گراس (فرانس)

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

گراس
Grassa  (آکسیٹان)

Vue de Grasse.jpg
گراس کا ایک منظر
Coat of arms of گراس
انتظامیہ
ملک فرانس
علاقہ پروانس-آلپ-کوت دازور
محکمہ آلپ-ماریتیم
انتظامی ضلع گراس
صوبہ گراس-1 اور 2
انٹر کمیونیلیٹی CA Pays de Grasse
میئر جیروم فیود (LR)
(2020–2026)
اعداد و شمار
بلندی 80–1,061 میٹر (262–3,481 فٹ)
(avg. 333 میٹر یا 1,093 فٹ)
زمینی رقبہ1 44.44 کلومیٹر2 (17.16 مربع میل)
آبادی2 property  (Jan. 2018)
انسی/ڈاک رمز 06069/ 06130
1 French Land Register data, which excludes lakes, ponds, glaciers > 1 km² (0.386 sq mi or 247 acres) and river estuaries.
2 آبادی بلا دوہری گنتی: residents of multiple communes (e.g., students and military personnel) only counted once.

گراس جنوبی فرانس کا قدیم قصبہ ہے‘ یہ قصبہ نیس‘ کینز اور مونٹی کارلو کے ہمسائے میں واقع ہے‘ الپس یہاں سے شروع ہوتے ہیں‘ آپ چند میل کا فاصلہ طے کر کے الپس کے پہاڑوں میں داخل ہو جاتے ہیں۔

اس کو خوشبوؤں کا دارالحکومت (انگریزی: Capital of fragrance) بھی کہتے ہیں۔ اسی گاؤں میں دنیا کی سب سے پہلی خوشبوؤں کی فیکٹری ہے جو 1747ء میں قائم ہوئی، اس فیکٹری کے بننے اور اس قصبے کو خوشبوؤں کا دارالحکومت کہلانے کے پیچھے درحقیقت مسلمانوں کا ہاتھ ہے۔

تاریخ[ترمیم]

پندرہویں صدی میں سپین میں مسلمانوں کی حکومت تھی‘ یہ لوگ سماجی لحاظ سے انقلابی تھے‘ انہوں نے یورپ میں ٹائی بھی متعارف کرائی‘ صابن بھی‘ کرسٹل بھی‘ پیرا شوٹ بھی اور علاج کے جدید طریقے بھی‘ مسلمان تاجر اور سیاح عموماً مونٹی کارلونیس اور کینز سے گزرتے تھے‘ کیوں گزرتے تھے؟ کیونکہ یہاں سمندر ہے‘ یہ لوگ کشتیوں کے ذریعے اس علاقے میں پہنچ جاتے تھے اور دوسری وجہ اس علاقے کا موسم تھا‘ یہ علاقہ نسبتاً گرم ہے‘ یہاں گرمیوں میں شدید گرمی پڑتی ہے اور عرب گرم علاقوں کو پسند کرتے تھے‘ پندرہویں اور سولہویں صدی کے درمیان عرب گراس میں یاسمین کے بیج لے آئے‘ یہ بیج انہوں نے علاقے کے لوگوں میں تقسیم کر دیئے‘ لوگوں نے یہ بیج زمین میں بو دیئے‘ یہ زمین گویا صدیوں سے یاسمین کے بیجوں کا انتظار کر رہی تھی چنانچہ زمین پر بیج گرنے کی دیر تھی اور پورا علاقہ یاسمین کی خوشبو سے مہک اٹھا‘ لوگ حیران رہ گئے‘ لیونڈر اس علاقے میں صدیوں سے اُگ رہا تھا‘ یاسمین کی خوشبو لیونڈر کی مہک میں ملی تو گراس خوشبوؤں کی سرزمین بن گیا‘ سیاح جوں ہی گراس کے قریب پہنچتے تھے‘ یہ مست ہو جاتے تھے‘ زمین کی اس تاثیر نے عربوں اور مقامی لوگوں کو کاروبار کا نیا راستہ دکھایا‘ یہ لوگ پھولوں کی مختلف اقسام اگانے لگے‘ یہ جو بھی قلم لگاتے تھے یا جو بھی بیج بوتے تھے وہ دو ماہ میں جوان ہو کر خوشبو دینے لگتا تھا‘ لوگوں کو کاروبار مل گیا‘ یہ پھولوں اور خوشبوؤں کے بیوپاری بن گئے‘ یہ پھول اگاتے‘ پھول چنتے‘ انہیں سوکھاتے اور بوریوں میں بھر کر بیچ دیتے‘ گراس سے پھولوں کے جہاز کے جہاز جانے لگے‘ اس دوران مقامی لوگوں کو معلوم ہوا‘ پھول لے جانے والے تاجر بعد ازاں پھولوں کا "سَت" ایک قسم کا رَس نکالتے ہیں اور اس ست سے صابنشیمپو اور عطر بناتے ہیں‘ ان لوگوں نے سوچا یہ تمام کام ہم خود کیوں نہیں کرتے؟ یہ لوگ مصر‘ الجزائرمراکش اور قرطبہ گئے‘ پھولوں کا ست نکالنے کا فن سیکھا اور گراس واپس آ کر اس شہر کو خوشبوؤں کا مسکن بنا دیا‘ یہ لوگ پھولوں کا ست نکالنے لگے‘ پھولوں کا ست عمل کشید کے ذریعے نکالا جاتا ہے (یہ عمل بھی مسلمانوں کی ایجاد ہے) گراس میں تانبے کے بڑے بڑے حمام بنائے گئے‘ ان کے ساتھ شیشے کی بڑی بڑی ٹیوبز لگائی گئیں اور ان ٹیوبز کو ٹھنڈے پانیوں کے حوضوں سے جوڑا گیا اور گراس پرفیومز کا دارالحکومت بن گیا۔

