندھ میں سیلاب کے باعث یہ شہر دریا برد ہو گیا۔ سیلاب کی وجہ سے تحصیل ہیڈ کواٹر راجن پور منتقل کر دیا گیا۔ جب سیلاب کا پانی اترا تو اس وقت کے اسسٹنٹ کمشنر (اے سی) لین بروس نے موجوده جگہ پر باقاعده منصوبه بندی سے کوٹ مٹھن جدید کی بنیاد رکھی۔ موجوده شہر ایک ٹیلہ پر آباد کیا گیا جس کے اطراف میں سڑک تعمیر کی گئی جسے "کنگن سڑک "سرکل روڈ کہتے ہیں۔[1]

محل وقوع[ترمیم]

کوٹ مٹھن کے مشرق میں دریائے سندھ مشرق شمال میں ونگقصبہ،شمال میں میں کوٹلہ نصیر، شمال مغرب میں ریلوے اسٹیشن مغرب میں بنگلہ دھینگن مغرب جنوب میں بستی پھلی،جنوب میں دریائے سندھ ہے.

کوٹ مٹھن یا مٹھن کوٹ[ترمیم]

کوٹ مٹھن اور مٹھن کوٹ ایک ہی شہر کے دو نام ہیں اور دونوں رائج الوقت ہیں.نام کی مماثلت و مشابہت کی وجہ سےاکثر موضوع بحث بن جاتے ہیں.تاریخ کے تناظر میں دیکھا جائے تو اس شہر کا ابتدائی نام کوٹ مٹھن خان تھا جب کوئی اجنبی یا قافلہ اس شہر نو کی بابت دریافت کرتا تو اسے بتایا جاتا کہ کوٹ مٹھن خان ہے. کوٹ مٹھن دریا سندھ کی قربت کی وجہ سے تجارت کے لیے دریائی بندر گاه کے لیے موضوع بن گیا جسے سرائیکی میں پتن کہتے ہیں ابتدائی ایک سو پینتیس برس تک اس شہر کا نام کوٹ مٹھن رائج تھا. 1849ء اس شہر کی بھاگ دوڑ انگریزوں نے سنبھالی. انگریزوں نے اس شہر کے نام کو انگریزی میں mithan kot لکھا. جب انگریز کے ماتحت علاقوں میں انتظامی اصلاحات ہوئیں تو کوٹ مٹھن کو تحصیل کا درجہ ملا اور اس کا ضلعی ہیڈ کواٹر ڈیره غازی خان تھا. انگریز سرکار نے سرکاری دستاویزات، مہروں اور سپا ہیوں کی پٹیوں پر تحصیل مٹھن کوٹ درج کیا.1869ء میں سیکٹری پنجاب نے اپنے حکم نامه پنجاب بھر کی تاریخ مرتب کرنے کا حکم دیا تو ڈیره غازی خان کی تاریخ اس وقت کے اسسٹنٹ کمشنر مسٹر بروس لین مرتب کی. اپنی تحقیق میں مسٹر بروس لین نے اس شہر کا نام Mithan kot لکھا. بعد ازاں ہتھو رام نے اس کا ترجمہ کیاتواس نے اس شہر کا نام کوٹ مٹھن لکھا.1871ء میں محکمه مال کی مثل حقیقت کا اردومیں ترجمہ ہوا اس میں اس شہر کا نام کوٹ مٹھن درج ہے۔ 1883ء لالہ حکم چند نے تواریخ ڈیرہ غازی خان کے نام سے ایک ضغیم کتاب تصنیف کی.اپنی کتاب میں لالہ حکم چند نے جہاں جہاں انگریزی میں اس شہر کا نام مٹھن کوٹ لکھا اور اس شہر کا نام اردو میں کوٹ مٹھن لکھا. تاریخی حوالوں سے ثابت ہوتاہے اس شہر کے دونوں نام انیسویں صدی کے ابتدامیں زدو عام ہو گئے تھے اور ابتک دونوں نام درست تسلیم کیے جاتے ہیں تاہم تاریخ دان کوٹ مٹھن کےنام کو ترجیح دیتے ییں.

حضرت خواجہ غلام فرید ؒ[ترمیم]

ولادت[ترمیم]

حضرت خواجہ غلام فرید کی ولادت ریاست بہاولپور کے قصبہ چاچڑاں شریف میں 26ذیعقده 1261ھ بمابق 1845ء میں بروز منگل ہوئی.آپ والدین الطرفین قریشی ہیں۔آپ اپنی کتب منقب محبوبیہ میں رقم طراز ہیں کہ آپؒ قرشی اور حضرت ابوبکر کی اولاد میں ہیں۔آپ کے شجرہ نسب کے بارے میں اکثر ماہرہ فریدیت آپ کو فاروقی سمجھتے ہیں۔ تاہم سند سے تصدیق نہیں ہوئی۔ آپ کی والده نے حضرت بابا فرید گنج شکرؒسے بے حد عقیدت رکھتی تھیں آپ کی والده نے بابا فریدؒ سے خراج عقیدت کے لیے آپ کا غلام فریدؒ رکھا. آپ کے والد ماجد کا نام حضرت مولانا خدا بخش المعروف محبوب الہیٰ تھا.آپ کا تاریخی نام خورشید عالم ہے.آپ کے اس نام کے 1261عدد بنتے ہیں 1261ھ آپ کی ولادت کا سال ہے.خورشید عالم کے معنی ہیں ساری دنیا کا سورج.جب آپ کی عمر پانچ برس هوئی تو آپ کی والده ماجده دار فانی سے کوچ کر گئیں.آپ نے سات کی عمر میں قرآن حفظ کر لیا تھا.

