کیرلا

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
کیرلا
കേരളം
ریاست
شہر ترواننت پورم کا نظارہ
شہر ترواننت پورم کا نظارہ
کیرلا
پرچم
کیرلا
قومی نشان
عرفیت: خدا کا اپنا ملک
بھارت میں کیرلا کا وقوع
بھارت میں کیرلا کا وقوع
ریاست کیرلا کا نقشہ
ریاست کیرلا کا نقشہ
ملکFlag of India.svg بھارت
قائم1 نومبر 1956ء
پایۂ تختترواننت پورم
عظیم تریں شہرکوچی
اضلاع14
حکومت
 • گورنرپی سدا شی وم
 • وزیرِ اعلیٰپنارائی وجاین
 • قانون ساز مجلسیک مجلسی (141 نشستیں)
 • پارلیمانی حلقہ2
 • عدالتِ عالیہکیرلا عدالتِ عالیہ
رقبہ
 • کل38,863 کلو میٹر2 (15,005 مربع میل)
رقبہ درجہ21 واں
آبادی (2011ء)[1]
 • کل33,387,677
 • درجہ12 واں
 • کثافت819/کلو میٹر2 (2,120/مربع میل)
نام آبادیکیرلائی ، ملیالی
منطقۂ وقتبھارتی معیاری وقت (UTC+05:30)
آیزو 3166 رمزآیزو 3166-2:IN
انسانی ترقیاتی اشاریہIncrease2.svg 0.920[2] (very high)
درجہ7واں (2011ء)
خواندگی93.91% (بھارت میں اوّل)[3]
زبانیںملیالم ، تَمِل ، کنّڑا ، اردو ، تُلو
دفتری زبانیںملیالم
ویب سائٹkerala.gov.in
کیرلا کا ٹوپوگرافی نقشہ

کیرل یا کیرلا (കേരളം ؛ Kerala) بھارت کی ایک ریاست ہے جو دکن کے جنوبی حصہ میں واقع ہے۔ اس کا دار الحکومت تریوینڈرم ہے۔ اس ریاست کی زبان ملیالم ہے۔ یہاں کے باشندوں کو ملیالی کہتے ہیں۔ اس ریاست کی مسلم آبادی میں بیشتر موپلا قوم کے لوگ ہیں۔

جغرافیہ[ترمیم]

کیرلا کے مشرق میں ریاستِ تمل ناڈو، شمالی مشرق میں ریاستِ کرناٹک اور مغرب میں بحیرہ عرب ہیں۔ کیرلا متنوع خِطّوں سے مالامال ہے۔ سیاحی جرید ہ نیشنل جیوگریفک ٹراول میگزین کے مطابق دنیا میں سیاحت کے لائق 50 مقامات کی فہرست میں کیرلا کا نام بھی ہے۔[4] کیرلا کا کل رقبہ 38,863 مربع کلومیٹر ہے۔ یہ بھارت کے کل رقبے کا %1.8 ہے۔

تاریخ[ترمیم]

سن 1950ء میں کیرلا بہت پسماندہ تھا۔ لیکن پچھلے پچاس سالوں میں یہاں انقلابانہ تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں۔ اس کی اہم وجہ تعلیم اور جدیدیت کے اثرات ہیں۔ خواندگی اور صحت وغیرہ میں جو کچھ کامیابیاں حاصل کیں ہیں وہ سب ترقی یافتہ ممالک سے شانہ بشانہ رہی ہیں۔ کیرلا کی سماجی ترقی کو کیرلا نمونہ کے نام پر غیر ممالک کے سماجی اور سیاسی ماہرین نے موضوعِ بحث بنایا ہے۔[5]

بھارت کی پہلی مسجد[ترمیم]

چیرامن مسجد

کیرلا کے گاؤں کوڈنگلور میں واقع چیرامن مسجد، بھارت کی پہلی مسجد اور دنیا کی دوسری مسجد جہاں پر جمعہ کی نماز باجماعت پڑھی گئی۔

کیرالا کا وجہ تسمیہ[ترمیم]

