کیرت بابانی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
کیرت بابانی
(سندھی میں: ڪيرت چوئٿرام ٻاٻاڻي ویکی ڈیٹا پر (P1559) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
Kirat-Babani.jpg

معلومات شخصیت
پیدائش 3 جنوری 1922  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
ضلع نواب شاہ،  سندھ،  بمبئی پریزیڈنسی  ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات 7 مئی 2015 (93 سال)  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
الہاسنگر،  ممبئی،  بھارت  ویکی ڈیٹا پر (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت Flag of India.svg بھارت (26 جنوری 1950–)
British Raj Red Ensign.svg برطانوی ہند (–14 اگست 1947)
Flag of Pakistan.svg پاکستان (15 اگست 1947–26 جنوری 1950)  ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
مادر علمی ڈی جے سندھ گورنمنٹ سائنس کالج  ویکی ڈیٹا پر (P69) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
تعلیمی اسناد فاضل القانون  ویکی ڈیٹا پر (P512) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ فعالیت پسند،  افسانہ نگار،  صحافی،  ناول نگار  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ ورانہ زبان سندھی  ویکی ڈیٹا پر (P1412) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
کارہائے نمایاں دھرتی جو سڈ  ویکی ڈیٹا پر (P800) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
تحریک ترقی پسند تحریک  ویکی ڈیٹا پر (P135) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
اعزازات
ساہتیہ اکادمی ایوارڈ  (برائے:دھرتی جو سڈ) (2006)[1]
سوویت لینڈ نہرو ایوارڈ  ویکی ڈیٹا پر (P166) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
P literature.svg باب ادب

کیرت بابانی (انگریزی: Kirat Babani) بھارت سے تعلق رکھنے والے سندھی زبان کے نامور مصنف، افسانہ نگار، ناول نگار، شاعر، صحافی، مترجم، سماجی کارکن اور دانشور تھے۔ وہ ترقی پسند تحریک سے وابستہ تھے۔ تقسیم ہند کے بعد بھارت منتقل ہو گئے تھے۔ انہیں ان کی کتاب دھرتی جو سڈ (دھرتی کی پکار) پر ساہتیہ اکیڈمی کی جانب سے 2006ء میں ساہتیہ اکیڈمی اعزاز برائے سندھی ادب دیا گیا۔

حالات زندگی[ترمیم]

کیرت بابانی 3 جنوری 1922ء کو ضلع نوابشاہ (موجودہ ضلع شہید بینظیر آباد، سندھبمبئی پریزیڈنسی میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے ابتدائہ تعلیم ولس ہائی اسکول سونی بازار نوابشاہ سے حاصل کی۔ میٹرک کے بعد ڈی جے کالج کراچی میں داخلہ لیا۔ یہاں وہ طلبہ سیاست میں بہت فعال رہے۔ ڈی جے کالج سے بی اے پاس کیا۔ پھر شاہانی لا کالج کراچی سے ایل ایل بی کی ڈگری حاصل کی۔ انڈین نیشنل کانگریس کی ہندوستان چھوڑ دو تحریک میں بھی فعال کردار ادا کیا اور جیل بھی گئے۔ تقسیم ہند کے بعد وہ بھارت منتقل ہو گئے۔سندھ اور بعد ازاں بھارت میں ادب کی ترقی پسند تحریک کے ہراول دستے میں شامل تھے۔ وہ پروفیسر رام پنجوانی کے قائم کردہ سندھی ادبی سرکل اور بعد میں پروگریسو رائٹرز ایسوسی ایشن کی سندھ شاخ میں سرگرم رہے۔ وہ شروع ہی سے اشتراکیت کے تصورات سے متاثر رہے ہیں اور جدید سندھی ادب میں حقیقت نگاری کے رویوں کی پاسداری کرتے رہے ہیں۔گوبند مالہی، تیرتھ بسنت، شیخ ایاز، اتم چندانی، شیخ عبد الرزاق راز، نارائن شیام، سوبھو گیانچندانی سگن آہوجا جیسے چوٹی کے ترقی پسند ادیبوں کے شریکِ سفر تھے۔ بھارت میں سندھی زبان کو قومی زبان درجہ دلانے والی تحریک میں کیرت بابانی نے رہنما کردار ادا کیا۔ کیرت کی اصل دلچسپی فکشن میں رہی۔ سندھ سے بھارت ہجرت کرنے والے شرنارتھیوں کی کیمپ لائف پر ان کی لکھی ہوئی کہانیاں آج بھی اپنا تاثر رکھتی ہیں۔ انہوں نے بعض نئے موضوعات پر بھی کہانیاں تحریر کیں جیسے معاشرتی شکست و ریخت کے زیرِ اثر انسانی نفسیات میں ہونے والی پیچیدگییوں کو انہوں نے اپنی کہانیوں کا موضوع بنایا ہے۔ جنریشن گیپ جیسے موضوع بھی ان کی بعض کہانیوں میں موجود ہیں۔ ان کی معروف کہانی نہ لیلیٰ نہ مجنوں ایسے ہی نئے معروضی مسائل کے گرد گھومتی ہے۔ ان کی کہانیوں کا مجموعہ ھئو (وہ) اور درد جو دل میں نہ سمایو (درد جو دل میں نہ سمایا) بھارت میں سندھی ادب کے منتخب ترین مجموعوں میں بلند مقام پر فائز ہے۔ کیرت نے ملک راج آنند کے مشہور ناولوں قلی اور مالوہ کو سندھی میں ترجمہ کیا۔ کیرت کی خودنوشت کجھ بدھایم کجھ لکایم (کچھ بتایا کچھ چھپایا) بھی ایک منفرد اسلوب کی کتاب ہے، اس میں سندھ کی سرزمین اور ثقافت کے بارے میں ناسٹلجیائی اثرات ہونے کے باوجود ایک حقیقت پسندانہ طریق کاراختیار کیا گیا ہے۔ اس میں انہوں نے اپنی زندگی کی بابت اور اپنے خیالات کے سلسلے میں زیادہ سے زیادہ معلومات قلم بند کی ہیں۔[2]

وفات[ترمیم]

کیرت بابانی 7 مئی 2015ء کو الہاس نگر، بمبئی، بھارت میں وفات پا گئے۔[3]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. http://sahitya-akademi.gov.in/awards/akademi%20samman_suchi.jsp#SINDHI — اخذ شدہ بتاریخ: 16 اپریل 2019
  2. سید مظہر جمیل، مختصر تاریخ زبان و ادب سندھی، ادارہ فروغ قومی زباناسلام آباد، 2017ء، ص 437
  3. "Pay Tribute to Mr Kirat Babani – Times of India". indiatimes.com. اخذ شدہ بتاریخ 16 نومبر 2021.