کیا انسان کبھی چاند پر اترا؟

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش

21جولائ 1969 کو دنیا کے کئی ممالک میں live TV پر امریکہ نے اپنے دو خلا نوردوں کو چاند کی سطح پر اترتے ہوئے دکھایا اور 50 کروڑ لوگوں نے اسے دیکھا۔ لیکن کچھ ہی سالوں میں خود امریکہ میں اس بات پر شک و شبہ ظاہر کیا جانے لگا کہ کیا واقعی انسان چاند پر اترا تھا؟ 15 فروری 2001 کو Fox TV Network سے نشر ہونے والے ایک ایسے ہی پروگرام کا نام تھا ?Conspiracy Theory: Did We Land on the Moon۔ یہ نشریات 19 مارچ کو دوبارہ نشر کی گئی۔

Buzz Aldrin اور Neil Armstrongکی چاند پر اترنے سے پہلے کی تصویر جو ناسا نے جاری کی تھی۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ ایسی ہی فلمیں بنا کر چاند پر اترنے کا ڈرامہ رچایا گیا ہے۔

وجوہات[ترمیم]

امریکہ کے ایٹمی ہتھیار روس کے ایٹمی ہتھیاروں سے زیادہ بہتر اور چھوٹے سائز کے تھے اس لیئے انہیں میزائلوں میں استعمال کرنے کے لیئے چھوٹے راکٹوں کی ضرورت پڑتی تھی۔ اس کے برعکس روسیوں کو اپنے بھاری ایٹمی ہتھیاروں کے لیئے بہت بڑے راکٹوں کی ضرورت تھی اور اس وجہ سے روس والے راکٹ سازی میں امریکہ سے کہیں آگے نکل گئے۔ امریکہ کو شدید خطرہ تھا کہ نہ صرف اس کے علاقے روسی ایٹمی ہتھیاروں کی زد میں ہیں بلکہ سرد جنگ کی وجہ سے شروع ہونے والی خلائ دوڑ میں بھی انہیں مات ہونے والی ہے۔ جنگ ویتنام میں ناکامی کی وجہ سے امریکیوں کا مورال بہت نچلی سطح تک آ چکا تھا۔

روسی خلائ برتری[ترمیم]

پہلا مصنوعی سیارہ خلا میں بھیجنے کے معاملے میں روس کو سبقت حاصل ہو چکی تھی جب اس نے 4 اکتوبر 1957 کو Sputnik 1 کو کامیابی کے ساتھ زمین کے مدار میں بھیجا۔ روس 1959 میں بغیر انسان والے خلائ جہاز چاند تک پہنچا چکا تھا۔ 12 اپریل 1961 کو روسی خلا نورد یوری گگارین نے 108 منٹ خلا میں زمیں کے گرد چکر کاٹ کر خلا میں جانے والے پہلے انسان کا اعزاز حاصل کیا۔ 23 دن بعد امریکی خلا نورد Alan Shepard خلا میں گیا مگر وہ مدار تک نہیں پہنچ سکا۔ ان حالات میں قوم کا مورال بڑھانے کے لیئے صدر کینڈی نے 25 مئی 1961 میں یہ دعویٰ کیا تھا کہ ہم اس دہائی میں چاند پر اتر کہ بخیریت واپس آئنگے۔ بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ دہائ کے اختتام پر بھی اسے پورا کرنا امریکہ کے لیئے ممکن نہ تھا اس لیئے عزت بچانے اور برتری جتانے کے لیئے جھوٹ کا سہارا لینا پڑا۔ امریکہ کے ایک راکٹ ساز ادارے میں کام کرنے والے شخصBill Kaysing کے مطابق اس وقت انسان بردار خلائ جہاز کے چاند سے بہ سلامت واپسی کے امکانات صرف 0.017% تھے۔ اس نے اپولو مشن کے اختتام کے صرف دو سال بعد یعنی 1974 میں ایک کتاب شائع کی جسکا نام تھا We Never Went to the Moon: America's Thirty Billion Dollar Swindle
3 اپریل 1966 کو روسی خلائ جہاز Luna 10 نے چاند کے مدار میں مصنوعی سیارہ چھوڑ کر امریکیوں پر مزید برتری ثابت کر دی۔

ڈرامہ[ترمیم]

