کیرلا

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
کیرالا
کیرلم
—  ریاست  —
شہر ترواننت پورم کا نظارہ

پرچم

Coat of arms
عرفیت: en:God's Own Country
بھارت میں کیرالا کا وقوع
ریاست کیرالا کا نقشہ
متناسقات (ترواننت پورم): 8°30′27″N 76°58′19″E / 8.5074°N 76.972°E / 8.5074; 76.972متناسقات: 8°30′27″N 76°58′19″E / 8.5074°N 76.972°E / 8.5074; 76.972
ملک Flag of India.svg بھارت
قائم 1 نومبر 1956ء
پایۂ تخت ترواننت پورم
اضلاع 14
حکومت
 - گورنر پی سدا شی وم
 - وزیرِ اعلیٰ اومن چنڈی
 - قانون ساز مجلس یک مجلسی (141 نشستیں)
 - پارلیمانی حلقہ 2
 - عدالتِ عالیہ کیرالا عدالتِ عالیہ
رقبہ
 - کُل 38,863 کلومیٹر2 (15,005.1 میل2)
درجہ بلحاظ رقبہ 21 واں
آبادی (2011ء)[1]
 - کُل 33,387,677
 - درجہ 12 واں
 کثافتِ آبادی 819/کلومیٹر2 (2,121.2/میل2)
نام آبادی کیرالائی ، ملیالی
منطقۂ وقت بھارتی معیاری وقت (یو ٹی سی+05:30)
آیزو 3166 رمز IN-KL
انسانی ترقیاتی اشاریہ Increase2.svg 0.920[2] (very high)
درجہ 7واں (2011ء)
خواندگی 93.91% (بھارت میں اوّل)[3]
زبانیں ملیالم ، تَمِل ، کنّڑا ، اردو ، تُلو
دفتری زبانیں ملیالم
ویب سائٹ kerala.gov.in


کیرلا کا ٹوپوگرافی نقشہ۔

کیرالا (Kerala) بھارت کی ایک ریاست ہے جو دکن کے جنوبی حصہ میں واقع ہے۔ اس کا دارالحکومت تریوینڈرم ہے۔ اس ریاست کی زبان ملیالم ہے۔ یہاں کے باشندوں کو ملیالی کہتے ہیں۔ اس ریاست کی مسلم آبادی میں بیشتر موپلاہ قوم کے لوگ ہیں۔

جغرافیہ[ترمیم]

کیرلا کے مشرق میں ریاستِ تمل ناڈو، شمالی مشرق میں ریاستِ کرناٹک اور مغرب میں بحیرہ عرب ہیں۔ کیرلا متنوع خِطّوں سے مالامال ہے۔ سیاحی جرید ہ نیشنل جیوگریفک ٹراول میگزین کے مطا بق دنیا میں سیاحت کے لائق 50 مقامات کی فہرست میں کیرلا کا نام بھی ہے۔[4] کیرلا کا کل رقبہ 38,863 مربع کلومیٹر ہے۔ یہ بھارت کے کل رقبے کا %1.8 ہے۔

تاریخ[ترمیم]

سن 1950ء میں کیرلا بہت پسماندہ تھا۔ لیکن پچھلے پچاس سالوں میں یہاں انقلابانہ تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں۔ اس کی وجہ تعلیم اور جدیدیت کے اثرات ہیں۔ خواندگی اور صحت وغیرہ میں جو کچھ کامیابیاں حاصل کیں ہیں وہ سب ترقی یافتہ ممالک سے شانہ بشانہ رہی ہیں۔ کیرلا کی سماجی ترقی کو کیرلا نمونہ کے نام پر غیر ممالک کے سماجی اور سیاسی ماہرین نے موضوعِ بحث بنایا ہے۔[5]

بھارت کی پہلی مسجد[ترمیم]

چیرامن مسجد

کیرلا کے گاؤں کوڈنگلور میں واقع چیرامن مسجد، بھارت کی پہلی مسجد اور دنیا کی دوسری مسجد جہاں پر جمعہ کی نماز باجماعت پڑھی گئی۔

کیرالا کا وجۂ تسمیہ[ترمیم]

عالمی تاریخوں میں ناریل کے درختوں سے بھرا صاف اور شفاف آب و ہوا والا ایک دیس کا تذکرہ ملتا ہے وہ کیرالا ہے۔ ماہرِ تاریخِ کیرالا سید محمد لکھتے ہیں کہ کیرالا بہت قدیم نام ہے۔ اس لفظ کا منبع قدیم تمل زبان ہے اور سنسکرت اور پالی میں یہ لفظ 'چیرن' تھا وہی کیرالا ہو گیا۔ بعض لوگ اس بات کے بھی قائل ہیں کہ اس کو کیرالا اس وجہ سے کہا جاتا ہے کہ یہ چیرمال کی سلطنت تھی[6] ۔ اور ایک گروہ اس بات کے بھی قائل ہے کہ یہاں کے خوبصورت آب و ہوا اور دولت کی ریل پیل دیکھ کر اہلِ عرب نے اس کو خیر اللہ نام دیا ، پھر تبدیل ہوکر کیرالا ہو گیا [7]۔

