کیسانیہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

کیسانیہ اہل تشیع کے ایک ایسے فرقہ کا نام ہے جو پہلی صدی ہجری کے پچاس سال بعد شیعوں کے درمیان پیدا ہوا اور تقریباً ایک صدی تک چلتا رہا پھر بالکل ختم ہو گیا۔ لیکن اس کے بہت سے عقائد و نظریات کو باقی فرقوں نے اپنا لیا۔

محمد حنفیہ بن علی بن ابی طالب کی امامت[ترمیم]

یہ گروہ ”محمد ابن حنفیہ “(حضرت علی کے بیٹے) کی امامت کا عقیدہ رکھتا تھا اور انہیں امیر المومنین ،امام حسن اور امام حسین کے بعد چوتھا امام گمان کرتا تھا۔ ”محمد حنفیہ “حضرت امیر المومنین کے فرزند ارجمند تھے اور حضرت کی ان پر خاص توجہ ہوا کرتی تھی ان کی شہرت ”حنفیہ“اس جہت سے ہے کہ ان کی ماں کا تعلق ”خولہ“ ”بنی حنیفہ“ کے قبیلہ سے تھا امیر المومنین نے انہیں آزاد کیا تھا پھر اپنے ساتھ عقد نکاح پڑھا۔

محمد حنفیہ بن علی بن ابی طالب اور شفقت پدر[ترمیم]

اعوان قبیلہ کے جدِ اعلیٰ حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کے فرزند اور بازوئے شمشیر زن امام محمد ابن حنفیہ المعروف امام حنیف ؓہیں جو شہادت امام حسین رضی اللہ تعالی عنہہ کے بعد حضرت زین العابدین کی گوشہ نشینی کے سبب منصب امامت پر فائز ہوئے اور جنہوں نے قاتلانِ حسین ؓسے انتقام لینے کے لیے تحریک چلائی جس کے نتیجے میں قاتلانِ حسین ؓکیفر کردار کو پہنچے اور ابن زیاد اور شمر کے سر حضرت زین العابدین ؓکی بارگاہ میں لائے گئے۔ امام حنیف ؓکے فرزند ارجمند حضرت عبد اللہ ہاشم ایک نادرہ روزگار ہستی تھے۔ اُ ن کی شخصیت اتنی پر کشش اور اُ ن کی گفتگو میں اتنی دلآویزی تھی کہ جو بھی ان سے ایک بار ملتا اُن کا گرویدہ ہو جاتا حتی کہ اُ ن کی اس شہرت کے پیشِ نظر اُس وقت کے اموی خلیفہ نے ان سے دمشق میں ملاقات کی اور کئی روز تک اُ ن کو مہمان رکھا لیکن جب حضرت عبد اللہ ہاشم نے مدینہ کی جانب واپسی اختیار کی تو اُ ن کے ساتھ خفیہ طور پر اپنے ایک خاص آدمی کو لگا دیا جس نے ایک منزل پر بے پناہ عقیدت مندی اور لجاجت سے حضرت عبد اللہ ہاشم کو شربت کا گلاس پیش کیا جسے پی کر آپ جاں بحق ہو گئے اور چونکہ آپ کی کوئی اولاد نہ تھی۔ لہذا امامت کا منصب آپ کے بھتیجے کیطرف منتقل ہو گیا۔ ابومسلم خراسانی نے جب علویوں کے نام پر علم بغاوت بلند کرکے بنی امیہ کو شکست فاش دی تو علویوں کی بجائے عباسیوں نے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے چچا حضرت عباس ؓکی اولاد تھے تختِ خلافت پرقبضہ کر لیا۔ علویوں کے احتجاج نے شدت پکڑی توعباسی قتل و غارت پر اتر آئے اور علویوں کو مجبوراً عرب اور عراق کی سرزمین کو چھوڑنا پڑ ا اور یہ لوگ ایران اور افغانستان کی طرف بڑھ گئے۔ حضرت امام حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی اولاد نے بخارا ہمدان اور مشہد وغیرہ کو اپنا مستقر بنایا اور اسی لیے آج بھی سادات حضرات کے نام کے ساتھ بخاری ،ھمدانی اور مشہدی سادات کا لاحقہ موجود ہے۔ امام محمد ابن حنفیہ ؓ کی اولاد نے ہرات کے قلعہ پر قبضہ کر لیااور بعد میں جب سلطان محمود غزنوی نے ھندوستان  پر حملے کیے تو یہی حضرات سلطان کے لشکر کے مدارالمہام اور سپہ سالار تھے اور سلطان ہی نے ان کو اعوان بمعنی مددگار کا لقب دیا اور یہ لقب تاریخ میں ایسا مشہور ہوا کہ آج تک یہ لوگ اعوان ہی کہلاتے ہیں۔ یاد رہے کہ اُ ن وقتوں میں اعوان حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کی اولاد ہونے کی وجہ سے حد درجہ احترام کی نظر سے دیکھے جاتے تھے اوربادشاہ ان سے تعلق قائم کرنے کو باعثِ فخر و مباہات اور باعثِ برکت سمجھتے تھے۔ چنانچہ سلطان کے ھندوستان پر حملوں کے دوران سالار ساھو اعوان سلطانی لشکر کے سپہ سالار اعظم تھے۔ سالارمسعود غازی جو سومنات کے حملے کے دوران بھڑوچ میں شہید ہوئے وہ سالار ساہو کے بیٹے تھے۔ محمد تغلق نے اس جوانسال شہید کی قبر پر ایک عالیشان مقبرہ تعمیر کرایا اور ان علاقوں میں سالار مسعود غازی کی وہی قدر و منزلت ہے جو پنجاب میں حضرت داتا گنج بخش ھجویری علیہ الرحمتہ کی ہے وہاں زیارت کے لیے لوگوں کا اژدھام رہتا ہے۔ ہر سال بہت بڑا عرس ہوتا ہے اور چونکہ جناب سالار کنوارے شہید ہوئے تھے لہذا اس مناسبت سے سوانگ  بھرے جاتے ہیں۔ اس صدی کے اوائل تک پنجاب کے شہر لاہور میں ہر سال سالار مسعود غازی ؓکے نام کے کونڈے پکائے جاتے تھے پھر رفتہ رفتہ یہ رسم ختم ہو گئی۔ سلطان محمود غزنوی کی ہندوستان سے واپسی پر حضرت قطب شاہ ؓ جو سالار ساہو کے بھائی تھے نے سلطان سے اسی سرزمین میں دینِ اسلام کی تبلیغ کی غرض سے اجازت مانگ لی اور کالا باغ میں قیام کیا لیکن ارد گرد کے ھندو راجاؤں نے حملہ کر دیا۔ لڑائی میں حضرت قطب شاہ ؒ کو فتح ہوئی اور دین اسلام کی شمع روشن کرنے میں مصروف ہو گئے۔ ان کے فرزند گوہر شاہ المعروف گورڑا نے علاقہ سون سکیسر کا رخ کیا اور جس مقام سے وادی سون میں داخل ہوا اسے آج تک دادا گورڑا کہا جاتا ہے۔ حضرت امیر المومنین اپنے اس فرزند ارجمند سے بہت زیادہ محبت کرتے تھے اور ان کے متعلق تحسین آمیز کلمات فرمائے کہ منجملہ ان میں سے حضرت کی یہ تعبیر مشہور ہے کہ فرمایا: ”انّ المحامدة تاٴبی ان یعصی اللّہ “ ”محمد لوگ اجازت نہیں دیتے کہ خدا کی نا فرمانی ہو“۔ راوی نے دریافت کیا :”یہ محمد لوگ کون ہیں؟“ فرمایا: محمد بن جعفر، محمد بن ابی بکر ،محمد بن ابی حذیفہ اور محمد بن امیر المومنین۔ علامہ مامقانی معتقد ہیں کہ حضرت امیر المومنین کا یہ قول محمد حنفیہ کی وثاقت و عدالت پر دلالت کرتا ہے ،اس لیے کہ جب تک وہ اجازت نہ دیں تب تک دوسرا شخص خدا کی نا فرمانی نہیں کر سکتا تو پھر وہ خود بغیر کسی شک و شبہ کے خدا کی نا فرمانی نہیں کریں گے۔ جنگ جمل میں جناب محمد حنفیہ ،بہت ممتاز موقعیت و منصب کے حامل تھے، فتح و ظفر کا پرچم ان کے با وفا ہاتھوں میں تھا ،بے مثال شجاعت و صلابت کے ساتھ دشمن کو پیچھے بھگایا، صفوں کو درہم برہم کیااور بہترین امتحان دیا۔ جب حضرت امیر المومنین نے سپاہِ اسلام کے پرافتخار پرچم کو محمد حنفیہ کے ہاتھ میں دیا تو انہیں خطاب کر کے ایک قابل توجہ خطبہ ارشاد فرمایا اور اس میں فنون جنگ کے گراں قدر نکات کی یاد آوری کی۔ خزیمہ بن ثابت، محمد حنفیہ کی حمد و ثنا کی غرض سے امیر المومنین کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی: ”اگر آج پرچم اسلام دوسرے شخص کے ہاتھ میں ہوتا ،تو رسوائی نصیب ہوتی۔“ اسی جنگ میں محمد حنفیہ سے دریافت کیا گیا تھا۔ ”کیسے سخت اور ہولناک حالات میں تمہارے باپ تمہیں خطرے کے منھ میں ڈال رہے ہیں اور تمہارے بھائی حسن و حسین علیہما السلام کو ہرگز ان موقعوں پر میدان جنگ میں نہیں بھیجتے؟“ محمد حنفیہ نے بہت لطیف تعبیر کے ساتھ جواب دیا تھا:

”حسن و حسین علیہما السلام میرے والد گرامی کی آنکھوں کے تارے ہیں اور میں ان کا قوی ترین بازو ہوں میرے باپ اپنے ہاتھوں سے اپنی آنکھوں کے تاروں کی حفاظت کرتے ہیں ۔“

محمد حنفیہ بن علی بن ابی طالب اور امیر مختار[ترمیم]

امام حسین کی شہادت کے بعد ،ایک گروہ ان کی امامت کا معتقد ہوا اور سب سے پہلے ”امیر مختار “ کی مرکزیت پراعتماد کرتا تھا اور لوگوں سے ان کے نام پر بیعت لیتا تھا۔ لیکن محمد حنفیہ ان کے اس کام سے راضی نہیں تھے اور ان کے اس کام کی کبھی بھی تصدیق و تائید نہیں کی۔ جب امیر مختار نے اپنی کارکردگی کی رپورٹ محمد حنفیہکی خدمت میں تحریر کی تو جناب محمد حنفیہ نے جواب نامہ میں یوں اظہار کیا:

”رحم اللّہ من کفّ یدہ و لسانہ و جلس فی بیتہ ،فانّ ذنوب بنی امیة اسرع الیہم من سیوف المسلمین “۔ ”خدا اس شخص پر اپنی رحمت نازل کرے جو اپنے ہاتھ اور زبان کو محفوظ رکھے اور اپنے گھر میں بیٹھے، اس لیے کہ بنی امیہ کے تمام گناہ مسلمانوں کی تلواروں سے پہلے اس کی طرف تیزی سے آتے ہیں“۔

جو افراد کوفہ سے آتے تھے اور کوفہ کے حالات کی تفصیل ان کے لیے بیان کرتے تھے تو کہتے تھے: ”میں خوش حال ہوں کہ اللہ تعالیٰ ظالموں سے ہمارا انتقام لے ،لیکن میں راضی نہیں ہوں کہ تمام دنیا کا حاکم رہوں اور ایک بے گناہ انسان کا خون میری وجہ سے بہایا جائے“ ۔

محمد حنفیہ نے امیر مختار کو اس کام سے صریحی طور پر منع نہیں کیا ہے۔ لیکن کمال صراحت کے ساتھ ان سے کہا:

”میں ہرگز جنگ اور خون ریزی کا حکم نہیں دیتا “۔

اور جب اس بات سے با خبر ہوئے کہ امیر مختار نے یہ اظہار کیا ہے کہ ان کی طرف سے بھیجے گئے ہیں تو ان سے نفرت و بیزاری اختیار کی۔ یہاں تک کہ بعض نقل تاریخ کی بنا پر ان پر لعنت بھیجنے کے لیے زبان کھولی۔ لیکن جب محمد حنفیہ عبد اللہ ابن زبیر کی طرف سے زمزم کے کنویں پر مقید تھے توامیر مختار کو پیغام دیا،اور امیر مختار نے چار ہزار لوگوں کو ان کی مدد کے لیے بھیجا اور انہیں اور ان کے ساتھیوں کو قید سے آزاد کرایا۔ زہری کا بیان ہے :