دیگر نام[ترمیم]

آپؒ کئی ناموں سے مشہور و معروف ہیں ۔آپ خواجہ غلام فریدؒ،خورشید عالم،پیر فرید، فریدؔ، خواجہ صاحب،گھوٹ فرید،روحی دا گھوٹ،پیر فقیر( کافی میں) عوام الناس میں زدوعام ہیں

تعلیم و تربیت[ترمیم]

جب آپ کی عمر آٹھ سال کی ہوئی تو آپ کے والد ماجد ملک عدم چلے گئے. والد ماجد کی وفات کے بعد آپ اپنے بڑے بھائی اور پیرو مرشد خواجہ فخر جہاں حضرت فخر جہاںؒ کی کفالت میں آ گئے. انہوں نے آپ کی پروش اور تربیت کی.آپ نے سلوک کی ابتدائی منزلیں انہی کے زیرسایہ طے کیں.آپ نے ان سے اہری علوم اور باطنی علوم سیکھے.آپ نے قرآن کریم کی تعلیم میاں محمد بخش سے حاصل کی. فارسی آپ نے میاں حافظ خواجہ جی اور میاں احمد یار خواجہ سے پڑھی. آپ کی شخصیت پر آپ کے بڑے بھائی اور پیرومرشد فخر جہاں کی تربیت کا گہرا اثر تھا.

شجرونسب[ترمیم]

آپ کا شجرونسب حضرت عمر فاروق ؓ سے ملتا ہے. اس لیے آپ کو فاروقی اور قریش بھی کہا جاتا ہے.

آباؤاجداد[ترمیم]

یحییٰ بن مالکؒ خواجہ صاحب کے جد بزرگوار تھے۔وہ محمد بن قاسم کے لشکر کےہمراہ برصغیر تشریف لائے۔یحیی بن مالکؒ ،ناصر بن عبدالله بن عمر ؓکے پوتے تھے۔ ٹھٹھہ شہر میں سکونت اختیار کی۔جلدہی اپنے اخلاص سے لوگوں کو گرویده کر لیا۔نہ صرف عوام میں وه منفردپہنچان رکھتےتھے بلکہ حکومت وقت پر بھی ان کا کافی اثرورسوخ تھا۔ یحیی بن مالکؒ کی آمده نسلوں نے اس میں اضافہ کیا. عیسیٰ ابن یوسف وه پہلے فردتھےجنہوں نے سیاست ترک کر کے فکروعرفان کی زندگی اپنائی۔ رشدہدایت کےاس چشمےسےبے شمار لوگ سیرہوئے۔ عیسی ابن یوسفؒ یحیٰ بن مالکؒ کی ساتویں پشت پر تھے.پھر اس خاندان نے نہ صرف صوفیان برصغیر میں نام پیدا کیا بلکہ فکرو عرفان اوررشدو ہدایت کے ایسے چراغ جلائے جن کی روشنی سے دنیا منورہوئی.

کوٹ مٹھن آمد[ترمیم]

آپ کے جد بزرگ ملک بن یحیٰؒ عرب سے ٹھٹھہ سکونت کی. بعد ازاں مظفر گڑھ تشریف لائے. پھر چاچڑاں شریف میں رہائش پزیر ہوئے. تاہم آخری آرام گاه کے طور پر کوٹ مٹھن کو منتخب کیا.

نظریہ تصوف[ترمیم]

آپ سلسلہ چشتیہ مسلک کے پیروکار تھے. آپ کا نظریہ تصوف"ہمہ اوست" تھا. یعنی آپ توحیدِ وجودی کے قائل تھے اور آپ کا تمام کلام ہمہ اوست کا مظہر ہے.آپ وحدت الوجود(وہی سب کچھ ہے) اور وحدت الشہود کے فلسفے پر اتنا کاربند رہے کہ عوام الناس میں "سلطان العاشقین" مشہور ہو گئے سلطان العاشقین کا مطلب ہے۔ عاشقوں کے سلطان.عشق حقیقی کا مقام جو آپ کو عطا ہوا وه بہت کم لوگوں کو نصیب ہواہے۔

گوشہ نشینی[ترمیم]

1882ءمیں جب آپؒ کے بھائی اورپیرو مرشد حضرت خواجہ فخر جہاں کا وصال ہوا توآپ کوگہراصدمہ ہوا. حضرت.خواجہ فخر جہاں کی رحلت کے بعد آپ مسند خلافت پر جلوه افروز ہوئے. جلد ہی آپ گوشہ نشین ہو گئے. اور روحی میں اللّٰه سےلو لگا لی .گوشہ نشینی کے باوجود رشد و ہدایت کا سلسله ترک نہ کیا. آپ عبادت، ریاضت اور مجاہدات ہمہ وقت مشغول و مصروف رہے. آپؒ نے روحی کے لق و دق اور ویران صحرا میں تپسیاکی آگ سے کندن بن گئے.یہ وه زمانہ تھا جب آپ اپنی شاعری کے ذریعے وجود واحدانیت کے اسرار و حقائق اور تجلی سے دنیا کو روشناس کروایا.آپ 18 برس روہی(چولستان) کو رونق افروز بخشتے رہے ان کے کلام میں وصل کے لیے بیقراری، عشق کی درماندگی، ہجر کا سوز، انتظار کا کرب، محبوب کی نظر التفات کی آرزو، انسانی و ثقافتی حوالوں, محبوب کے لیے اپنے شدت جذبات کا اظہار، قدرت کی کاریگری، اپنی ذات کی نفی، راه عشق حقیقی میں خود کو فنا کرنے کے تذکرے جگہ جگہ ملتے ہیں.