قدیم کیرالا[ترمیم]

انیسویں صدی عیسوی کے صوبۂ مدراس کا نقشہ جس میں موجودہ کیرلا کے علاقے ٹراونکور، کوچی اور ملابار دکھائے گئے ہیں

سرزمینِ کیرالا سیاحوں اور زائروں کے لئے قابلِ کشش رہی ہے۔ ماضی میں یہاں چھوت چھات کی جڑیں بہت مضبوط تھیں۔ کیرالا کے لوگ اونچے طبقے اور نیچے طبقے پر بٹے ہوئے تھے۔ لیکن بعد میں 20 ویں صدی کے اوائل میں نشاتِ ثانیہ کے رہنماؤں نے اس طبقہ پرستی سے کیرالا کو نجات دلائی۔

کیرلا کے اضلاع[ترمیم]

Crystal Clear app kdict.png تفصیلی مضمون کے لئے ملاحظہ کریں: کیرلا کے اضلاع

کیرلا کی کثافتِ آبادی بلحاظِ اضلاع

کیرلا کے 14 اضلاع ہیں۔

  1. ترواننتپورم
  2. کولم
  3. پَتّانم تِٹّا
  4. آلاپوژا
  5. کوٹائم
  6. ایڈوکی
  7. ایرناکولم
  8. تریشور
  9. پالاکاڈ
  10. ملاپورم
  11. کوژیکوڈ
  12. وایاناڈ
  13. کنور
  14. کاسرگوڈ

موسم[ترمیم]

کیرلا کا جغرافیہ

کیرلا چونکہ خط استوا سے بہت قریب ہے اس لئے یہاں گرمسیری موسم کا امکان ہونا تھا۔ لیکن بحیرہ عرب اور مغربی گھاٹ کی قربت کی وجہ سے یہاں متوسط سرد و گرم موسم ہوتا ہے۔

کیرلا کا موسم
مہینہ جنوری فروری مارچ اپریل مئی جون جولائی اگست ستمبر اکتوبر نومبر دسمبر سال
اوسطاً بلند سینٹی گریڈ (فارنہائیٹ) 28.0
(82.4)
30
(86)
31
(88)
32
(90)
34
(93)
34
(93)
30
(86)
29
(84)
29
(84)
30
(86)
30
(86)
31
(88)
34
(93)
اوسطاً کم سینٹی گریڈ (فارنہائیٹ) 22
(72)
23
(73)
24
(75)
25
(77)
25
(77)
24
(75)
23
(73)
23
(73)
23
(73)
23
(73)
23
(73)
22
(72)
22
(72)
بارش م م (انچ) 8.7
(0.343)
14.7
(0.579)
30.4
(1.197)
109.5
(4.311)
239.8
(9.441)
649.8
(25.583)
726.1
(28.587)
419.5
(16.516)
244.2
(9.614)
292.3
(11.508)
150.9
(5.941)
37.5
(1.476)
2,923.4
(115.094)
ماخذ: [9][10]


زبان[ترمیم]




Circle frame.svg

کیرلا کی زبانیں (2001ء میں)[11]      ملیالم (96.74%)     تمل (1.87%)     دیگر (1.39%)

کیرلا میں عام رابطہ کی زبان ملیالم ہے۔ یہ ایک دراوڑی زبان ہے۔ ملیالم اور انگریزی سرکاری زبانیں ہیں، لیکن ملیالم کو زیادہ ترجیح دی جاتی ہے۔ ان کے علاوہ دوسری زبانیں بولنے والے بھی ہیں۔ ان میں تمل اور اردو اہم ہیں۔ کیرلا کے جنوبی ضلع کاسرگوڈ میں ملیالم کے ساتھ ساتھ تلو، کونکنی اور کنڑ بولنے والے بھی موجود ہیں۔

مذاہب[ترمیم]

کیرالا کے مذاہب[12]
مذہب فیصد
ہندو
  
56.2%
اسلام
  
24.7%
عیسائی
  
19.0%
دیگر
  
0.1%
ضلع آبادی ہندو (فیصد) مسلمان (فیصد) عیسائی (فیصد)
ترواننت پورم 3,307,284 65.19% 13.37% 21.44%
کولم 2,629,703 61.23% 19.41% 19.36%
پَتّانم تِٹّا 1,195,537 46.35% 4.58% 49.07%
آلاپوژا 2,121,943 66.16% 9.88% 23.96%
کوٹائم 1,979,274 43.37% 5.98% 51.65%
ایڈوکی 1,107,453 45.24% 7.20% 47.56%
ایرناکولم 3,279,860 43.59% 14.57% 41.84%
تریشور 3,110,327 55.31% 16.45% 28.24%
پالاکاڈ 2,810,892 66.92% 26.90% 6.18%
ملاپورم 4,110,956 28.44% 66.84% 4.72%
کوژیکوڈ 3,089,543 55.04% 37.53% 7.43%
ویاناڈ 816,558 49.44% 26.72% 23.57%
کنور 2,525,637 59.51% 27.65% 12.84%
کاسرگوڈ 1,302,600 55.61% 34.33% 10.06%

