کیچک ودھام (فلم)

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
کیچک ودھام
(تمل میں: கீசக வதம் خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں عنوان (P1476) ویکی ڈیٹا پر
ہدایت کار
آر نیتاراجا مدھالیر  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں ہدایت کار (P57) ویکی ڈیٹا پر
فلم ساز آر نیتاراجا مدھالیر  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں فلم ساز (P162) ویکی ڈیٹا پر
صنف علم الاساطیر،  خاموش فلم  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں طرز (P136) ویکی ڈیٹا پر
ڈراما نگار
آر نیتاراجا مدھالیر  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں ڈراما نگار (P58) ویکی ڈیٹا پر
ملک British Raj Red Ensign.svg برطانوی ہند  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں اصل ملک (P495) ویکی ڈیٹا پر
سنیما گرافر آر نیتاراجا مدھالیر  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں ہدایت کار برائے عکس بندی (P344) ویکی ڈیٹا پر
ایڈیٹر آر نیتاراجا مدھالیر  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں فلم مدیر (P1040) ویکی ڈیٹا پر
تاریخ نمائش 1918  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ اشاعت (P577) ویکی ڈیٹا پر
مزید معلومات۔۔۔
IMDb logo.svg
tt0244020  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں آئی ایم ڈی بی - آئی ڈی (P345) ویکی ڈیٹا پر

کیچک ودھام (اردو: کیچک کی بیخ کنی)[1] ہندوستان میں برطانوی راج کے دور کی ایک ملیالم خاموش فلم تھی، اس فلم کے پیش کار، ہدایت کار، فلم ساز اور مدیر آر نیتاراجا مدھالیر تھے۔ یہ جنوبی ہند کی پہلی فلم تھی، اس کی عکس بندی پانچ ہفتوں میں نیتاراجا مدھالیر پروڈکشن ہاؤس، انڈیا فلم کمپنی نے کی۔ فلم ساز کا تعلق تمل سے تھا، اس لیے فلم کیچک ودھام کو پہلی تمل فلم قرار دیا جاتا ہے۔ اس کا کوئی معلوم پرنٹ موجود نہیں، یہ ایک گم شدہ فلم ہے۔

اس کا فلمی منظر نامہ (screenplay) سی رنگا وادیویلو نے لکھا، اس کی کہانی ہندو رزمیہ مہا بھارت کے حصے ویرات پرو کے کردار کیچک کے دروپدی کو شادی کے لیے راضی کرنے کی کوشش پر ہے۔ فلم کے مرکزی کردار اداکار راجو مدھالیر اور جیورانتھم نے نبھائے۔

فلم 1910ء کی دہائی کے آخر میں پیش کی گئی، کیچک ودھام تجارتی نقطۂ نظر سے کامیاب ثابت ہوئی اور اس پر تنقیدی تاثرات بھی مثبت آئے۔ فلم کی کامبیابی کے بعد، نیتاراجا مدھالیر نے اسی طرز پر تاریخی فلموں کا ایک سلسلہ تیار کیا، ان فلموں نے جنوبی ہندوستانی سنیما کی صنعت کی بنیاد رکھی۔ اسی وجہ سے نیتاراجا مدھالیر کو بابائے تمل سنیما کی حیثیت سے تسلیم کیا گیا۔[2] نیتاراجا مدھالیر کے کام سے دیگر فلم سازوں نے بھی اثر لیا بشمول رگوپتی سوریہ اور جے سی دانیال وغیرہ۔

مرکزی خیال[ترمیم]

کیچک جو ویراٹ کا سپاہ سالار ہوتا ہے جو رانی دروپدی سے اظہار عشق کرتا اور اس سے ہر صورت شادی کرنے پر مائل ہوتا ہے، یہاں تک کہ وہ دروپدی کو ستانے تک پہنچ جاتا ہے، اس کام کے لیے دروپدی کے شوہر بھیم جو پانڈو بھائیوں میں سے ایک تھا، اسے اس کے بارے میں اکساتا ہے۔ بعد ازاں، وہ دروپدی سے ملتا ہے تو وہ اسے ایک خفیہ جائے مقررہ پر ملاقات کرنے کا کہتی ہے، جب وہ وہاں جاتا ہے تو، بھیم وہاں پہلے سے موجود ہوتا ہے، جو کیچک کو مار دیتا ہے۔[3]

کردار[ترمیم]

پیشکش[ترمیم]

تیاری[ترمیم]

آر نیتاراجا مدھالیر جو چینائی کے ایک کار فروش تھے،[ا] ان کو فلم بنانے کا خیال، مدراس کے گایتے تھیٹر میں دادا صاحب پھالکے کی 1913ء کی اساطیری کہانی پر مبنی فلم، راجا ہریش چندر دیکھنے کے بعد آیا۔[5] فلم بنانے سے قبل راجا مدھالیر نے فوٹوگرافی کی بنیادی مہارت حاصل کی اور فلم سازی پونے میں موجود برطانوی حرکی تصویری کیمرا کار (cinematographer) اسٹیورٹ سمتھ سے سیکھی، جو اس وقت گورنر جنرل ہند جارج کرزن (1899ء–1905ء) پر ایک دستاویزی فلم بنا رہا تھا۔[6] راجا مدھالیر نے 1,800 میں تنجاور کے ایک امیر زمیندار موپانر سے ایک آپٹیکل پرنٹر اور ولیمسن 35 ملی میٹر کیمرا خریدا۔[7][ب] راجا مدھالیر نے 1915ء میں انڈین فلم کمپنی کے نام سے جنوبی ہندوستان کی پہلی فلمی کمپنی قائم کی۔ اس کے بعد راجا مدھالیر نے ایک فلم اسٹوڈیو برشوالکم، ملیر روڈ پر قائم کیا، اس کے قیام میں ان سے کاروباری ساتھیوں نے تعاون کیا جنہوں نے راجا مدھالیر پروڈکشن ہاؤس میں سرمایہ کاری کی تھی۔[9][پ]