بیعت و خلافت[ترمیم]

جب خواجہ صاحبؒ کی عمر 12 سال ہوئی تووہ اپنے بھائی حضرت خواجہ فخر جہاںؒ کے دست مبارک پر بیعت ہوئے۔آن کی آن میں اسرارو اہرار کے علوم عیاں ہو گئے اور آپ نے صدیوں کا سفر سماعتوں میں طے کر لیا۔سلوک کی منزلیں طے ہونے لگیں اور معرفت کا سفر مختصر اور آسان ہو گیا۔آپؒ خواجہ فخر جہاںؒکے جان نشین بن گئے۔4 فروری 1872ء میں آپؒ کے بڑے بھائی اور پیرومرشد حضرت خواجہ فخر جہاںؒسائیںؒ خالق حقیقی سے جا ملے۔ان کی رحلت کے بعد آپ خلافت کی مسند پر جلوہ افروز ہوئے اور رشدوہدایت کا سلسلہ آگے بڑھایا۔نواب صادق محمد خان رابع عباسی چاچڑاں پہنچ کر آپ کی دستار بندی کی۔عوام الناس بھی جوق در جوق آپ کی بیعت اور حلقہ ارادت میں داخل ہونے کے لیے جمع ہو گئے۔علامہ رشید اس واقعہ کو قلم بند کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں بندگان خدا حلقہ ارادت میں داخل ہو کر آپ کے دست مبارک پر بیعت ہوئے

شادی خانہ آبادی[ترمیم]

جب خواجہ غلام فریدؒ کی عمر 26سال ہوئی تو آپ کی شادی راجن پور کے ماڑھا خاندان میں ہوئی۔آپ کی پہلی بیگم کا نام متحرمہ حضرت بی بی زہرہؒ تھا۔ پہلی متحرمہ ذوجہ کے بطن سے ایک بیٹا اور بیٹی تھی۔متحرمہ بی بی زہره ؒکے وصال کے بعد آپ کی دوسری شادی ملتان کے بھیڑی پوتراں میں ہوئی۔آپ کی دوسری بیگم کا نام متحرمہ بی بی ہوتاںؒ تھا۔متحرمہ بی بی ہوتاںؒ سے کوئی اولاد نہ تھی۔حضرت خواجہ غلام فریدؒ کی تیسری شادی چولستان میں ہوئی۔

کلام فرید[ترمیم]

حضرتخواجہ غلام فریدؒ نے اپنے زودِقلم سےسرائیکیزبان کو بامِ عروج تک پہنچ دیا.آپ ہفت زبان شاعر تھے. آپ کو سرائیکی کے علاوه اردو، پنجابی، فارسی، ہندی، عربی اور پوربی زبان پر مکمل عبور تھا.آپ وقتاً فوقتاً ان زبانوں میں سخن فرماتے تھے.آپ نے سرائیکی میں اپنی شاعری میں کی مشہور صنف"کافی" سے استفادہ کیا جو صرف عربی کے ادب میں ملتی ہے.کافی کے مجموعے کو دیوان فرید کہتے ہیں.آپ نے کل 271کافیاں تخلیق کیں ماہر فریدیات نےان کافیوں کی سند تسلیم کی ہیں بعض افراد کے مطابق آپ نے سرائیکی کی دیگر صنف دوہرے بھی لکھے لیکن ماہر فریدیات انہیں خواجہ صاحب ؒ کا کلام ماننے سے انکاری ہیں اور اسے خود کا اضافہ کہتے ہیں.آپ نے جس بلند پاۓ کی شاعری تخلیق کی آج تک کوئی دوسرا سرائیکی شاعر اس معیار کو نہیں پہنچ سکا. سرائیکی شعرہ کی اکثریت آپ کو اپنا روحانی استاد تسلیم کرتے ہیں. آپ کی شاعری کو دنیائے ادب کا عظیم ترین سرمایہ قرار دیا جاتا ہے۔ان کا کلام ہر ذی شعور کو دیوانہ اور دیوانہ کو فرزانہ بنا دیتا ہے۔آپ کے کلام میں لطیف احساس و جذبات میں وجدانی کیفیت کو اس طرح ملا دیا جائے کہ سیر و شکر ہو جائیں ان کی شاعری کا ادنٰی کمال ہے۔آپ کا کلام عرب و عجم، خواندہ اور نا خواندہ،خاص و عام، ہررنگ و نسل، چھوٹے بڑوں اور متفرق خطہ ارض ، ہروقت اور ہر موسم میں ، زبان سے آشنا اور غیر آشنا میں یکساں مقبول و معروف ہے۔آپ نے اپنی شاعری میں جو الفاظ استعمال کیے وہ سچے جذبوں کے عکاس ہیں ۔ آپ کے کلام میں عشق کے جذبوں کا انداز اظہار سننے والوں کے دل پر اثر کرتا ہے۔آپ اپنے کلام میں امیر خسرو جیسا راگ رس، قآنی جیسا زودِ بیاں رکھتے ہیں رومی جیسی تڑپ کوٹ کوٹ کر روحِ شاعری میں بھری ہے۔ سعدی جیسا مشاہدا،اسلوب اور انداز اشعار سے ٹپکتا ہے۔ آپ کے کلام میں سرمد جیسا اندازِ سخن ہے۔

علم موسیقیت[ترمیم]

