کے کے عزیز

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
کے کے عزیز
پیدائش خورشید کمال عزیز
11 دسمبر 1927(1927-12-11)
بالم آباد، لائل پور، برطانوی ہندوستان (موجودہ پاکستان)
وفات 15 جولائی 2009(2009-70-15) (عمر  81 سال)
لاہور، پاکستان
قلمی نام کے کے عزیز
پیشہ مورخ، سوانح نگار، پروفیسر
زبان اردو، انگریزی
نسل پنجابی
شہریت Flag of پاکستانپاکستانی
تعلیم پی ایچ ڈی
اصناف تاریخ
نمایاں کام مرڈر آف ہسٹری
وہ حوادث آشنا
میکنگ آف پاکستان
رحمت علی: اے بائیوگرافی
بریٹن انیڈ مسلم انڈیا
اہم اعزازات صدارتی اعزاز برائے حسن کارکردگی

پروفیسر خورشید کمال عزیز(انگریزی: Khursheed Kamal Aziz)، المعروف کے کے عزیز (انگریزی: K.K. Aziz)، (11 دسمبر، 1927ء - 15 جولائی، 2009ء) پاکستان سے تعلق رکھنے والے عالمی شہرت یافتہ مورخ اور سوانح نگار تھے۔ انہوں نے کراچی، پشاور اور جامعہ پنجاب کے ساتھ ساتھ ہائیڈل برگ (جرمنیلندن، اکسفرڈ، ڈرہم، ٹورنٹو اور خرطوم کی جامعات کے علاوہ بہت سی بین الاقوامی جامعات میں تاریخ کی تعلیم دی۔ وہ جنوبی ایشیا کی تاریخ پر سند مانے جاتے تھے۔ ان کی کتب پاکستان سمیت دنیا کی بڑی جامعات کے تاریخ کے نصاب میں شامل ہیں۔

حالات زندگی[ترمیم]

کے کے عزیز 11 دسمبر، 1927ء کو بالم آباد، لائل پور، برطانوی ہندوستان (موجودہ پاکستان) میں پیدا ہوئے[1][2]۔ ان کاپورا نام خورشید کمال عزیز تھا۔ انہوں نے گورنمنٹ کالج لاہور اور ایف سی کالج لاہور سے تعلیم کے حصول کے بعد وکٹوریہ یونیورسٹی آف مانچسٹر برطانیہ سے پی ایچ ڈی کیا اور مختلف بین الاقوامی جامعات سے وابستہ رہے۔ 1974ء میں ذوالفقار علی بھٹو نے انہیں 'قومی کمیشن برائے تحقیق تاریخ و ثقافت' کا چیئرمین مقرر کیا۔ اس عہدے پر وہ 1978ء تک فائز رہے۔[1]

تصانیف[ترمیم]

کے کے عزیز کی تصانیف میں دی میکنگ آف پاکستان، اسٹڈیز ان ہسٹری اینڈ پولیٹکس، پارٹی پولیٹکس ان پاکستان، ہسٹری آف آئیڈیا آف پاکستان، چودھری رحمت علی، عبد اللہ یوسف علی، کافی ہاؤس آف لاہور، مرڈر آف ہسٹری اور وہ حوادث آشنا کے نام سرفہرست ہیں۔[1]

اعزازات[ترمیم]

کے کے عزیز کو ان کی گراں قدر خدمات کے صلے میں حکومت پاکستان نے 1994ء میں صدارتی اعزاز برائے حسن کارکردگی عطا کیا۔[1]

وفات[ترمیم]

کے کے عزیز 15 جولائی، 2009ء کو لاہور، پاکستان میں انتقال کر گئے۔[1][2]

حوالہ جات[ترمیم]