عالمی تاریخوں میں ناریل کے درختوں سے بھرا صاف اور شفاف آب و ہوا والا ایک دیس کا تذکرہ ملتا ہے وہ کیرالا ہے۔ ماہرِ تاریخِ کیرالا سید محمد لکھتے ہیں کہ کیرالا بہت قدیم نام ہے۔ اس لفظ کا منبع قدیم تمل زبان ہے اور سنسکرت اور پالی میں یہ لفظ 'چیرن' تھا وہی کیرالا ہو گیا۔ بعض لوگ اس بات کے بھی قائل ہیں کہ اس کو کیرالا اس وجہ سے کہا جاتا ہے کہ یہ چیرمال کی سلطنت تھی۔[6] اور ایک گروہ اس بات کے بھی قائل ہے کہ یہاں کی خوبصورت آب و ہوا اور دولت کی ریل پیل دیکھ کر اہلِ عرب نے اس کو خیر اللہ نام دیا، پھر تبدیل ہوکر کیرالا ہو گیا ۔[7]

قدیم کیرالا[ترمیم]

انیسویں صدی عیسوی کے صوبۂ مدراس کا نقشہ جس میں موجودہ کیرلا کے علاقے ٹراونکور، کوچی اور ملابار دکھائے گئے ہیں

سرزمینِ کیرالا سیاحوں اور زائروں کے لیے قابلِ کشش رہی ہے۔ ماضی میں یہاں چھوت چھات کی جڑیں بہت مضبوط تھیں۔ کیرالا کے لوگ اونچے طبقے اور نیچے طبقے پر بٹے ہوئے تھے۔ لیکن بعد میں 20 ویں صدی کے اوائل میں نشاتِ ثانیہ کے رہنماؤں نے اس طبقہ پرستی سے کیرالا کو نجات دلائی۔

کیرلا کے اضلاع[ترمیم]

کیرلا کی کثافتِ آبادی بلحاظِ اضلاع

کیرلا کے 14 اضلاع ہیں۔

  1. ترواننتپورم
  2. کولم
  3. پَتّانم تِٹّا
  4. آلاپوژا
  5. کوٹائم
  6. ایڈوکی
  7. ایرناکولم
  8. تریشور
  9. پالاکاڈ
  10. ملاپورم
  11. کوژیکوڈ
  12. وایاناڈ
  13. کنور
  14. کاسرگوڈ

موسم[ترمیم]

کیرلا کا جغرافیہ

کیرلا چونکہ خط استوا سے بہت قریب ہے اس لیے یہاں گرمسیری موسم کا امکان ہونا تھا۔ لیکن بحیرہ عرب اور مغربی گھاٹ کی قربت کی وجہ سے یہاں متوسط سرد و گرم موسم ہوتا ہے۔

آب ہوا معلومات برائے کیرلا
مہینا جنوری فروری مارچ اپریل مئی جون جولائی اگست ستمبر اکتوبر نومبر دسمبر سال
اوسط بلند °س (°ف) 28.0
(82.4)
30
(86)
31
(88)
32
(90)
34
(93)
34
(93)
30
(86)
29
(84)
29
(84)
30
(86)
30
(86)
31
(88)
34
(93)
اوسط کم °س (°ف) 22
(72)
23
(73)
24
(75)
25
(77)
25
(77)
24
(75)
23
(73)
23
(73)
23
(73)
23
(73)
23
(73)
22
(72)
22
(72)
اوسط بارش مم (انچ) 8.7
(0.343)
14.7
(0.579)
30.4
(1.197)
109.5
(4.311)
239.8
(9.441)
649.8
(25.583)
726.1
(28.587)
419.5
(16.516)
244.2
(9.614)
292.3
(11.508)
150.9
(5.941)
37.5
(1.476)
2,923.4
(115.096)
ماخذ: [9][10]

زبان[ترمیم]




Circle frame.svg

کیرلا کی زبانیں (2001ء میں)[11]

  ملیالم (96.74%)
  تمل (1.87%)
  دیگر (1.39%)

کیرلا میں عام رابطہ کی زبان ملیالم ہے۔ یہ ایک دراوڑی زبان ہے۔ ملیالم اور انگریزی سرکاری زبانیں ہیں، لیکن ملیالم کو زیادہ ترجیح دی جاتی ہے۔ ان کے علاوہ دوسری زبانیں بولنے والے بھی ہیں۔ ان میں تمل اور اردو اہم ہیں۔ کیرلا کے شمالی ضلع کاسرگوڈ میں ملیالم کے ساتھ ساتھ تلو، کونکنی اور کنڑ بولنے والے بھی موجود ہیں۔

مذاہب[ترمیم]

