کیدر بن عبد اللہ
| کیدر بن عبد اللہ | |
|---|---|
| معلومات شخصیت | |
| وفات | سنہ 834ء فسطاط |
| شہریت | |
| اولاد | مالک بن کیدر ، مظفر بن کیدر |
| عملی زندگی | |
| پیشہ | والی |
| درستی - ترمیم | |
نصر بن عبد اللہ ، جو کَیدر کے نام سے معروف تھا، خلافتِ عباسیہ کے دور میں مصر کا گورنر (والی) تھا۔ اُسے خلیفہ عبد اللہ المامون نے مصر سے روانگی کے بعد سنہ 217ھ میں مقرر کیا اور وہ 219ھ میں اپنی وفات تک اس عہدے پر فائز رہا۔
سوانح حیات
[ترمیم]ایسا معلوم ہوتا ہے کہ کَیدر کا تعلق سغد (موجودہ وسطی ایشیا) سے تھا اور وہ خلیفہ کا غلام (مولیٰ) تھا۔ خلیفہ مامون نے جب محرم 217ھ (فروری 832ء) میں مصر کا دورہ کیا، [1]،[2] تو واپسی پر اُسے وہاں کا گورنر مقرر کر دیا۔ اُس نے سب سے پہلے اسبندیار کو پولیس (شُرطہ) کا سربراہ مقرر کیا۔ بعد ازاں خلیفہ مامون نے ایک غیر عرب شخص کو، جسے ابن بسطام کہا جاتا تھا، پولیس کا سربراہ مقرر کیا، لیکن کَیدَر نے رشوت لینے کے الزام میں اُسے معزول کر دیا اور جامع مسجد کے صحن میں اُسے کوڑوں کی سزا دی۔
کَیدر کے دورِ حکومت میں خلیفہ مامون نے مسلمانوں کا امتحان لینے کا حکم دیا، جسے "محنۃ خلق القرآن" (قرآن کے مخلوق ہونے کا عقیدہ) کے نام سے جانا جاتا ہے۔ [3] جمادی الآخر 218 ہجری میں خلیفہ کا فرمان مصر پہنچا، جہاں قاضی ہارون بن عبد اللہ زہری تھے۔ کَیدَر نے سب کو اس نظریے کو قبول کرنے پر مجبور کیا۔ قاضی، گواہوں، علما، محدثین اور موذنوں سے اس پر رائے لی گئی، جو اس عقیدے سے انکار کرتا اُس کی گواہی رد کر دی جاتی۔[4]
چند مہینے بعد، 7 رجب 218 ہجری کو خلیفہ مامون کا انتقال ہوا اور اُس کے بعد ابو اسحاق المعتصم باللہ خلیفہ بنا۔ نئے خلیفہ نے کَیدَر کو حکم دیا کہ دیوان (سرکاری فہرست) میں شامل تمام عربوں کے نام نکال دیے جائیں اور ان کی تنخواہیں بند کر دی جائیں۔ یہ فیصلہ عوامی سطح پر شدید مخالفت کا شکار ہوا اور ایک شخص یحییٰ بن وزی جروی نے 500 آدمیوں کے ساتھ بغاوت کر دی۔
کَیدَر کی وفات ربیع الآخر 219 ہجری میں ہوئی اور اُس کے بعد اُس کا بیٹا مظفر بن کَیدَر مصر کا گورنر مقرر ہوا۔[5]
حوالہ جات
[ترمیم]کتابیات
[ترمیم]- Jamal al-Din Abu al-Mahasin Yusuf Ibn Taghribirdi (1930)۔ Nujum al-zahira fi muluk Misr wa'l-Qahira, Volume II۔ Cairo: Dar al-Kutub al-Misriyya
- Ahmed El Shamsy (2013)۔ The Canonization of Islamic Law: A Social and Intellectual History۔ New York: Cambridge University Press۔ ISBN:978-1-107-04148-6۔ 2016-05-08 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا