کیشو کشمیری
کیشو کشمیری بھٹ آچاریہ | |
|---|---|
| پیشرو | گانگل بھٹ آچاریہ[1][2][3] |
| جانشین | شری بھٹ دیو آچاریہ[1][4][3] |
| ذاتی زندگی | |
| پیدائش | ت 1410ء[5][6] |
| وفات | ت 1490ء[5][6] |
| مذہب | ہندومت |
| دور | ت پندرھویں صدی عیسوی |
| دور حکومت | جنوبی ایشیا |
| فرقہ | نمبارک سمپردائے |
| قابل ذکر کام | ویدانت کوستُبھ پربھا، کرم دیپِکا |
| فلسفہ | دویت ادویت ویدانت |
| مضامین بسلسلہ |
| ہندو فلسفہ |
|---|
کیشو کشمیری (ت پندرھویں صدی[5])، جنھیں کیشو آچاریہ اور کیشو کشمیری بھٹ آچاریہ (سنسکرت: केशव काश्मीरी, केशवाचार्य, केशव काश्मीरी भट्टाचार्य) کے ناموں سے بھی موسوم کیا جاتا ہے، ہندوستان کے ایک عظیم ہندو فلسفی، ماہرِ الٰہیات اور شاعر تھے۔ ان کا تعلق شمالی ہند کے گوڑ برہمن خاندان سے تھا[7] ليکن ان کی ولادت صوبہ مہاراشٹر کے گاؤں ویدوریہ پٹنم (جسے پرستھان بھی کہا جاتا ہے) میں ہوئی۔[8] وہ مکند اور گانگل بھٹ آچاریہ کے فیض یافتہ شاگرد تھے۔[2][1] کیشو کشمیری نمبارک سمپردائے کے تینتیسویں آچاریہ کے منصب پر فائز ہوئے۔[9] روایات کے مطابق کیشو کشمیری نے اپنے عہد کے تمام جید اہل علم پر تین مرتبہ علم و استدلال کی راہ سے غلبہ حاصل کیا اور اس کی بنا پر انھیں "جگت وجئی" (عالم گیر فاتح) کا خطاب عطا کیا گیا۔[8]
سوانح
[ترمیم]کیشو کشمیری نے، جن کا اصل نام کیشو آچاریہ تھا، مذہبی تبلیغ، فلسفیانہ مناظروں میں فتح، باطل فرقوں کی تردید اور کشمیر میں بطور زائر قیام کی بدولت "بھٹ" اور "کشمیری بھٹ آچاریہ" جیسے القاب پائے۔ تاہم وہ انکسار کے باعث خود کو محض "کیشو" کہلوانا پسند کرتے تھے۔ ان کی یہ پسندیدگی ان کی تصنیف "کرم دیپِکا" کے آخری شعر سے بھی عیاں ہے، جہاں وہ خود کی شناخت یوں کرواتے ہیں: "کیشوین کرتا کرم دیپِکا" (یعنی یہ کرم دیپِکا کیشو کی تالیف ہے)۔[10]
اگروال (2000ء) لکھتے ہیں کہ کیشو کشمیری نے کشمیر میں شاکت مکتبِ فکر کے ودیادھر آچاریہ کو شکستِ فاش دی تھی اور انھیں "ورجیش آچاریہ" کا نام عطا کیا۔ اس کے علاوہ انھوں نے متھرا کے یونانیوں اور نودویپ کے جید اہل علم کو بھی زیر کیا۔ بعد ازاں وہ مستقل طور پر کشمیر میں سکونت پزیر ہو گئے۔[8]
متھرا کی کرامت
[ترمیم]کیشو کشمیری کی زندگی کئی مافوق الفطرت واقعات سے عبارت ہے۔ ان میں سب سے زیادہ شہرت اس کرامت کو حاصل ہے جو انھوں نے متھرا میں ہندوؤں کو مسلم حکمرانوں کی مخصوص پابندیوں اور جبری تبدیلیِ مذہب کی حکمتِ عملی سے نجات دلانے کے لیے دکھائی تھی۔[11] اس واقعے کا تذکرہ نابھاداس نے اپنی معروف کتاب بھکت مال کے چھپیہ 75 میں نہایت تفصیل سے کیا ہے۔[12]