آپ نے کافیوں کے ساتھ ساتھ ان گائیگی کے لیے راگ اور راگنیاں بھی دیوان فرید میں درج کیے ہیں۔معلوم ہوتا ہے کہ آپ علم موسیقیت میں یکتا اور نابغہ روزگار تھے۔آپ کے کلام میں 39 اقسام راگ و راگنیوں کا تذکرہ ملتا ہے۔آپ کے علم موسیقیت اور فن شاعری کے بارے میں جناب نشتر گوری لکھتے ہیں اگر خواجہ صاحب کے کلام پر غور کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ آۤپ نے سنگیت کی تمام رمزوں اور لے تال کی تمام خوبیوں سے استفادہ کیا ہے۔ اکثر کافیوں میں لفظوں کی تکرار سے ایسی ہم صوتی اور ہم آہنگی پیدا ہوتی ہے ہوا اور پانی کی لہریں اپنے نغمے بھول جائیں۔ شعر و شاعر کے اس فن کو "Alliteration" کہتے ہیں۔اور آپ نے یہ کمال شاعری کی سب سے مشکل صنف کافی میں حاصل کیا ہے۔ اس سے آپ کی شاعرانہ ہنر کی وسعتوں کا اندازہ کیا جا سکتا ہے۔

دیگر تصانیف[ترمیم]

آپ نے دیوان فرید کے علاوه دیگر کئی کتب بھی تصانیف کی ہیں کتب کے نام یہ ییں. ارشادات فریدی، فوائد فریدیہ، مناقب محبوبیہ اور دیوان فرید(اردو)

وصال[ترمیم]

زندگی کے آخری ایام میں آپ کو ذیابطیس کا مرض لاحق ہوا.وقت کے ساتھ ساتھ مرض بڑھتا گیا.آپ کا وصال 6ربیع الثانی بمطابق24جولائی1901ء کو چاچڑاں میں ہوا آپ نے 56 سال اس دار فانی میں بسر کیے۔ آپ کا ایک بیٹا حضرت خواجہ محمد بخش عرف نازک کریم اور ایک بیٹی تھی۔ آپ کا روضہ مبارک کوٹ مٹھن میں مرجع خلائق ہے ۔آپ کا عرس مبارک ہر سال 5-6-7 ربیع الثانی کو منعقد ہوتا ہے۔آپ کے عرس میں طول وارض اور قرب و جوار سے لاکھوں عاشقانِ فرید شرکت کر کے فیض حاصل کرتے ہیں۔

مذہبی خدمات[ترمیم]

آپ نہ صرف خود شریعتِ مطہرہ کے پابند تھے بلکہ اپنے عقیدت مندوں کو عمل پیرا ہونے کی تلقین کرتے تھے۔ آپ کی ادبی خدمات کی طرح مذہبی خدمات بے بدل ہیں. آپ نے سادہ زندگی گزاری اور خدمت خلق میں مصروف عمل رہے۔آپ نے اپنے اخلاق و کردار سے ہر فرد کو اپنا دیوانہ بنا دیا۔ آپ مساکین اور غریبوں کی مدد کرنے میں کبھی سستی نہیں۔ آپ نےچاچڑاںمیں مدرسه جامعہ فریدہ قائم کیا. اس مدرسہ سے بے شمار طلباءنےظاہری اور باطنی علوم سے اکتساب حاصل کیا. آپ نے بہت سے غیر مسلموں کو مشرف با اسلام کیا.

آستان عالیہ[ترمیم]

جہاں آپ کا جسد خاکی آسوده خاک ہے اس عمارت کو آستان عالیہ, آستان فرید، خنگاه، دربار فرید کہتے ہیں اب آستانہء عالیہ کو شہر کا مرکز تسلیم کر لیا گیا ہے.اس پہلے گول منڈی کو مرکز مانا جاتا تھا. کوٹ مٹھن سے دیگر شہروں کا فاصلہ گول منڈی سے ناپا جاتا تھا.اب دربار فرید کے داخلی دروازے سے دیگرشہروں کے فاصلے کو ناپا جاتا ہے.

معروف شخصیت[ترمیم]

کوٹ مٹھن میں کئی نابغہ روزگار ہستیاں وجود میں آئیں جنہوں نے اپنے کارناموں،تخلیقا ت اورہنر سے کوٹ مٹھن کانام نہ صرف اندرون ملک بلکہ بیرونی ممالک میں روشن کیااورکوٹ مٹھن کی پہنچان بنے۔ان روشن ضمیر قلم کاروں کےبارے میں مختصراً تعارف، کارناموں کے بارے میں عاجزانہ تحریر پیش خدمت ہے۔

ڈاکٹر شکیل احمد پتافی[ترمیم]

ڈاکٹر شکیل احمد پتافی معروف شاعر، محقق، تاریخ دان،تحقیق دان بہترین لکھاری اور اعلٰی منتظم ہیں.ڈاکٹر صاحب نے 9دسمبر1963ء میں وراڈنمبر 8 کوٹ مٹھن میں آنکھ کھولی۔آپ نے کئی کتابیں تصانیف کی ہیں جن میں ایک کتاب "پاکستان میں غالب شناسی" 2014ء کو اردو ادب کا سب سے بڑا اعزاز "بابائے اردو مولوی عبدالحق"ایوارڈ ملا۔ اخبارات , رسائل و جرائد میں آپ کے مضامین، تحقیقی کاوشیں و تجزیےوقتاًفوقتاً چھپتے رہتےہیں۔ ڈاکٹر صاحب اس وقت گورنمنٹ ڈگری کالج راجن پور میں پرنسپل کے فرائض سر انجام دے رہے ہیں۔ ڈاکٹر صاحب اپنے آپ میں علم کی یونیورسٹی ہیں۔

کمال فرید ملک[ترمیم]

تاریخ پیدائش. ندارد. جائے پیدائش. کوٹ مٹھن نام کمال فرید ملک دیگر نام: کمال،ملک صاحب،کمال صاحب

حالات زندگی[ترمیم]

