مندرجات کا رخ کریں

کیشو کشمیری

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
کیشو کشمیری بھٹ آچاریہ
پیشروگانگل بھٹ آچاریہ[1][2][3]
جانشینشری بھٹ دیو آچاریہ[1][4][3]
ذاتی زندگی
پیدائشت 1410ء[5][6]
وفاتت 1490ء[5][6]
مذہبہندومت
دورت پندرھویں صدی عیسوی
دور حکومتجنوبی ایشیا
فرقہنمبارک سمپردائے
قابل ذکر کامویدانت کوستُبھ پربھا، کرم دیپِکا
فلسفہدویت ادویت ویدانت

کیشو کشمیری (ت پندرھویں صدی[5])، جنھیں کیشو آچاریہ اور کیشو کشمیری بھٹ آچاریہ (سنسکرت: केशव काश्मीरी, केशवाचार्य, केशव काश्मीरी भट्टाचार्य) کے ناموں سے بھی موسوم کیا جاتا ہے، ہندوستان کے ایک عظیم ہندو فلسفی، ماہرِ الٰہیات اور شاعر تھے۔ ان کا تعلق شمالی ہند کے گوڑ برہمن خاندان سے تھا[7] ليکن ان کی ولادت صوبہ مہاراشٹر کے گاؤں ویدوریہ پٹنم (جسے پرستھان بھی کہا جاتا ہے) میں ہوئی۔[8] وہ مکند اور گانگل بھٹ آچاریہ کے فیض یافتہ شاگرد تھے۔[2][1] کیشو کشمیری نمبارک سمپردائے کے تینتیسویں آچاریہ کے منصب پر فائز ہوئے۔[9] روایات کے مطابق کیشو کشمیری نے اپنے عہد کے تمام جید اہل علم پر تین مرتبہ علم و استدلال کی راہ سے غلبہ حاصل کیا اور اس کی بنا پر انھیں "جگت وجئی" (عالم گیر فاتح) کا خطاب عطا کیا گیا۔[8]

سوانح

[ترمیم]

کیشو کشمیری نے، جن کا اصل نام کیشو آچاریہ تھا، مذہبی تبلیغ، فلسفیانہ مناظروں میں فتح، باطل فرقوں کی تردید اور کشمیر میں بطور زائر قیام کی بدولت "بھٹ" اور "کشمیری بھٹ آچاریہ" جیسے القاب پائے۔ تاہم وہ انکسار کے باعث خود کو محض "کیشو" کہلوانا پسند کرتے تھے۔ ان کی یہ پسندیدگی ان کی تصنیف "کرم دیپِکا" کے آخری شعر سے بھی عیاں ہے، جہاں وہ خود کی شناخت یوں کرواتے ہیں: "کیشوین کرتا کرم دیپِکا" (یعنی یہ کرم دیپِکا کیشو کی تالیف ہے)۔[10]

اگروال (2000ء) لکھتے ہیں کہ کیشو کشمیری نے کشمیر میں شاکت مکتبِ فکر کے ودیادھر آچاریہ کو شکستِ فاش دی تھی اور انھیں "ورجیش آچاریہ" کا نام عطا کیا۔ اس کے علاوہ انھوں نے متھرا کے یونانیوں اور نودویپ کے جید اہل علم کو بھی زیر کیا۔ بعد ازاں وہ مستقل طور پر کشمیر میں سکونت پزیر ہو گئے۔[8]

متھرا کی کرامت

[ترمیم]

کیشو کشمیری کی زندگی کئی مافوق الفطرت واقعات سے عبارت ہے۔ ان میں سب سے زیادہ شہرت اس کرامت کو حاصل ہے جو انھوں نے متھرا میں ہندوؤں کو مسلم حکمرانوں کی مخصوص پابندیوں اور جبری تبدیلیِ مذہب کی حکمتِ عملی سے نجات دلانے کے لیے دکھائی تھی۔[11] اس واقعے کا تذکرہ نابھاداس نے اپنی معروف کتاب بھکت مال کے چھپیہ 75 میں نہایت تفصیل سے کیا ہے۔[12]