”محمد لوگوں میں سب سے زیادہ عقل مند، بہادر اور فتنوں سے دور تھے نیز جن چیزوں سے لوگ دل لگائے ہوئے تھے وہ ان سے پ رہی ز کرتے تھے۔ جس وقت ان کے کسی چاہنے والے نے ان کو ”یا مہدی“ کے عنوان سے خطاب کیا تو وہ اس عنوان سے خوش نہیں ہوئے اور اس سے کہا:

”ہاں! میں ہدایت یافتہ ہوں اور نیکیوں کی طرف ہدایت کرتا ہوں ،لیکن میرا نام محمد اور کنیت ابو القاسم ہے ،جب مجھے آواز دو تو مجھے ان دوناموں سے پکارا کرو۔“

بادشاہ روم نے عبد الملک کو تہدید آمیز اورخوفناک خط لکھا،عبد الملک نے حجاج سے کہا کہ اس طرح کا ایک تہدید آمیز خط محمد حنفیہ کو لکھو اور اس کا جواب میرے پاس لے آؤ۔ جب محمد حنفیہ کا جواب عبد الملک کے ہاتھ میں پہنچا تو حکم دیا کہ عین اسی جیسا جواب بادشاہ روم کے پاس لکھو: بادشاہ روم نے عبد الملک کے جواب میں لکھا: یہ بات تمہاری اور تمہارے خاندان کی طرف سے صادر نہیں ہوئی ہے، یہ کلام تو خاندان نبوت سے صادر ہوا ہے۔ یہی گفتار کی متانت و لطافت ،نیک رفتار و کردار میں اعتدال پسندی،اس کے علاوہ علم سے سرشار،پُر بار عقل اور دوسری اخلاقی نیکیاں باعث ہوئیں کہ لوگوں کے دل ان کی محبت سے لبریز ہوجائیں اور سب ان کے بہترین معتقد ہو جائیں نیز یہی وجہ تھی کہ امیر مختار خود کو ان سے منسوب کرتے تھے تاکہ لوگوں کے دلوں کو اپنی طرف موڑ سکے ں۔ لیکن جب وہ مختار کی دسیسہ کاریوں سے آگاہ ہو ئے تو ان سے نفرت کا اظہار کیا۔

محمد بن حنفیہ کی وفات[ترمیم]

محمد حنفیہ اگر چہ امام حسین کی شہادت کے بعدبہت سی مشکلوں سے روبرو ہوئے اور حجّاج ،عبد الملک اور عبد اللہ ابن زبیر کی طرف سے انہیں بیعت کی دعوت کے لیے بہت سی تہدید(دہمکی) اور طمع دی گئی انہیں خو ف دلایا ،لیکن اپنی نیک تدبیر سے کسی حد تک ان کے شر سے محفوظ رہے ،یہاں تک کہ آخر میں محرم 81ھئق میں 65 سال کی عمر میں مدینہ طیبہ میں دنیا سے رخصت ہوئے اور قبرستان بقیع میں دفن ہوئے ۔

قبر محمد بن حنفیہ[ترمیم]

محمد حنفیہ کے انتقال کی جگہ کے لیے تین اقوال ہیں: * 1۔ مدینہ * 2۔ طائف* 3۔ ایلہ (مکہ و مدینہ کے درمیان ) * اور چوتھا قول بھی نقل ہوا ہے اور وہ یہ ہے کہ :ان کا انتقال ”رضوی“ کے مقام میں ہوا اور بقیع میں دفن کیا گیا۔

”رضوی“ایک بلند پہاڑ کا نام ہے مدینہ کے قریب جو ”یَنبُع“سے ایک منزل اور مدینہ سے سات منزل کا فاصلہ ہے ،جہاں اونچی اونچی پہاڑوں کی چوٹیاں ہیں، کثرت سے درّے، درخت اور بہت سے صاف و شفاف چشمے پائے جاتے ہیں۔

کیسانیہ فرقے کا اختلاف[ترمیم]

محمد حنفیہ کی رحلت کے بعد،کیسانیہ فرقہ مختلف فرقوں میں تقسیم ہو گیا کہ ان میں سے منجملہ یہ ہے ں :