دنیا میں چند ایسی ہستیاں ضرور موجود رہتی ہیں جن کی وجہ طاقت کاپلڑا برابر رہتا ہےکوٹ مٹھن میں مزاحمتی سیاست متعارف کروانے کاسہرا کمال فرید ملک کے سر ہے۔آپ کی سیاسی تربیت آپ کے والدصابر فرید ملک نے کی۔جو خودبھی ایک منجھے ہوئے سیاست دان ہیں غلام صابر ملک مدت ملازمت کے اختتام کے بعد کوٹ مٹھن میں رچ بس گئے ۔کوئی سیاسی پشت پنہائی نہ ہونے کے باوجود ذاتی محنت سے چیئرمین بننے کا اعزازحاصل کیا۔یہ کوٹ مٹھن کی سیاست میں ایک نیا رحجان تھااور اس رحجان کو کمال فرید ملک نے پختہ کیا۔ کوٹ مٹھن چاروں اطراف سے سرداروں سے گھرا ہوا ہے اس سےان کی طاقت اوراثرورسوخ کا اندازہ لگایا جا سکتا ہےکمال فرید ملک نے انہیں طاقتوں کو للکارا۔ کمال فرید ملک نے بیسویں صدی کے آخری عشرے کے ابتدا میں سیاسی سفرشروع کی1995ء کا سال ان کے سیاسی سفر میں سنگ میل ثابت ہوا۔پاکستان پپلز پارٹی دور حکومت میں ان کی براہ راست رسائی ایوان صدر تک ہوگئی۔اس وقت کے صدرمملکت فاروق احمد لغاری جب بھی کوٹ مٹھن آتے تو قصر فرید میں بیٹھک کرتے اور ملاقات میں کوریجگان کےساتھ کمال فرید ملک بھی شرکت کرتے۔اس دور میں کثیر تعداد میں اہل فرید کو سرکاری ملازمتیں ملیں۔سٹیڈیم تعمیر ہوا نکاسی آب کانظام درست ہوا۔نشتر گھاٹ پل پختہ تعمیر اور بیراج کی منظوری ملی۔اس منصوبہ کی ابتدائی رقم مبلغ چوالیس کروڑ فنڈز جاری بھی ہو گئے تھےلیکن حکومت کی تبدیلی کے ساتھ یہ منصوبہ ختم ہو گیا۔کمال فرید ملک مرحوم کو دوسری مرتبہ 2000ء میں خدمت کاموقع ملا۔وہ ملت پارٹی کے پلیٹ فارم سے سٹی ناظم منتخب ہو گئے۔ان کے سابق صدرفاروق لغاری کے ساتھ درینہ تعلقات تھے فاروق لغاری ملت پارٹی کے سربراہ تھے سابق صدر پرویز مشرف کےساتھ فاروق لغاری کے قریبی تعلقات تھے۔ نظام نظامت انہیں کے دور میں متعارف ہوا تھا۔نظام نظامت دانیال عزیز کی اختراع تھی۔فاروق لغاری ضلع راجن پور میں اثرو رسوخ بڑھانا چاہ رہے تھے اس لیے انہوں نے ذاتی دوستوں کو آگے لانے کافیصلہ کیا۔ کمال فرید ملک کو تحصیل راجن پور میں انہیں سب سےزیادہ اہمیت ملی۔ان کے تجویز کردہ منصوبوں پر ضلعی ناظم کی کارووائی محض رسمی ہوتی تھی۔اس دور نظامت میں کوٹ مٹھن میں سب سے زیادہ ترقیاتی کام ہوئے۔پختہ گلیوں تعمیر،اندرون شہرکارپٹ گلیوں کی تعمیر،گورنمنٹ رورل ہیلتھ سنٹر میں شعبہ حادثات و ایمرجنسی کا قیام،آفتاب سٹیڈیم کی زیب و آرائش،خواجہ فرید پارک کی تعمیر ، گولائی مارکیٹ کی تعمیر و نو ،فلڈلائیٹ کی سہولت،نکاسی آب کا جدید نظام،کھیلوں کی سر گرمیوں کاآغاز، صحافت کے دفتر کاانتظام جو لاری اڈا پر میاں کرنل طفیل خواجہ کےچوبارے پر تھا۔پی ٹی سی ایل کی مقامی ایکسچینج کی اپ گریشن اور بجلی کے کھمبوں پر نصب آیات کریمہ،حدیث مبارک اور اقوال زریں کے بورڈاور دیگر کئی منصوبے پایہ تکمیل کو پہنچے ان کا ابتدائی خاکہ پہلےبنا لی گیاتھا۔جب ملت پارٹی ق لیگ میں ضم ہو گئی قومی سطع پر چٹھہ کی جگہ چوہدریوں نے تو ق لیگ میں اختلافات ہو گئے بعض جگہوں پردڑاڑ پڑگئی جن میں راجن پوربھی شامل ہے 2002 کے عام انتخابات میں ضلعی ناظم نصراللہ خان دریشک اور سٹی ناظم نے ریاض خان مزاری کی حمایت کی۔نصراللہ خان دریشک نے تاریخی کامیابی حاصل کی اور ضلع بھر میں اپنی گرفت مضبوط کر لی تاہم کوٹ مٹھن پر نصراللہ خان دریشک کو کوٹ مٹھن پر کامیابی نہ ملی۔2006کے بلدیاتی الیکشن میں نصراللہ خان دریشک کا گروپ کمال فرید کونہ ہرا۔ کمال فریدملک اپوزیشن کرتے رہےتا نکہ 2008 کے الیکشن میں پاکستان پپلز پارٹی نے الیکشن جیت نہ لیا۔کمال فریدملک ایک پھر عروج پا لیا۔اس بار ان کی طرز سیاست مختلف تھی۔ کمال فرید ملک نے1995 سے میر بلخ شیرمزاری سے الحاق کیا تھا ہرگرم سرد موسم میں مشکلات کےباجوداس الحاق کومرتےدم تک قائم رکھا۔