ندیاں[ترمیم]

کیرلا میں 44 ندیاں ہیں۔ ان میں 41 ندیاں مشرق سے نکل مغرب کی طرف بہتی ہیں۔ اور 3 ندیاں مشرق کی طرف بہہ کر دریائے کاویری میں جا ملتی ہیں۔ ان کے علاوہ 15 کلومیٹر سے کم لمبی ندیاں بھی بہت ہیں۔ کیرلا کا سب سے بڑا دریا پیریار ہے۔ پرانے زمانے میں کیرلا میں آمد و رفت دریا پر منحصر تھی۔ یہاں آبپاشی اور ماہی گیری کے علاوہ بجلی بھی دریاؤں پر انحصار کرتی ہے۔

حیوانات و نباتات[ترمیم]

علامات کیرلا[13][14]
جانور Guruvayoor Kesavan Statue.jpg بھارتی ہاتھی
پرندہ വേഴാമ്പൽ-ബന്നാർക്കട്ട-പാർക്ക്.JPG ابو قرن
مچھلی Karimean.jpg کاشمیرا
پھول Konnamaram.JPG املتاس
درخت Coconut tree climbing DSCN0345.jpg ناریل
برہمنی باز
تتلی

سیاحت[ترمیم]

مونار، کیرلا کا ایک پہاڑی مستقر

آجکل کیرلا بھارت کا اہم سیاحتی مرکز بن گیا ہے۔ سال 2006ء میں 85 لاکھ سیاح کیرلا میں آئے۔ پچھلے سال کے مقابلے میں %24 کا اضافہ ہوا ہے۔ [15] یہاں کے پہاڑی مقامات، سواحل اور جنگلات سیاحوں کے لئے پسندیدہ اور دلچسپ بن گئے۔

پہاڑی مستقرات[ترمیم]

ورکلا ساحل

سرکاری نشانات[ترمیم]

تصاویر[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ Census of India, 2011. Census Data Online, Population.
  2. ^ "India Human Development Report 2011: Towards Social Inclusion". Institute of Applied Manpower Research, Planning Commission, Government of India. http://www.pratirodh.com/pdf/human_development_report2011.pdf۔ اخذ کردہ بتاریخ 17 October 2012.
  3. ^ http://www.censusindia.gov.in/2011-prov-results/paper2/data_files/kerala/9-litercy-26-30.pdf
  4. ^ ٹراولر میگزین میں کیرلا کے بارے میں۔ اخذ کردہ تاریخ 2007 مارچ 24
  5. ^ http://www.ashanet.org/library/articles/kerala.199803.html
  6. ^ the book:Kerala Muslim Charithram
  7. ^ refer the Book:Muslim and Kerala Civilization
  8. ^ "Kerala". Office of the Registrar General and Census Commissioner. 2007-03-18. http://www.citypopulation.de/India-Kerala.html۔ اخذ کردہ بتاریخ 2008-07-23.
  9. ^ خطا در حوالہ: غلط <ref> ٹیگ؛ حوالہ بنام IMD کے لیے کوئی متن فراہم نہیں کیا گیا
  10. ^ خطا در حوالہ: غلط <ref> ٹیگ؛ حوالہ بنام moef کے لیے کوئی متن فراہم نہیں کیا گیا
  11. ^ "Commissioner Linguistic Minorities (originally from Indian Census, 2001)". archived پر 8 October 2007۔ خطا: حوالہ جاتی سانچہ کے استعمال کے دوران If you specify |archivedate=، you must also specify |archiveurl= . http://web.archive.org/web/20071008113359/http://nclm.nic.in/shared/linkimages/35.htm.
  12. ^ خطا در حوالہ: غلط <ref> ٹیگ؛ حوالہ بنام censusindia1 کے لیے کوئی متن فراہم نہیں کیا گیا
  13. ^ "Kerala Symbols". Public Relations Dept, Kerala. http://www.prd.kerala.gov.in/symbols.htm۔ اخذ کردہ بتاریخ 30 May 2015.
  14. ^ "KarimeenVarsham". web.archive.org. http://web.archive.org/http://www.fisheries.kerala.gov.in/index.php?option=com_content&view=article&id=85:karimeenvarsham&catid=41:inland-fisheries&Itemid=45۔ اخذ کردہ بتاریخ 24 September 2014.
  15. ^ http://www.keralatourism.org/tourismstatistics/TS2006.pdf

بیرونی روابط[ترمیم]