نابھاداس لکھتے ہیں: "شری کیشو بھٹ جی تمام انسانوں کے سر کا تاج تھے۔ ان کی شہرت چہار سو پھیلی ہوئی تھی۔ کشمیر میں طویل قیام کی نسبت سے 'کشمیری' کا لقب ان کے نام کا جز بن گیا۔ وہ ظالموں اور گناہ گاروں کو مغلوب کرنے والے اور انسانیت کا زیور تھے۔ انھوں نے ہری کی عقیدت کے کلہاڑے سے مخالف مذاہب کے درختوں کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا اور ان کا نام و نشان مٹا دیا۔ متھرا میں انھوں نے یونانیوں (غیر ملکی حکمرانوں) سے مناظرہ کیا اور ان ملحدوں کو شکست دی۔ یہ بات زباں زد عام ہے کہ وہ قاضی جو کسی کے آگے سر جھکانے پر تیار نہ تھے، آپ کی روحانی قوت کا مشاہدہ کرنے کے بعد کس طرح لرزہ براندام ہو گئے۔ یہ واقعہ کوئی ڈھکا چھپا نہیں، بلکہ پوری سنت برادری اس کی گواہ ہے۔"[13][12]
تصانیف
[ترمیم]کیشو کشمیری کی علمی یادگاریں اور تصانیف درج ذیل ہیں:
- ویدانت کوستُبھ پربھا: یہ برہم سوتر کی ایک اہم اور مفصل شرح ہے۔[14][15][16][17]
- کرم دیپِکا: یہ پانچ راتری مکتبِ فکر سے متعلق ایک وقیع تالیف ہے۔[18][19][20][21][22]
- تتو پرکاشِکا: بھگوت گیتا کی یہ شرح علمی حلقوں میں نہایت معتبر تسلیم کی جاتی ہے۔[1][23][14][24]
- تتو پرکاشِکا وید استُتی ٹیکا: یہ بھاگوت پران کے دسویں اسکند (باب) کی عالمانہ شرح ہے۔[1][23][25][20]
- وشنو سہسرہ نام ٹیکا: وشنو کے ایک ہزار ناموں (وشنو سہسر نام) کی یہ تشریح کیشو کشمیری کے گہرے مذہبی شعور کی عکاس ہے۔[26][23]
اپنشدوں کی تشریحات
[ترمیم]- تیتریہ پرکاشِکا: تیتریہ اپنشد کی یہ شرح دقیق فلسفیانہ نکات کو نہایت سہل انداز میں پیش کرتی ہے۔[19][1]
- کین اپنشد بھاشیہ: کین اپنشد کی شرح۔[19][14]
حوالہ جات
[ترمیم]- ^ ا ب پ ت ٹ ث Dasgupta 1988, p. 402
- ^ ا ب Okita 2024, p. 33, 34
- ^ ا ب Bose 2004, p. 976
- ↑ Agrawal 2013, p. 95
- ^ ا ب پ Ramnarace 2014, p. 323
- ^ ا ب Ramnarace 2014, p. 268
- ↑ John Stratton Hawley (2015)۔ Hawley, John Stratton (2015). 'A Storm of Songs - India & Idea of Bhakti Movement'
- ^ ا ب پ Agrawal 2013, p. 173
- ↑ Ramnarace 2016, p. 21
- ↑ Ramkrishnadev Garga 2004, p. 508
- ↑ Kalyana Kalpataru- Gita Press
- ^ ا ب Ramnarace 2014, p. 266
- ↑ Ramkrishnadev Garga 2004, p. 504
- ^ ا ب پ Agrawal 2013, p. 174
- ↑ White 2004, p. 92
- ↑ White 2004, p. 195
- ↑ Ramnarace 2014, p. 267
- ↑ Upadhyay 1978, p. 300
- ^ ا ب پ Banerji 2007, p. 100
- ^ ا ب Ramnarace 2014, p. 257
- ↑ Dasgupta 1988, p. 403
- ↑ Okita 2024, p. 10
- ^ ا ب پ Banerji 2007, p. 101
- ↑ Indian Philosophy & Culture (بزبان انگریزی). 1961ء.