اہم کارنامہ[ترمیم]

کمال فریدملک کااہم 2010ء کے سیلاب سے کوٹ مٹھن شہر کوبچانے کی تدبیر کے ساتھ ساتھ عملی طور جدوجہد کی۔اگرچہ وہ مصیبت ٹال نہ سکے لیکن کئی دنوں تک روکے رکھا۔ان کی محنت اور اس خدمت کااعتراف ان کے ناقدین بھی کرتے ہیں۔ان کی شب و روز کی محنت، شہریوں کی اپنی مدد آپ کے تحت جدوجہد اور انتھک کوششوں کے بعد شہر کا تین چوتھائی حصہ سیلاب کی نظر کیسے ہوا اس کی رودادکمال فرید ملک بی بی سی اردوکے نمائندےعصمت اللہ کوبیان کرتے ہیں آدھا شہر پانی میں اور آدھا خشکی میں۔اس منظر کو دیکھ کر کچھ کہتے ہیں کہ مٹھن کوٹ نہیں بچایا جاسکا۔کچھ کہتے ہیں کہ بچا لیا گیا۔سمجھ میں نہیں آرہا کہ میں کیا کہوں۔کس سے پوچھوں۔راجن پور میں کسی نے بتایا کہ کوٹ مٹھن کو اگر کسی ایک شخص نے پوری طرح ڈوبنے سے بچایا تو وہ کمال فرید ہے ۔جو دو مرتبہ شہر کا ناظم رہ چکا ہے۔
کمال فرید میوزیم کی عمارت سے متصل اپنے گھر میں مل گئے۔انہوں نے عجیب داستان سنائی۔

پہلی وارننگ ہمیں پچیس جولائی کو ملی۔جس کے بعد ہم نے ہیلپ فاؤنڈیشن کے رضاکاروں اور مقامی انتظامیہ کی مدد سے دریا سے نصف کیلومیٹر کے فاصلے پر قائم مرکزی پشتے کو مضبوط کرنا شروع کیا۔ ساتھ ہی ساتھ نواحی علاقوں سے لوگوں کو نکالنے کے کام کا بھی آغاز ہو گیا۔ تین دن بعد میں نے محکمہ آبپاشی اور ورکس والوں کو خبردار کیا کہ اگر یہ پشتہ ٹوٹا تو اس طرف سے ٹوٹے گا جو حصہ نہر کے بند سے جا کر جڑتا ہے۔لہذا اس جانب سے ممکنہ رساؤ کو ہرممکن طور پر روکنا آپ کی زمہ داری ہے۔انہوں نے کہا کہ بے فکر ہوجائیں انشااللہ کچھ نہیں ہوگا۔‘

دو اگست کی رات کو سامنے والے پشتے میں چالیس فٹ کا شگاف پڑ گیا۔انتظامیہ نے شہر خالی کرنے کی وارننگ جاری کردی۔لیکن ہم نے انتظامیہ سے درخواست کی کہ ہمیں دوسری دفاعی لائن قائم کرنے کا وقت دے دیں۔اگر ناکام ہوگئے تو بے شک شہر خالی کرالیں۔مجھے یقین تھا کہ نئی دفاعی لائن شہر کو بچا لے گی کیونکہ جب تہتر اور چھیاسی میں سیلاب آیا تھا تو اسوقت کوئی حفاظتی بند نہیں تھا پھر بھی ایک عارضی پشتے کے ذریعے پانی کو روک دیا گیا تھا۔

میں نے زمانہ طالب علمی کے اپنے اس تجربے کو کام میں لاتے ہوئے رات بارہ بجے کام شروع کیا۔صرف دو ٹریکٹر تھے۔تین بجے ہمیں زمین کھودنے والی ایک مشین بھی انتظامیہ کی جانب سے مل گئی۔صبح ساڑھے آٹھ بجے تک دو سو کے لگ بھگ شہریوں نے جان توڑ ڈالی اور ساڑھے چار کیلومیٹر طویل پانچ فٹ اونچی ڈیفنس لائن بنا لی۔اسکے بعد مزید مٹی ڈالنے کے لیے انتظامیہ نے ایک بلڈوزر بھیج دیا لیکن وہ متحرک ہونے سے پہلے ہی خراب ہو گیا۔

تین اگست کو دریا نے اوریجنل پشتے کے اوپر سے پچاس فٹ چوڑی آبشار کی صورت میں چھلانگ لگائی۔لیکن دوسری حفاظتی لائن ہونے کے سبب وہ پانی پسپا کر دیا گیا۔دو دن اور رات ہم پہرہ دیتے رہے۔

پانچ اگست کو اطلاع ملی کہ اوریجنل پشتے کا وہ حصہ جو نہر کے بند سے جڑا ہوا ہے اور محکمہ آبپاشی اور ورکس کے کنٹرول میں ہے وہاں سے پانی کا رساؤ شروع ہو گیا ہے۔اس دوران وزیرِ اعلی شہباز شریف وہاں تشریف لائے۔انکے جانے کے پندرہ منٹ بعد ہی اس حصے میں شگاف پڑ گیا اور پانی کے دھارے نے شہر کی طرف بڑھنا شروع کر دیا۔مجھے یاد آیا کہ جب اٹھائیس جولائی کو میں نے آبپاشی اور ورکس کے اہلکاروں کو اس حصے کی کمزوری کے بارے میں خبردار کیا تھا تو انہوں نے کہا تھا کہ آپ بے فکر ہوجائیں کچھ نہیں ہوگا۔واقعی یہ بات سچ ثابت ہوئی۔وہ بے فکر ہوگئے اور کچھ نہیں کیا۔نتیجہ اب پانی کی شکل میں شہر کی طرف بڑھ رہا تھا۔

