کیرول کوئیگلی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش

کیرول کوئیگلی Carroll Quigley ایک امریکی تاریخ دان ہے جو جورج ٹاون یونیورسٹی میں پروفیسر تھا۔ وہ اپنے تدریسی کام کی وجہ سے مشہور ہے۔ اس نے خفیہ گروہوں (secret societies) پر بھی تحقیق کی تھی۔ اسکی 1975 میں چھپی ایک کتاب Tragedy and Hope بڑی مشہور ہوئی۔

کیرول کوئیگلی
پیدائش 9 نومبر 1910 (1910-11-09)
بوسٹن, Massachusetts
وفات جنوری 3، 1977 (عمر 66 سال)
واشنگٹن, ڈی.سی.
قومیت امریکی
مادر علمی جامعہ ہارورڈ
پیشہ لیکچرار
وجہِ شہرت منسلک جامعہ جورج ٹاون
متاثّر شخصیات Cleon Skousen


Tragedy And Hope[ترمیم]

اپنی اس کتاب میں کوئیگلی 1930 میں بینک فار انٹرنیشنل سیٹلمنٹ کی تشکیل کے بارے میں لکھتا ہے کہ "مالی سرمایہ دار طاقتوں کا ایک دور رس عالمی منصوبہ تھا۔ وہ یہ کہ ایک ایسا عالمی نظام وضع کیا جائے جو نجی ہاتھوں میں ہو اور ہر ملک پر سیاسی غلبہ رکھتا ہو اور ساری دنیا کی معیشت کنٹرول کر سکے۔ یہ نظام جاگیردارانہ طرز پر دنیا بھر کے سنٹرل بینکوں کے کنٹرول میں ہو جو ہم آہنگی سے کام کریں جیسا کہ خفیہ میٹنگ اور کانفرنس میں طے کیا جاتا ہے۔
اس نظام کی چوٹی پر بینک فار انٹرنیشنل سیٹلمنٹ کو ہونا ہے جو بیسل سوئیزرلینڈ میں واقع ہے۔ یہ ایک نجی بینک ہے اور دنیا بھر کے نجی سینٹرل بینک اسکے مالک ہیں اور اسے کنٹرول کرتے ہیں۔
ہر ملک کا سنٹرل بینک اپنے ملک کی حکومت کو قرضہ دینے کی صلاحیت سے، سیاست دانوں پر اثر رسوخ ڈال کر، اور زر مبادلہ اور معیشت پر ہاوی ہونے کی قابلیت سے کنٹرول کر سکتا ہے۔"


شروع میں کچھ امریکی سینیٹروں نے بینک فور انٹرنیشنل سیٹلمنٹ بطور عالمی سینٹرل بینک میں شرکت کی مخالفت کری۔ لیکن فیڈرل ریزرو کے نمائندے میٹنگز میں شرکت کرنے باقاعدگی سے وہاں جاتے رہے۔ 1994 میں امریکہ سرکاری طور پر اس میں شامل ہو گیا۔[1]

اسلحہ اور جمہوریت[ترمیم]

کوئیگلی کا خیال ہے کہ جمہوریت اسی وقت آتی ہے جب بہترین اسلحہ عام لوگوں کی دسترس میں ہوتا ہے۔ تاریخ میں جمہوریت نہ ہونے کی یہی وجہ رہی ہے۔ 1880 تک بہترین اسلحہ بندوق تھی جو عام آدمی بھی خرید سکتا تھا اور اسکا استعمال کرنا سیکھ سکتا تھا۔ اس وقت امریکہ میں شہری سپاہیوں کی فوج ہوا کرتی تھیں۔ اس وقت جمہوریت اصلی تھی۔ لیکن بعد میں جب ٹینک اور بمبار طیارے وجود میں آ گئے تو شہری تربیت یافتہ فوجیوں کا مقابلہ کرنے کے قابل نہ رہے اور اسی وجہ سے جنگ عظیم اول میں اس قدر قتل و غارت گری مچی۔ اسکے بعد آنے والی جمہوریت پر برتر اسلحے کا سایہ تھا۔


مزید دیکھیئے[ترمیم]



حوالے[ترمیم]

  1. ^ The History of the Money Changers.