نابھاداس لکھتے ہیں: "شری کیشو بھٹ جی تمام انسانوں کے سر کا تاج تھے۔ ان کی شہرت چہار سو پھیلی ہوئی تھی۔ کشمیر میں طویل قیام کی نسبت سے 'کشمیری' کا لقب ان کے نام کا جز بن گیا۔ وہ ظالموں اور گناہ گاروں کو مغلوب کرنے والے اور انسانیت کا زیور تھے۔ انھوں نے ہری کی عقیدت کے کلہاڑے سے مخالف مذاہب کے درختوں کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا اور ان کا نام و نشان مٹا دیا۔ متھرا میں انھوں نے یونانیوں (غیر ملکی حکمرانوں) سے مناظرہ کیا اور ان ملحدوں کو شکست دی۔ یہ بات زباں زد عام ہے کہ وہ قاضی جو کسی کے آگے سر جھکانے پر تیار نہ تھے، آپ کی روحانی قوت کا مشاہدہ کرنے کے بعد کس طرح لرزہ براندام ہو گئے۔ یہ واقعہ کوئی ڈھکا چھپا نہیں، بلکہ پوری سنت برادری اس کی گواہ ہے۔"[13][12]

تصانیف

[ترمیم]

کیشو کشمیری کی علمی یادگاریں اور تصانیف درج ذیل ہیں:

  • ویدانت کوستُبھ پربھا: یہ برہم سوتر کی ایک اہم اور مفصل شرح ہے۔[14][15][16][17]
  • کرم دیپِکا: یہ پانچ راتری مکتبِ فکر سے متعلق ایک وقیع تالیف ہے۔[18][19][20][21][22]
  • تتو پرکاشِکا: بھگوت گیتا کی یہ شرح علمی حلقوں میں نہایت معتبر تسلیم کی جاتی ہے۔[1][23][14][24]
  • تتو پرکاشِکا وید استُتی ٹیکا: یہ بھاگوت پران کے دسویں اسکند (باب) کی عالمانہ شرح ہے۔[1][23][25][20]
  • وشنو سہسرہ نام ٹیکا: وشنو کے ایک ہزار ناموں (وشنو سہسر نام) کی یہ تشریح کیشو کشمیری کے گہرے مذہبی شعور کی عکاس ہے۔[26][23]

اپنشدوں کی تشریحات

[ترمیم]
  • تیتریہ پرکاشِکا: تیتریہ اپنشد کی یہ شرح دقیق فلسفیانہ نکات کو نہایت سہل انداز میں پیش کرتی ہے۔[19][1]
  • کین اپنشد بھاشیہ: کین اپنشد کی شرح۔[19][14]

حوالہ جات

[ترمیم]
  1. ^ ا ب پ ت ٹ ث Dasgupta 1988, p. 402
  2. ^ ا ب Okita 2024, p. 33, 34
  3. ^ ا ب Bose 2004, p. 976
  4. Agrawal 2013, p. 95
  5. ^ ا ب پ Ramnarace 2014, p. 323
  6. ^ ا ب Ramnarace 2014, p. 268
  7. John Stratton Hawley (2015)۔ Hawley, John Stratton (2015). 'A Storm of Songs - India & Idea of Bhakti Movement'
  8. ^ ا ب پ Agrawal 2013, p. 173
  9. Ramnarace 2016, p. 21
  10. Ramkrishnadev Garga 2004, p. 508
  11. Kalyana Kalpataru- Gita Press
  12. ^ ا ب Ramnarace 2014, p. 266
  13. Ramkrishnadev Garga 2004, p. 504
  14. ^ ا ب پ Agrawal 2013, p. 174
  15. White 2004, p. 92
  16. White 2004, p. 195
  17. Ramnarace 2014, p. 267
  18. Upadhyay 1978, p. 300
  19. ^ ا ب پ Banerji 2007, p. 100
  20. ^ ا ب Ramnarace 2014, p. 257
  21. Dasgupta 1988, p. 403
  22. Okita 2024, p. 10
  23. ^ ا ب پ Banerji 2007, p. 101
  24. Indian Philosophy & Culture (بزبان انگریزی). 1961ء.
  25. Ramnarace 2014, p. 215
  26. Ramnarace 2014, p. 258

کتابیات

[ترمیم]