بلاخر شہر خالی کرنے کا حکم دے دیا گیا۔کاش آپ اس وقت یہاں ہوتے۔ہزاروں لوگ راجن پور کی طرف بھاگ رہے تھے۔مگر ہمیں اچھی خبر یہ ملی کہ راجن پور سے بھی سینکڑوں گاڑیاں ، ٹرالیاں اور موٹر سائکلیں مٹھن کوٹ کی طرف دوڑ رہی ہیں تاکہ یہاں کے شہریوں کو جتنی جلد ممکن ہو دور لے جایا جاسکے۔

جب یہ بھگدڑ جاری تھی ۔ہمیں اطلاع ملی کہ ایک صاحب نے اپنا اینٹوں کا بھٹہ بچانے کے لیے ہم سے بغض رکھنے والے ایک اور آدمی کے ساتھ مل کر ہماری تیار کردہ دوسری دفاعی لائن میں شگاف ڈال دیا ہے۔اس ناگہانی سے نمٹنے کے لیے ہمیں مٹھن کوٹ بائی پاس کاٹنا پڑا۔ تاکہ پانی کا رخ دوبارہ دریا کی جانب ہو جائے۔گو شہر کا مرکزی حصہ جس میں مزارات اور اس سے جڑے ہوئے محلے تھے بچ گئے۔لیکن صد افسوس کے ہم نئی آبادی کے چھ سو گھروں اور بستی محب علی، بستی گنو کھانی، بستی میانی ، کوٹلہ حسین اور بستی شاہ پور سمیت بیسیوں بستیوں کو نہ بچا سکے۔ان کے سب مکانات تباہ ہوگئے۔اب آپ خود فیصلہ کیجئے کہ یہ سیلاب آیا تھا یا لایا گیا تھا۔

حالانکہ میرا تعلق پیپلز پارٹی سے ہے لیکن افسوس وفاق سے کوئی نہیں آیا۔چیف منسٹر ضرور آئے۔مسلم لیگ ق کی ماروی میمن پشتہ دیکھنے صرف تین منٹ کے لیے تشریف لائیں اور ٹی وی کے ٹاک شو میں اپنے مشاہدات پر تیس منٹ بولیں۔ہم ناکام نہیں ہوئے ہمیں ناکام کیا گیا ہے۔

ہر اینٹ کے بدلے میں لہو اپنا دیا ہے

اس شہر کی بنیاد زبانی نہیں رکھی۔‘

اس کے بعد کمال فرید کو چپ لگ گئی۔آدمی ایک وقت میں ایک ہی کام کر سکتا ہے۔یا تو بولتا رہے یا پھر آنسو ضبط کرلے۔[2] مرد مومن اور زندگی میں مایوس نہ ہونے والا2013 میں خالق حقیقی سے جا ملا۔ آج لوگ ان کی خدمت،ایثار،محنت شہر کی ترقی میں ان کے کردار کے متعرف ہیں ان کے اس جذبے کے اعتراف میں چلڈرن پارک نام تبدیل کر کے کمال فرید پارک رکھ دیا گیا۔جب کہ زیر تعمیر کالج کا نام کمال فریدکالج رکھنے کی مہم سوشل میڈیا اور اخبارات میں چل رہی ہے۔ حمزہ کمال ملک جو متوقع چیئر مین کےمضبوط امیدوار ہیں۔کمال فرید ملک مرحوم کے فرزند ہیں

کوٹ مٹھن میں بزرگان دین کے مزارات[ترمیم]

کوٹ مٹھن میں کئی بزرگان دین کے مزارات ہیں جنہوں نے نہ صرف دین اسلام کی ترویج و ترقی کے لیے گراں قدر خدمات سر انجام دی ہیں بلکہ نسل انسانی کی بہتری کے لیے اپنی زندگی وقف کر دی. یہاں انکا مختصر تعارف، ان کے حالات زندگی، خدمات، مزارات اور ان کی یاد میں سالانہ تقریبات کا احوال درج کیا جا رہاہے.

تاریخی عمارتیں[ترمیم]

1878ء میں بننے والی سابقہ تھانہ کوٹ مٹھن کی عمارت اپنی اصل حالت میں موجود ہے یہ عمارت نیم پختہ اور ٹائلز کی اینٹوں سے بنی ہوئی ہے جبکہ دیوار اور چھت کو مٹی گندم کا بھوں اور پانی کے مکسچر جسے سرائیکی میں گارا کہتے ہیں سے لیپ دیا گیادیواروں پر چنائی کی گئی ہے ماضی میں عمارت کی مرمتی ہوتی رہی ہے لیکن عمارت کے رقبہ, نقشہ, احاطہ, اور خدوخال میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی ہے۔ اب یہ عمارت غیر مصرف اور بند پڑی ہے[3]

تفریح مقامات اور سیر گاہیں[ترمیم]

کوٹ مٹھن میں تین پارک ہیں. جبکہ تفریح کےلیے لوگ دریا سندھ کی سیر کرتے ہیں.خاص کر مون سون(ساون) کے مہینے میں نہرقادره اوردریا سندھ میں لوگ جوق در جوق ساونی منانے آتے ہیں.

