مندرجات کا رخ کریں

کیکٹس

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے

کیکٹس یا صبار (انگریزی: Cactus) کا پودا دنیا بھر میں مشہور ہے۔ یہ صحراؤں، خشک پہاڑوں اور بنجر زمین پر پائے جاتے ہیں۔ یہ پودوں کے کیکٹسی یا صباریہ (Cactaceae) خاندان کی 200 سے زائد اجناس کے لیے بولا جانے والا عمومی نام ہے۔

برصغیر میں کیکٹس کی متعدد اقسام میں ناگ پھنی زیادہ معروف ہے۔ تھوہڑ اور چھتر تھور بھی یہاں اس پودے کی مخصوص قسم کے لیے بولا جاتا ہے۔[1][2] کیکٹس کے پودے پانی کی بہت کم مقدار کے ساتھ بھی پھلتے پھولتے رہتے ہیں۔ اس پودے کی ہزاروں اقسام ہیں جن کی پہچان عام لوگوں کے لیے مشکل ہے۔[1]

تاریخ

[ترمیم]

ارتقا کے ماہرین کا خیال ہے کہ کیکٹس کا اصل وطن شمالی اور جنوبی امریکا ہے۔ موسمی نقل مکانی کرنے والے پرندوں کے نظام انہضام نے انھیں یورپ، ایشیا اور افریقا میں پہنچایا۔ یہ وقوعہ چند ہزار سال پہلے پیش آیا۔ ماہرین کا خیال ہے کہ ان پودوں کا ارتقائی عمل کوئی 30 تا 40 لاکھ سال پہلے شروع ہوا۔

خصوصیات

[ترمیم]

کیکٹس خاندان (Cactaceae) میں زیادہ تر خشکی پسند (Xerophytes) پودے ہیں۔ خشک گرم آب و ہوا کے رد عمل میں یہ پودے اپنی مخصوص شکل میں ڈھل گئے ہیں۔ ارتقائی عمل کے دوران ان کے پتے وہ ابھرواں خطوط بن گئے جو ان کی خاص علامت ہیں۔ ان کے تنے پھیلنے سے چھلکے میں کلوروفل پیدا ہو گیا۔ اسی لیے ان پودوں میں ضیائی تالیف کا عمل صرف سبز رنگ کے موٹے اور گودے دار تنے میں ہوتا ہے۔ ان تنوں ہی میں پانی ذخیرہ ہوتا ہے۔ تنے کی بیرونی جلد سخت اور چمڑے جیسی ہوتی ہے، جو پانی کی تبخیر کو روکنے کے لیے کارآمد ہے۔ اس کی جڑوں کے اگلے سرے پر ڈاٹ کی طرح کی ایک ٹوپی سی ہوتی ہے جو آگے بڑھتی جڑ کو چِھلنے سے بچاتی ہے۔ جڑیں پودے کے قرب و جوار میں افقاً پھیلی ہوتی ہیں۔ عموداً گہری نہ ہونے کی وجہ سے یہ تھوڑی سی بارش کا پانی بھی جذب کر لیتی ہیں۔ پودے کے کانٹے دار حصوں سے نئی شاخیں اور پھول بھی اُگ آتے ہیں۔ ان حصوں کو قطعات زقوم (Areoles) کہتے ہیں۔ بارش کے بعد ان پودوں پر بڑے بڑے رنگ دار پھول کھلنا شروع ہو جاتے ہیں۔

استعمالات

[ترمیم]

کیکٹس خاندان کے بہت سے پودوں کے پھل خوردنی ہوتے ہیں۔ گھیکوار کی طرح کے کچھ پودوں سے جام اور جیلی بھی بنائی جاتی ہیں۔

یہ دنیا بھر میں آرائشی مقاصد کے لیے بوئے جاتے ہیں۔ آسٹریلیا جیسے ممالک کے کئی شہروں میں جہاں پانی محدود ہے یہ پودے مقبول ہیں۔ ان میں سے کچھ پر خوردنی پھل لگتے ہیں۔ مثلاً ڈریگن فروٹ (Pitaya) نامی پھل Hylocereus نامی کیکٹس کا پھل ہے۔ ان سے کچھ اہم ادویاتی مرکبات بھی حاصل ہوتے ہیں۔ مثلاً امریکا کے جنوب مغرب کے اصل باشندے Lophophora williamsii نامی پودے سے مُسکِن مشروب حاصل کرتے ہیں ۔ اس قسم کے خصائص کیکٹس کی ایک اور نوع Echinopsis میں بھی ملتے ہیں۔ مصنوعی نسل کَشی کے عمل میں بغیر کانٹے کا کیکٹس تیار کیا گیا ہے جو جانوروں کا چارہ بنانے میں استعمال ہوتا ہے۔

بر صغیر کے کیکٹس پودوں میں گھیکوار، چھتر تھور، ڈنڈا تھور، پتھر چٹ اور بچھو بوٹی وغیرہ شامل ہیں۔ ان سے بہت سی ادویات بنتی ہیں۔

حوالہ جات

[ترمیم]
  1. 1 2 "کیکٹس: خدا سے رابطے میں‌ مددگار پودا"۔ اے آر وائی۔ 17 جنوری 2020۔ اخذ شدہ بتاریخ 2026-04-17
  2. سہیل احمد صدیقی (30 جولائی 2017)۔ "کیکٹس کے پھول"۔ ایکسپریس اردو۔ اخذ شدہ بتاریخ 2026-04-17