- ↑ Ramnarace 2014, p. 215
- ↑ Ramnarace 2014, p. 258
کتابیات
[ترمیم]- Madan Mohan Agrawal (2013ء). Encyclopedia of Indian philosophies, Bhedābheda and Dvaitādvaita systems. Encyclopedia of Indian philosophies / general ed.: Karl H. Potter (بزبان انگریزی). Delhi: Motilal Banarsidass. ISBN:978-81-208-3637-2.
- Baladeva Upadhyay (1978ء)۔ Vaishnava Sampradayon ka Siddhanta aur Sahitya۔ Varanasi: Chowkhamba Amarbharati Prakashan
- Surendranath Dasgupta (1988ء)۔ A history of Indian philosophy۔ Delhi: Motilal Banarsidass۔ ISBN:978-81-208-0408-1
- Roma Bose (2004ء)۔ Vedānta-pārijāta-saurabha of Nimbārka and Vedānta-kaustubha of Śrīnivāsa: commentaries on the Brahma-sutras; English translation۔ New Delhi: Munshiram Manoharlal Publishers۔ ISBN:978-81-215-1121-6
- Nabha das ji, Priya Das ji Ramkrishnadev Garga (2004ء). Bhaktamāla of Nābhādāsa, with Bhaktirasabodhinī commentary of Priyādāsa, Hindi translation and gloss by Ramkrishnadev Garga (بزبان سنسکرت وہندی). Vṛndāvana.
{{حوالہ کتاب}}: اسلوب حوالہ 1 کا انتظام: متعدد نام: مصنفین کی فہرست (link) اسلوب حوالہ 1 کا انتظام: مقام بدون ناشر (link) - Vijay Ramnarace (2014ء)۔ Rādhā-Kṛṣṇa's Vedāntic Debut: Chronology& Rationalisation in the Nimbārka Sampradāya (PDF) (PhD thesis)۔ University of Edinburgh
- Anncharlott Eschmann (2014ء)۔ Hermann Kulke؛ Gaya Charan Tripathi (مدیران)۔ The cult of Jagannatha and the regional tradition of Orissa۔ Studies in Orissan society, culture and history۔ New Delhi: Manohar۔ ISBN:978-81-7304-964-4
- Vijay Ramnarace (2016ء)۔ "Brahman Between the Lines: Bhedābheda and Privileged Theology in the Early Nimbārka Sampradāya"۔ The Journal of Hindu Studies۔ ج 9 شمارہ 1: 56–83۔ DOI:10.1093/jhs/hiw010۔ ISSN:1756-4255
- Charles S. J. White (2004ء). A Catalogue of Vaiṣṇava Literature on Microfilms in the Adyar Library, The Bodleian Library & The American University Library (بزبان انگریزی). Motilal Banarsidass Publ. ISBN:978-81-208-2067-8.
- S. C. Banerji (2007ء). A Companion to Tantra (بزبان انگریزی). Abhinav Publications. ISBN:978-81-7017-402-8.
- Kiyokazu Okita (2024ء)۔ Kiyokazu Okita؛ Rembert Lutjeharms (مدیران)۔ "Okita, Kiyokazu and Rembert Lutjeharms eds. 2024. The Building of Vṛndāvana (Preliminary Material)"۔ The Building of Vṛndāvana: Architecture, Theology, and Practice in an Early Modern Pilgrimage Town۔ DOI:10.1163/9789004686779۔ ISBN:978-90-04-68677-9
- پندرھویں صدی میں ہندوستان کے غیر افسانوی مصنفین
- پندرھویں صدی کے ہندوستانی فلاسفہ
- پندرہویں صدی کے ہندوستانی شعرا
- پندرھویں صدی کے ہندوستانی محققین
- بھکتی تحریک
- ہندو فلاسفہ اور الہیات دان
- ہندوستان کے ہندو مذہبی رہنما
- ہندوستان کے ہندو روحانی گرو
- ہندوستانی ویشنوی شخصیات
- بھارتی فلسفی
- بھارتی الٰہیات دان
- قرون وسطی کے ہندو مذہبی رہنما
- نمبارک سمپردائے
- ویشنوی سنت
- ویشنو مت