آر نیتاراجا مدھالیر نے اپنے ایک دوست پاممام سمبندھا مدھالیر جو ایک تھیٹر اداکار تھے، مشورہ طلب کیا، دوست نے مشورہ دیا کہ ہندو رزمیہ مہابھارت کے حصے ویراٹ پرو میں مذکور دروپدی اور کیچک کی کہانی پر فلم بنائیں۔[11] آر نیتاراجا مدھالیر کے بعض احباب نے اس کہانی کو فلمانے پر تحفظات کا اظہار کیا، ان کا خیال تھا کہ یہ کہانی اس پیشے کے آغاز کے لیے موزوں نہیں، الٹا نقصان کا باعث بن سکتی ہے، لیکن ان کے دوست پاممام سمبندھا مدھالیر نیتاراجا مدھالیر کو اس ہی کہانی کو فلمانے پر راغب کرتے رہے کہ یہ کہانی فلم بینوں کے لیے پرکشش ہو گی۔[12] نیتاراجا مدھالیر کے قریبی دوست اٹارنی سی رنگاوادیولو نے فلم کی کہانی لکھی، البتہ انھوں نے بعد میں اس پیشے کو اپنایا نہیں۔[13] راجا روی ورما نے آر نیتاراجا مدھالیر کو اپنی مصوری کے نمونے مہیا کیے، جن سے اس کہانی کو فلمانے کے لیے مرکزی خیال کا کام لیا گیا۔[14] آر نیتاراجا مدھالیر نے منچ اداکار راجو مدھالیر کو بطور کیچک جیورانتھم کو بطور دروپدی فلم میں لیا۔[13]

فلم کی تیاری[ترمیم]

کیچک ودھام کا بجٹ 35,000 تھا (1917ء میں تقریباً 2700 امریکی ڈالر)[ب]، جو اس وقت کافی بھاری بجٹ تھا۔[13] پرنسیپل فوٹوگرافی 1916-17ء میں شروع ہوئی اور 35-37 دنوں میں عکس بندی مکمل ہوئی۔[ت] نیتاراجا مدھالیر نے فلم کی تیاری کے لیے لندن سے فلم اسٹاک منگوایا، اس کام کے لیے ایسٹ مین کوڈک ممبئی میں کام کرنے والے ایک انگریز جس کا نام کارپنٹر تھا، اس نے مدد کی۔[17] فلمی مورخ رندور گاے نے اپنی کتاب اسٹار لائیٹ اسٹار برائیٹ: دا ارلی تمل سنیما میں ذکر کیا ہے کہ ایک پتلا سفید کپڑے کا ٹکڑا فلم بندی اور سورج کی روشنی کے لیے چھت کے طور پر استعمال ہوتا تھا اس کے ذریعے فرش پر ڈالا جاتا تھا۔[18]

مزید دیکھیے[ترمیم]

حواشی[ترمیم]

  1. The city was renamed Chennai in 1996.[4]
  2. ^ ا ب The average exchange rate in 1917 was 0.077 بھارتی روپے () per 1 US dollar (US$)۔[8]
  3. According to Baskaran and Tamil feminist writer سی۔ ایس۔ لکشمی، the place where Nataraja Mudaliar founded the India Film Company was previously known as Tower House.[10]
  4. While historian S. Muthiah wrote that principal photography began in 1917 and took five weeks (35 days) to complete, Pradeep Madhavan of The Hindu Tamil estimated that Keechaka Vadham was shot over the course of 37 days.[15] Nataraja Mudaliar said he began shooting the film تقریباً the end of 1916.[16]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. Baskaran 2013، صفحہ۔ 14.
  2. "Classics must be preserved, says B. Mahendra"۔ دکن کرانیکل۔ 29 مئی 2013۔ مورخہ 28 اکتوبر 2015 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 5 جون 2013۔
  3. Buck 2000، صفحات. 215–222; Muthiah 2009.
  4. Venkatesan 2014.
  5. Guy 2000; Balakrishnan 2015.
  6. Guy 1997، صفحات. 21–22; Guy 2002; Chabria 2005، صفحات. 451–452.
  7. Guy 1997، صفحہ. 22; Guy 2002.
  8. Roy 2015.
  9. Guy 2002; Pinto & Srivastava 2008، صفحات. 42–43; Rajadhyaksha & Willemen 2014، صفحہ. 152.
  10. Lakshmi 2004، صفحہ. 80; Baskaran 2013، صفحہ. 141.
  11. Guy 2002; Muthiah 2009.
  12. Guy 1997، صفحہ. 22; Guy 2002; Pattanaik 2010، صفحات. 203–206; Baskaran 2013، صفحہ. 14.
  13. ^ ا ب پ Guy 2002.
  14. Guy 1997، صفحہ۔ 23.
  15. Muthiah 2009; Madhavan 2014.
  16. Mail 1936.
  17. Balakrishnan 2015.
  18. Guy 1997، صفحہ۔ 22.