مندرجات کا رخ کریں

کیقباد

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے

کیقبادخاندان کیانی کا پہلا بادشاہ ہے۔ یہ منوچہر کی اولاد سے گذرا ہے۔

  • ”کیقباد“ قدیم ایران کا ایک شاہی نام تھا جو دراصل”کَے“ (بمعنی بادشاہ) اور ”قباد“ کا مرکب ہے۔
  • کیانی خاندان فارس کا دوسرا بڑا حکمران خاندان ہے فردوسی نے شاہنامہ میں اس کا ذکر کیا ہے اس نے100 سال تک حکومت کی اس کے چار بیٹے تھے۔[1]

قدیم ایران کے مقتدر "کیانی" (Kayanian) شاہی سلسلے کا ایک عظیم بادشاہ ہے، جسے برصغیر کے مختلف قبائل اپنے معزز نسبی دعووں میں بطور مورثِ اعلیٰ پیش کرتے ہیں۔[2]

تاریخی و اساطیری پہچان

[ترمیم]

تاریخی ماخذ کے مطابق کیقباد کا تعلق قدیم فارس کی اس "کیانی" سلطنت سے تھا جس میں کیکاؤس، کیخسرو اور داریوش جیسے نامور حکمران شامل تھے۔[2] یہ شاہی سلسلہ اپنی طاقت، عسکری قوت اور قدیم ایرانی تاریخ میں اپنی حاکمیت کی وجہ سے عالمی سطح پر پہچانا جاتا ہے۔[3] برصغیر کے قبائلی نظام میں کیقباد کا نام ایک مقتدر مورثِ اعلیٰ کے طور پر اساطیری اہمیت کا حامل ہے اور بلند نسبی کی علامت سمجھا جاتا ہے۔[2]

کمبوہ قبیلے سے نسبی تعلق

[ترمیم]

ایک تاریخی روایت کے مطابق "کمبوہ" قبیلے کا رشتہ قدیم فارس کی "کے" سلطنت سے جوڑا جاتا ہے۔[2] اس انتساب کے حامیوں کا دعویٰ ہے کہ قبیلے کا نام "کے" اور "انبوہ" کا مجموعہ ہے اور کیقباد، کیخسرو اور کے لہر اسپ جیسے حکمران اسی شاہی سلسلے کے فرد تھے جن کی نسل سے یہ قبیلہ برصغیر میں وارد ہوا۔[2] علم الانساب کے بعض محققین کے مطابق، فارس کی ان عظیم سلطنتوں کے عروج و زوال کے بعد اس خاندان کے افراد مختلف علاقوں میں ہجرت کر گئے اور اپنی قبائلی پہچان کو برقرار رکھا۔[2]

گکھڑ اور کیانی شناخت

[ترمیم]

پاکستان کے خطہ پوٹھوار میں آباد "گکھڑ" قبیلہ خود کو "کیانی" کہلوانا پسند کرتا ہے اور ان کا دعویٰ ہے کہ وہ ایران کے قدیم کیانی بادشاہوں، بالخصوص کیقباد اور کیخسرو کے سلسلے کی اولاد ہیں۔[4] اگرچہ بعض جدید مورخین ان دعووں کو سماجی رتبہ بڑھانے کی ایک کوشش قرار دیتے ہیں، لیکن مقامی روایات اور خاندانی شجروں میں یہ انتساب نہایت مستحکم اور قدیم سمجھا جاتا ہے۔[4] یہی وجہ ہے کہ گکھڑ خاندان کے لوگ آج بھی اسی شاہی نسبت کی وجہ سے اپنے ناموں کے ساتھ "کیانی" کا لاحقہ یا سابقہ استعمال کرتے ہیں۔[3]

لغوی ماخذ اور معانی

[ترمیم]

لفظ "کیانی" دراصل "کیان" سے ماخوذ ہے، جو قدیم ایرانی تاریخ میں بادشاہوں کے لیے ایک مخصوص لقب کی حیثیت رکھتا تھا۔[3] تاریخی دستاویزات کے مطالعے سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ کیقباد جیسے بادشاہوں کے لیے "کیانی" یا "کیان" جیسے القابات مخصوص تھے، جو اس دور کی سیاسی اور سماجی درجہ بندی میں سب سے اعلیٰ مقام کی نشان دہی کرتے تھے۔[5] وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ القابات برصغیر کے مختلف قبائل کی مستقل نسلی پہچان بن گئے۔[2]

قبائلی تفاخر اور اہمیت

[ترمیم]

برصغیر کے قبائلی معاشرے میں کیقباد کا نام شاہانہ عظمت اور جاہ و جلال کی علامت سمجھا جاتا ہے۔[3] بہت سے قبائل اپنے شجرہ نسب کو ان قدیم بادشاہوں سے ملا کر اپنی عسکری اور سیاسی حیثیت کو مستحکم کرنے کی کوشش کرتے ہیں، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ کیقباد کا نام صدیوں بعد بھی اس خطے کی قبائلی ثقافت میں رعب و دبدبے کا استعارہ ہے۔[2]

حوالہ جات

[ترمیم]
  1. ↑ تلمیحات حصہ اول صفحہ 174، اقبال اکیڈمی لاہور پاکستان
  2. 1 2 3 4 5 6 7 8 یاسر جواد (2004)۔ ذاتوں کا انسائیکلوپیڈیا۔ بک ہوم۔ ص 314
  3. 1 2 3 4 محمد الدین فوق (1935)۔ تاریخ اقوام پونچھ۔ فوق اکیڈمی۔ ص 856
  4. 1 2 یاسر جواد (2014)۔ ذاتوں کا انسائیکلوپیڈیا۔ بک ہوم۔ ص 586
  5. ↑ محمد الدین فوق (1943)۔ تاریخ اقوام کشمیر۔ عصمت پرنٹنگ پریس۔ ص 830

حوالہ جات

[ترمیم]