21 دسمبر 1968 میں NASA نے Apollo 8 کے ذریعے تین خلا نورد چاند کے مدار میں بھیجے جو چاند کی سطح پر نہیں اترے۔ غالباً یہNASA کا پہلا جھوٹ تھا اور جب کسی نے اس پر شک نہیں کیا تو امریکہ نے پوری دنیا کو بے وقوف بناتے ہوئے انسان کے چاند پر اترنے کا یہ ڈرامہ رچایا اور لندن کے ایک اسٹوڈیو میں جعلی فلمیں بنا کر دنیا کو دکھا دیں۔ اپولو 11 جو 16جولائی 1969 کو روانہ ہوا تھا درحقیقت آٹھ دن زمین کے مدار میں گردش کر کے واپس آ گیا۔
1994 میں Andrew Chaikin کی چھپنے والی ایک کتاب A Man on the Moon میں بتایا گیا ہے کہ ایسا ایک ڈرامہ رچانے کی بازگشت دسمبر 1968 میں سنی گئی تھی۔

اعتراضات[ترمیم]

زمین کے بہت نزدیک خلائ مداروں میں جانے کے لیئے انسان سے پہلے جانوروں کو بھیجا گیا تھا اور پوری تسلی ہونے کے بعد انسان مدار میں گئے لیکن حیرت کی بات ہے کہ چاند جیسی دور دراز جگہ تک پہنچنے کے لیئے پہلے جانوروں کو نہیں بھیجا گیا اور انسانوں نے براہ راست یہ خطرہ مول لیا۔
کچھ لوگ یہ اعتراض بھی کرتے ہیں کہ اگر انسان چاند پر پہنچ چکا تھا تو اب تک تو وہاں مستقل قیام گاہ بن چکی ہوتی مگر معاملہ برعکس ہے اور چاند پر جانے کا سلسلہ عرصہ دراز سے کسی معقول وجہ کے بغیر بند پڑا ہے۔ اگر 1969 میں انسان چاند پر اتر سکتا ہے تو اب ٹیکنولوجی کی اتنی ترقی کے بعد اسے مریخ پر ہونا چاہیئے تھا مگر ایسا نہیں ہے۔ ناسا کے مطابق دسمبر 1972 میں اپولو 17 چاند پر جانے والا آخری انسان بردار خلائ جہاز تھا۔


گمشدہ ٹیپ[ترمیم]

چاند پر انسان کی پہلی چہل قدمی کی فلم کا سگنل دنیا تک ترسیل کے بعد slow scan television -SSTV فارمیٹ پر اینالوگ Analog ٹیپ پر رکارڈ کیا گیا تھا۔ ان ٹیپ پر ٹیلی میٹری کا ڈاٹا بھی رکارڈ تھا۔ عام گھریلو TV اس فارمیٹ پر کام نہیں کرتے اسلیئے 1969 میں اس سگنل کو نہایت بھونڈے طریقے سے عام TV پر دیکھے جانے کے قابل بنایا گیا تھا۔ اب ٹیکنولوجی اتنی ترقی کر چکی ہے کہ ایسے سگنل کو صاف ستھری اور عام TV پر دیکھنے کے قابل تصویروں میں بدل دے۔ جب ناسا سےSSTV کے اصلی ٹیپ مانگے گئے تو پتہ چلا کہ وہ ٹیپ دوبارہ استعمال میں لانے کے لیئے مٹائے جا چکے ہیں اور Nasa آج تک اصلی ٹیپ پیش نہیں کر سکا ہے۔

گمشدہ ڈرائنگ[ترمیم]

چاند پر جانے اور وہاں استعمال ہونے والی مشینوں کے بلیو پرنٹ اور تفصیلی ڈرائنگز بھی غائب ہیں۔

ناسا کی تردید[ترمیم]

ناسا ہمیشہ ایسے اعتراضات کی تردید کرتی آؤ ہے۔
2002 میں ناسا نے James Oberg نامی شخص کو پندرہ ہزار ڈالر اس بات پر انعام دیئے کہ اس نے چاند پر پہنچنے کو ناسا کا ڈرامہ کہنے والوں کے اعتراضات کا نقطہ بہ نقطہ جواب دیا۔ غالباً ایسی ہی کسی وجہ سے Myth Busters کی سیریل میں ایسے اعتراضات کو غلط ثابت کیا گیا ہے۔

بیرونی ربط[ترمیم]

کیا انسان کبھی چاند پر اترا؟ حصہ اول http://www.youtube.com/watch?v=RJcwBu_C6sQ


کیا انسان کبھی چاند پر اترا؟ حصہ دوم http://www.youtube.com/watch?v=eYQL5fK6d_U


کیا انسان کبھی چاند پر اترا؟ حصہ سوم http://www.youtube.com/watch?v=WzkOR_44Qo8

کیا انسان کبھی چاند پر اترا؟ حصہ چہارم http://www.youtube.com/watch?v=ef0MaMLuNho

کیا انسان کبھی چاند پر اترا؟ حصہ پنجم http://www.youtube.com/watch?v=02ZY7fRSOw8

کیا انسان کبھی چاند پر اترا؟ did man really go to the moon? http://www.youtube.com/watch?v=pybbrBTndVc

مزید دیکھیئے[ترمیم]