  • 1۔ سرّاجیّہ”حسّان سرّاج“ کے ماننے والوں نے کہا:

"محمد حنفیہ وفات پا چکے ہیں کوہ رضوی میں مدفون ہیں ،لیکن ایک دن رجعت کریں گے اور دنیا کو عدل و انصاف سے بھر دیں گے۔ "

  • 2۔ کرنبیّہ”ابن کرنب“ کے ماننے والوں نے کہا:

"محمد حنفیہ زندہ ہیں اور کوہ رضوی میں سکونت پزیر ہیں اور بغیر ظہور کیے دنیا سے نہیں جائیں گے ،دنیا کو عدل و انصاف سے بھر دیں گے جس طرح وہ ظلم و ستم سے پُر ہوگی۔ " ان کو اکثر منابع میں ”کربیّہ“ یا ”کریبّیہ“ ذکر کیا گیا ہے ۔

  • 3۔ ہاشمیہ ،”ابو ہاشم عبد اللہ “ کے ماننے والے جو محمد حنفیہ کے بعد ان کے فرزند ”عبد اللہ“ کی امامت کے معتقد ہوئے۔ ہاشمیہ فرقہ بھی ابو ہاشم کی وفات کے بعد مختلف فرقوں میں جیسے :”مختاریّہ“ ”حارثیّہ“”روندیّہ“”بیانیّہ“ وغیرہ میں تقسیم ہو گیا۔

== عقائد== کیسانیہ کی اکثریت اس بات کی معتقد ہے کہ محمد حنفیہ کی وفات نہیں ہوئی ہے بلکہ وہ کوہ رضوی میں مخفی اور غائب ہیں ایک مدت کی غیبت کے بعد آخر میں ظہور کریں گے یعنی "رجعت" اور دنیا کو عدل و انصاف سے بھر دیں گے۔ وہ لوگ اس بات کا اعتقاد رکھتے ہیں کہ محمد حنفیہ وہی مہدی موعود ہیں اور مکہ معظمہ سے ظہور کریں گے۔ وہ لوگ کہتے ہیں:ہر دن صبح و شام محمد حنفیہ کی خدمت میں اونٹ آتے ہیں وہ ان کے دودھ اور گوشت کو کھاتے پیتے ہیں۔

سید اسماعیل حمیری محمد حنفیہ کی مدح میں کیسانیہ کے عقائد کی بنیاد پرنظم کیے وہ انہیں اشعار کے ضمن میں کہتے ہیں :

یا شعب رضوی ما لمن بک لا یری و بنا الیہ من الصّبابة اٴولق حتی متیٰ، و الیٰ متیٰ و کم المدیٰ یا بن الوصیّ واٴنت حیّ ترزق

اے غار رضوی! تمہارے اندر قیام کرنے والا کیسا ہے جو دکھائی نہیں دیتا،جب کہ ہم اس کے عشق میں دیوانے ہو گئے ہیں۔ اے فرزند وصی! کب تک اور کس زمانہ تک اور کتنی مدت تک زندہ رہیں گے اور رزق کھاتے رہیں گے؟

کیسانیہ کے دوسرے مشہور شاعر، ”کُثیّر عَزّہ“ بھی اس سلسلہ میں کہتے ہیں : تغیّب لا یری عنھم زمانا برضوی عندہ عسل و ماء

ایک مدت سے رضوی میں ان لوگوں سے مخفی ہو گئے ہیں لہذا دکھائی نہیں دیتے ان کے پاس پانی اور شہد ہے ۔

مختار ثقفی کا کردار[ترمیم]

مختار ثقفی کے بعد جو کیسانیہ کے بانی کہلاتے تھے،حمیری اور کُثیّر عَزّہ نے رزمیہ شاعری کے با معنی اور بہترین اشعار پیش کر کے کیسانیہ فرقہ کی ترقی میں بہت زیادہ موثر کردار ادا کیا۔ انہوں نے باغ فدک کے تنازع کو لے کر "تبراٰ" اور "لعن طعن" کو خوب رواج دیا۔

وجہ تسمیہ[ترمیم]

