کوہ نور (اخبار)

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
کوہِ نور
Koh-Noor-Lahore.jpg
کوہِ نور کے شمارہ 16 جنوری 1855 کا سر ورق
قسم ہفت روزہ
بانی منشی ہرسکھ رائے
ناشر مطبع کوہِ نور
مدیر منشی ہرسکھ رائے
آغاز 14 مئی، 1850ء
زبان اردو
اختتام 1904ء
صدر دفتر لاہور، صوبہ پنجاب
تعداد اشاعت 349

کوہِ نور برطانوی ہندوستان کا اردو زبان کا سرکاری سرپرستی میں نکلنے والا ایک ہفت روزہ اخبار تھا جسے 14 مئی 1850ء میں منشی ہرسکھ رائے[1] نے لاہور سے جاری کیا تھا۔ یہ اردو زبان کا پہلا اخبار ہے جو پنجاب سے جاری کیا گیا۔ یہ اخبار 1904ء تک جاری رہا۔

تاریخ[ترمیم]

یہ اخبار برطانوی راج میں منشی ہرسکھ رائے نے 14 مئی 1850ء میں لاہور سے جاری کیا[2]۔ یہ پنجاب کا پہلا اردو اخبار تھا۔ اس اخبار کے مالک اور ایڈیٹر منشی ہرسکھ رائے ایک تجربہ کار اور با حوش صحافی تھے جو سکندرآباد (ضلع بلندشہر) کے باشندے تھے اور اخبار کوہِ نور کے اجرا سے قبل جام جمشید میرٹھ کی ادارت کے فرائض انجام دے چکے تھے[3]۔ منشی ہرسکھ رائے نا صرف راست گو اور بے خوف قسم کے صحافی تھےبلکہ ان کا ذہن نہایت رسااور خیالات نہات بلند تھے، وہ اخبار کا وجود ملک و قوم کی بقا کے لیے بے حد ضروری سمجھتے تھے۔[4]۔ ہرسکھ رائے کو کوہ نور کی بدولت ہندوستان گیر شہرت حاصل ہوئی۔ لاہور کی مجلسی زندگی میں وہ نمایاں اور مقبول تھے۔ وہ میونسپل کمشنر بھی بنائے گئے۔[5]

اس اخبار کے 1851ء کے مختلف شماروں کے مطالعہ سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ یہ اخبار ہفتے میں دو بار شائع ہوتا تھا، بعد میں ہفت روزہ ہو گیا[6]۔ اس کے صفحات کی تعداد 16 تھی جو حسبِ ضرورت بڑھ کر 18 تک بھی جا پہنچتی تھی[7]۔ اس اخبار کو سرکاری سرپرستی اور خیر خواہی حاصل تھی لیکن منشی ہرسکھ رائے حق بات کہنے سے نہ چوکتے تھے اور اخبار کے ذریعے گاہے بہ گاہے حکومتی پالیسیوں پر تنقید کرتے رہتے تھے۔[8]

ہر سکھ رائے نے پنجاب میں اردو زبان کو فروغ دینے اور تعلیم کو پھیلانے میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ وہ اردو کی ترویج و اشاعت کے لیے ہفتہ وار مشاعرے کراتے تھے اور مشاعرے کے شعرا کی منتخب غزلیں کوہِ نور اخبار میں شائع کر دیتے تھے۔ حکومت پنجاب اُن کے اخبار میں اسکولوں اور کالجوں کی کارگزاریاں شائع کراتی تھی۔[5]

1857ء کے بعد بڑے بڑے ادیب کوہِ نور اخبار سے وابستہ ہوئے، مثلاً سید نادر علی سیفی، مولوی سیف الحق، منشی نثار علی شہرت، تاج الدین، مرزا موجد، منشی لال سنگھ، مولوی عبد اللہ اور منشی محرم علی چشتی وغیرہ، ان سب نے اپنی صحافت کا آغاز کوہِ نور سے کیا اور اُن میں سے اکثر نے بعد میں اپنے اخبار نکالے[9]۔ اس اخبار طویل عرصہ شائع ہونے کے بعد 1904ء میں بند ہوا۔[2]

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. محمد افتخار کھوکھر، صحافت کی تاریخ، مقتدرہ قومی زبان اسلام آباد، 1995ء، ص 44
  2. ^ ا ب معصوم مراد آبادی، اردو صحافت کا ارتقا، اردو اکادمی دہلی، 2013ء، ص 62
  3. نادر علی خاں، اردو صحافت کی تاریخ، ایجوکیشنل بک ہاؤس، علی گڑھ، 1987ء، ص 287
  4. نادر علی خاں، اردو صحافت کی تاریخ، ایجوکیشنل بک ہاؤس، علی گڑھ، 1987ء، ص 294
  5. ^ ا ب مولوی محبوب عالم، اردو صحافت کی ایک نادر تاریخ، مغربی پاکستان اردو اکیڈمی، لاہور، 1992ء، ص 263
  6. نادر علی خاں، اردو صحافت کی تاریخ، ایجوکیشنل بک ہاؤس، علی گڑھ، 1987ء، ص 289
  7. نادر علی خاں، اردو صحافت کی تاریخ، ایجوکیشنل بک ہاؤس، علی گڑھ، 1987ء، ص 290
  8. نادر علی خاں، اردو صحافت کی تاریخ، ایجوکیشنل بک ہاؤس، علی گڑھ، 1987ء، ص 292
  9. ڈاکٹر عبد السلام خورشید، صحافت: پاکستان و ہند میں، مجلس ترقی ادب لاہور، نومبر 2016ء، ص 114-115