دریاۓ سندھ[ترمیم]

کوٹ مٹھن سے ایک کلومیٹر مشرق کی جانب دریا سندھ بہتا ہے جبکہ اس سے کچھ فاصلے پیشتر مقام پانچ دریا ایک دوسرے میں ضم ہو کر ایک دریا کی شکل اختیار کر لیتے ہیں جسے دریاۓ سندھ کہتے ہیں.کسی دور میں اسی مقام پر سات دریا آپس میں ملتے تھےاور دریاۓ سندھ کی شکل اختیار کر لیتےتھے کوٹ مٹھن میں دریاۓ سندھ کو مقامی طور پر ست ندی بھی کہا جاتا تھا جس کے معنی سات دریا کےہیں. اب دو دریا ندارد ہیں۔ دریا سندھ کوٹ مٹھن کے مشرق سے جنوب کی طرف بہتاہوا صوبہ سندھ میں داخل ہو جاتا ہے.

سرکاری دفاتر[ترمیم]

کوٹ مٹھن میں درج کئی سرکاری، نیم سرکاری دفاتر موجودہیں جن کی تفصیل، محل وقوع پتہ اور مدد کا نمبر ذیل میں درج کیا جا رہا ہے

گورنمنٹ ہائیر سیکنڈری اسکول بوائز[ترمیم]

کوٹ مٹھن میں ثانوی تعلیم کے لیے اسکول موجودہے۔ جس کا نام گورنمنٹ ہائیر سیکنڈری اسکول بوائز ہے۔ اس اسکول میں یک جنس نظام تعلیم ہے۔گرمیوں اور سردیوں کےالگ الگ اوقات تدریس ہیں۔آج مختلف شعبہ ہائے زندگی کے ناموراشخاص اس مدرسے سےفارغ التحصیل ہیں

گورنمنٹ گرلز کالج[ترمیم]

گورنمنٹ گرلز کالج کوٹ مٹھن نشترگھاٹ روڈ پر واقع ہے 2015ءمیں تدریس کا عمل شروع ہوا لیکن ابھی تک باقاعدگی سے تدریس کا سلسلہ شروع نہیں ہوا۔اس کالج میں نظام تدریس یک جنس یعنی صرف خواتین کی تعلیم کےلیے مختص ہے۔لڑکیوں کی ثانوی تعلیم کے لیے واحد ذریعہ گورنمنٹ گرلز کالج کوٹ مٹھن ہے۔گرمیوں اور سردیوں کے لیےالگ الگ اوقات تدریس ہیں۔اس کالج میں طلبات کے لیے ہاسٹل کی سہولت موجود ہے۔کالج کی چار دیواری موجود ہے۔اس کالج میں تعلیمی اور تدریسی توسیع کی جاسکتی ہے۔اس کالج کو مقامی ممبر صوبائی اسمبلی عاطف خان مزاری کی تجویز پر قائم کیاگیا۔

واپڈا[ترمیم]

واپڈا وفاق کے زیر انتظام شہر میں بجلی کی فراہمی اور اس کی روانی میں تعطل دور کرنے, خرابی کی دوری بجلی کی چوری روکنے, بل بجلی کی ادائیگی کے لیے حکومت کی مدد کرنے کا ذمہ دار ہے. اس کا دفتر سرکل روڈ یعنی کنگن سڑک کے جنوبی کنارے پر نزد امام بارگاه واقع ہے

سرکاری ہسپتال[ترمیم]

صحت عامہ کے لیے ایک سرکاری ہسپتال بھی قائم کیا گیا ہے.عوام الناس کو صحت کی سہولت فرہم کرنا اسکی ذمہ داری ہے. اس ہسپتال کا پورا نام دیہی مرکز صحت کوٹ مٹھن ہے.حادثات کی صورت میں ایمرجنسی کی سہولت موجود ہے ہسپتال میں صرف بنیادی سہولتیں موجود ہیں.علاج معالجہ, حادثات کےلیے مرہم پٹی، وبائی امراض کی روک تھام، دور افساده علاقوں کے لیے ایک عدد ایمبولیس، زچہ و بچہ اورجنم گاہ اورطبعی نسخہ جات کی سہولت موجودہے۔ یہ ہسپتال ریلوے روڈ پر بالمقابل گورنمنٹ ہائیر سیکنڈری اسکول بوائیزواقع ہے

سیاست[ترمیم]

کوٹ مٹھن حلقہ قومی اسمبلی این اے 175, صوبائی اسمبلی پنجاب پی پی250 میں واقع ہے

مقامی سیاست[ترمیم]

2012ء میں کوٹ مٹھن کو میونسپلٹی کا درجہ ملا. 5دسمبر2015ء میں ہونے والے انتخابات میں آزاد نمائندے منتخب ہوئے بعد ازاں انہوں نےپاکستان مسلم لیگ(ن) میں شمولیت اختیار کر لی.

انتظامیہ[ترمیم]

انتظامی طور پر پنجاب پولیس کی ذمہ داری ہے کہ وہ قانون کی حاکمیت کے لیےاقدامات کرے۔ اعلیٰ مقامی افسر ایس ایچ او ہوتا ہے ــ پولیس کی ذمہ داری انسداد جرائم اور امن و امان ہے ــ شہر کی اطراف خارجی یا داخلی راستوں پر پولیس چوکیاں بنی ہوئی ہیں ــ پولیس اسٹیشن کی نئی عمارت شہر کی شمال کی طرف سڑک راجن پور نزد طاہر کالونی جدید تقاضوں پر بنی ہوئی ہے ــ

  • فون نمبر0604317464 ہے ــ
  • ایمر جنسی نمبر15 ہے ــ

ریلوے اسٹیشن[ترمیم]

کوٹ مٹھن ریلوے سٹیشن 1972ء میں قائم ہوا.ریلوے سٹیشن کوٹ مٹھن کی حدود میں واقع ہےاورفعال ہے۔یہ ریلوے سٹیشن ڈیرہ غازی خان اور کشمور کو ملانے کے لیےقائم کیا گیا۔

حوالہ جات[ترمیم]

بیرونی رابط[ترمیم]