کیرالا کے مذاہب[12]
مذہب فیصد
ہندو
  
56.2%
اسلام
  
24.7%
مسیحی
  
19.0%
دیگر
  
0.1%
ضلع آبادی ہندو (فیصد) مسلمان (فیصد) مسیحی (فیصد)
ترواننت پورم 3,307,284 65.19% 13.37% 21.44%
کولم 2,629,703 61.23% 19.41% 19.36%
پَتّانم تِٹّا 1,195,537 46.35% 4.58% 49.07%
آلاپوژا 2,121,943 66.16% 9.88% 23.96%
کوٹائم 1,979,274 43.37% 5.98% 51.65%
ایڈوکی 1,107,453 45.24% 7.20% 47.56%
ایرناکولم 3,279,860 43.59% 14.57% 41.84%
تریشور 3,110,327 55.31% 16.45% 28.24%
پالاکاڈ 2,810,892 66.92% 26.90% 6.18%
ملاپورم 4,110,956 28.44% 66.84% 4.72%
کوژیکوڈ 3,089,543 55.04% 37.53% 7.43%
ویاناڈ 816,558 49.44% 26.72% 23.57%
کنور 2,525,637 59.51% 27.65% 12.84%
کاسرگوڈ 1,302,600 55.61% 34.33% 10.06%

ندیاں[ترمیم]

کیرلا میں 44 ندیاں ہیں۔ ان میں 41 ندیاں مشرق سے نکل مغرب کی طرف بہتی ہیں۔ اور 3 ندیاں مشرق کی طرف بہہ کر دریائے کاویری میں جا ملتی ہیں۔ ان کے علاوہ 15 کلومیٹر سے کم لمبی ندیاں بھی بہت ہیں۔ کیرلا کا سب سے بڑا دریا پیریار ہے۔ پرانے زمانے میں کیرلا میں آمد و رفت دریا پر منحصر تھی۔ یہاں آبپاشی اور ماہی گیری کے علاوہ بجلی بھی دریاؤں پر انحصار کرتی ہے۔

حیوانات و نباتات[ترمیم]

علامات کیرلا[13][14]
جانورGuruvayoor Kesavan Statue.jpg بھارتی ہاتھی
پرندہവേഴാമ്പൽ-ബന്നാർക്കട്ട-പാർക്ക്.JPG ابو قرن
مچھلیKarimean.jpg کاشمیرا
پھولKonnamaram.JPG املتاس
درختCoconut tree climbing DSCN0345.jpg ناریل
برہمنی باز
تتلی

سیاحت[ترمیم]

مونار، کیرلا کا ایک پہاڑی مستقر

آج کل کیرلا بھارت کا اہم سیاحتی مرکز بن گیا ہے۔ سال 2006ء میں 85 لاکھ سیاح کیرلا میں آئے۔ پچھلے سال کے مقابلے میں %24 کا اضافہ ہوا ہے۔[15] یہاں کے پہاڑی مقامات، سواحل اور جنگلات سیاحوں کے لیے پسندیدہ اور دلچسپ بن گئے۔

پہاڑی مستقرات[ترمیم]

ورکلا ساحل

سرکاری نشانات[ترمیم]

تصاویر[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. Census of India, 2011. Census Data Online, Population.
  2. "India Human Development Report 2011: Towards Social Inclusion" (PDF)۔ Institute of Applied Manpower Research, Planning Commission, حکومت ہند۔ اخذ شدہ بتاریخ 17 October 2012۔ نادرست |=مردہ ربط (معاونت)
  3. http://www.censusindia.gov.in/2011-prov-results/paper2/data_files/kerala/9-litercy-26-30.pdf
  4. ٹراولر میگزین میں کیرلا کے بارے میں۔ اخذ کردہ تاریخ 2007 مارچ 24
  5. http://www.ashanet.org/library/articles/kerala.199803.html
  6. the book:Kerala Muslim Charithram
  7. refer the Book:Muslim and Kerala Civilization
  8. "Kerala"۔ Office of the Registrar General and Census Commissioner۔ مورخہ 7 جنوری 2019 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 2008-07-23۔ نادرست |=مردہ ربط (معاونت)
  9. "Commissioner Linguistic Minorities (originally from Indian Census, 2001)"۔ مورخہ 8 October 2007 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ نادرست |=مردہ ربط (معاونت)
  10. "Kerala Symbols"۔ Public Relations Dept, Kerala۔ مورخہ 7 جنوری 2019 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 30 May 2015۔ نادرست |=مردہ ربط (معاونت)
  11. "KarimeenVarsham"۔ web.archive.org۔ مورخہ 7 جنوری 2019 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 24 September 2014۔ نادرست |=مردہ ربط (معاونت)
  12. http://www.keralatourism.org/tourismstatistics/TS2006.pdf

بیرونی روابط[ترمیم]