اس فرقہ کے ”کیسانیہ “نام کی وجہ تسمیہ میں مختلف نظریات پائے جاتے ہیں: 1۔ کیسان امیر مختار کا لقب تھا۔ 2۔ کیسان امیر مختار کی فوج کے سردار کا نام تھا۔ 3۔ کیسان حضرت امیر المومنین کے غلاموں میں سے ایک غلام کا نام تھا کہ جس نے امیر مختار کو امام حسین کے خون کا انتقام لینے کے لیے شوق اور رغبت دلائی تھی۔

کہا جاتا ہے کہ مختار کی فوج کا سردار ایک کیسان نامی شخص تھا جو ”ابو عمرہ“ کے نام سے مشہور تھا قبیلہٴ ”بجیلہ“ سے جو قبیلہٴ ”عرینہ“کہ وہ بجیلہ کے گروہوں میں سے ایک ہے۔ یہ کیسانیہ کے اعتقادات کے مختصر تاریخی جائزہ تھا جو 60 ہجری کے بعد پیدا ہوا اور تیسری صدی ہجری میں ختم ہو گیا اور اس کا کوئی نام و نشان باقی نہیں رہا۔

”محمد حنفیہ “ کا ”کوہ رضوی “ سے ارتباط یہ ہے کہ ”عبد اللہ ابن زبیر “ نے جب بنی ہاشم کے مقابل میں اپنے ضعیف اور نابود ہونے کا خطرہ احساس کیا تو ”عبد اللہ ابن عباس “ کو ”طائف “ اور ”محمد حنفیہ “”کوہ رضوی“ کی طرف شہر بدر کیا۔ اس بیان کی بنا پر ”محمد حنفیہ “ نے اپنی عمر کا آخری حصّہ اسی سمت میں بسر کیا ہے بعض مورخین نے کہا ہے کہ ان کا اسی جگہ انتقال ہوا ہے۔ لیکن اکثر مورخین معتقد ہیں کہ محمد حنفیہ کی وفات مدینہ میں ہوئی اور بقیع میں مدفون ہیں۔ اس بات کے پیش نظر کہ ”رضوی“ چونکہ محمد حنفیہ کے شہر بدر کی جگہ تھی،کیسانیہ کے ایک گروہ نے اس مقام کو محمد حنفیہ کی غیبت کی جگہ جانا ہے، اس بات کا منتظر تھا کہ ایک دن وہ "کوہ رضوی" سے ظاہر(رجعت) ہوں گے اور سر زمین مکہ سے قیام کریں گے اور دنیا کو عدل و انصا ف سے بھر دیں گے۔ اور وہی مہدی ہیں۔ پس ”رضوی “ ان کے ”مہدی موعود“ کی جائے غیبت ہے اور وہیں سے وہ "رجعت" فرمائیں گے۔

نظریات[ترمیم]

کیسانیہ فرقہ قدیم ترین شیعی فرقہ تھا جس نے چند اہم نظریات:

چناں چہ حسن عسکری کے بیٹے سے بہت عرصہ قبل "محمد حنفیہ" امام مھدی کہلائے اور ایک شیعہ فرقے کا امام منصوص من اللہ بنے اور ان کی "غیبت" جبل رضوی میں ہوئی اور وہ عنقریب /قرب قیامت "ظہور" فرمائیں گے، ان کی واپسی کے بعد دنیا میں عدل و انصاف کا دور دورہ ہوگا۔ جیسا کہ رنبیّہ ”ابن کرنب“ کے ماننے والوں نے کہا: "محمد حنفیہ زندہ ہیں اور کوہ رضوی میں سکونت پزیر ہیں اور بغیر ظہور کیے دنیا سے نہیں جائیں گے ،دنیا کو عدل و انصاف سے بھر دیں گے جس طرح وہ ظلم و ستم سے پُر ہوگی۔"[1]

اس فرقہ کی تاریخ 60ھ سے 173ھ تک ہے، جس میں السید الحمیاری کے کیسانیہ عقیدہ چھوڑنے کے بعد حیان السراج نے قیادت سنبھالی اور اپنے امام مھدی غائب محمد حنفیہ کے انتظار اور رجعت کے لیے کوشاں رہے۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. http://www.bandung2.co.uk/books/Files/Religion/The%20Isma'ilis.pdf اور ف رہاد دفتری کی کتاب "اسماعیلیہ ،تاریخ و عقائد" کے عنوان "کیسانیہ،غلات اور اولین دور کے امامیہ"بھی ملاحظہ کیجے۔