کوپرولو خاندان

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

کوپرولو خاندان ( ترکی: Köprülü ailesi ) سلطنت عثمانیہ میں البانوی نژاد شریف اور اعلیٰ خاندان تھا۔ [1] [2] اس خاندان نے چھ وزرائے اعظم (بشمول قرہ مصطفی پاشا ، جو سوتیلے بیٹے تھے) مہیا کیے ، متعدد دیگر اعلیٰ عہدے داران بھی اسی خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔سلطنت عثمانیہ میں ان کے دورِ وزارتِ عظمیٰ کو کوپرولو دور کہا جاتا ہے۔

اس خاندان کا ایک اور قابل ذکر فرد کوپرولو عبدالله پاشا (1684–1735) تھا جوعثمانی فارسی جنگوں میں سالار تھا ،اس نےسلطنت کے متعدد صوبوں میں والی کی ذمہ داریاں بھی ادا کیں۔ اس خاندان کی موجودہ نسل میں ترک ادب کے ممتاز مورخ محمد فواد کوپرولو شامل ہیں۔ اس خاندان کے افراد ترکی ، مغرب اور امریکہ میں رہ رہے ہیں ۔

کوپرولو وزرائے اعظم[ترمیم]

سلطنت عثمانیہ کی تاریخ کے دوران ، کوپرولو وزرائے اعظم کی وجہ شہرت، ریاست کو متحرک رکھنا تھی جو آہستہ آہستہ زوال و جمود کی علامات ظاہر کرنے لگی ۔ ابتدائی وزراء نے خاص طور پر فوجی مہموں پر توجہ دی جس نے سلطنت کی طاقت کو بڑھایا۔ تاہم ، قرہ مصطفی پاشا کی شروع کردہ ویانا کی تباہ کن جنگ (معاہدہ کارلوفچہ بھی دیکھیں) نے اس خاندان کے زوال پر مہر ثبت کردی۔

کوپرولوکمپلیکس کوریڈور
نام زندگی مدت وزارتِ عظمیٰ سلطان
کوپرولو محمد پاشا 1583–1661 1656–1661 محمدرابع
کوپرولو زاده فضل احمد پاشا 1635–1676 1661–1676 محمد رابع
قرۃ مصطفی پاشا 1 1634–1683 1676–1683 محمدرابع
اباظہ سياوش پاشا ثانی 2 وفات 1688 1687–1688 سلیمان ثانی
کوپرولو زادہ فضل مصطفی پاشا 1637–1691 1689–1691 سلیمان ثانی
احمد ثانی
عمجہ زادہ کوپرولو حسین پاشا 1644–1702 1697–1702 مصطفی ثانی
کوپرولو زادہ نعمان پاشا 1670–1719 1710–1711 احمد ثالث

1 قرۃ مصطفی پاشا کی پرورش کوپرولو خاندان نے کی اور وہ کوپرولو فضل احمد پاشا کے بہنوئی تھے۔

2 اباظہ سیاوش پاشا ،محمدکوپرولو پاشا کا خادم تھا۔ ان کی بیٹی سے شادی کر کے سیاوش طاقتور کوپرولو خاندان کا داماد بن گیا۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. Stephen Schwartz, The other Islam: Sufism and the road to global harmony Doubleday 2008 آئی ایس بی این 978-0-385-51819-2 page 100.
  2. Ivo Banac, The national question in Yugoslavia: origins, history, politics, آئی ایس بی این 0-8014-1675-2, آئی ایس بی این 0-8014-9493-1 Cornell University 1988 page 292.