یہ فن آہستہ آہستہ پورے علاقے میں پھیل گیا‘ گراس کے تمام دیہات اور ان دیہات کے تمام لوگ خوشبوؤں کے فنون سے وابستہ ہو تے چلے گئے‘ یہ پھول اگاتے‘ ان کا عطر بناتے اور بیچ دیتے‘ یہ خوشبودار صابن‘ شیمپو‘ اگربتیاں اور مہکتی ہوئی موم بتیاں بھی بنانے لگے‘ یوں یہ علاقہ خوشبو کا مرکز بنتا چلا گیا‘ شہر میں لیبارٹریاں بنیں‘ لیبارٹریوں میں خوشبوؤں کے ماہر آئے‘ ماہرین نے مختلف خوشبوئیں ملا کر نئی نئی خوشبوئیں ایجاد کیں اور یوں خوشبوؤں کے برانڈ بنتے چلے گئے‘ شیشہ سازوں نے گراس کا رخ کیا اور یہ خوشبوؤں کی خوبصورت بوتلیں بنانے لگے‘ یہ بوتلیں پیکنگ کی انڈسٹری کو گراس لے آئیں اور یوں یہ بزنس پھیلتا چلا گیا‘

صنعت[ترمیم]

اس دوران علاقے میں چمڑہ رنگنے کی انڈسٹری لگی‘ ٹینریز لگیں اور یہ چمڑہ اٹلی کے شہروں ٹیورن‘ پیسا اور فلورنس میں بکنے لگا‘ اس چمڑے کے دستانے‘ جوتے اور پرس بنتے تھے‘ یہ تینوں چیزیں دیکھنے میں خوبصورت لگتی تھیں لیکن ان میں چمڑے کی بو آتی تھی‘ چمڑے کی صنعت نے گراس کی خوشبو کی انڈسٹری کو بہت متاثر کیا لیکن پھر گراس کے چند فنکاروں نے ایک ایسی خوشبو بنا لی جو چمڑے کی بدبو کو خوشبو میں بدل دیتی تھی اور خواتین جب دستانے اتارتی تھیں تو ان کے ہاتھوں سے بدبو کی بجائے خوشبو آتی تھی‘ اس ایجاد نے گراس کی خوشبو انڈسٹری کو ’’بوسٹ‘‘ دیا اور یہ دیکھتے ہی دیکھتے علاقے کی سب سے بڑی صنعت بن گئی۔ 

1747ء میں گراس میں پرفیوم کی پہلی فیکٹری لگی‘ اس کا نام گالی مارڈ (Galli Mard) تھا‘ یہ آج بھی قائم ہے اور یہ دنیا کی پہلی پرفیوم فیکٹری ہے‘ 1849ء میں دوسری فیکٹری لگی‘ اس کا نام مولی نارڈ (Moli Nard) تھا اور 1926ء میں فراگونارڈ (Fragonard) کے نام سے تیسری فیکٹری لگی‘ گراس میں اس وقت 60 فیکٹریاں ہیں‘ ان فیکٹریوں میں ساڑھے تین ہزار لوگ کام کرتے ہیں جبکہ دس ہزار لوگ خوشبو کی صنعت سے وابستہ ہیں‘ حکومت نے 1989ء میں گراس میں خوشبو کا عجائب گھر بنایا‘ اس میوزیم میں خوشبو کی صنعت سے وابستہ پانچ ہزار اشیاء پڑی ہیں‘ گراس میں پرفیوم کالج بھی ہے‘ اس کالج میں ہر سال صرف 16 طالب علموں کو داخلہ ملتا ہے‘ پوری دنیا سے لوگ اپلائی کرتے ہیں‘ ان میں سے صرف 16 لڑکوں اور لڑکیوں کو داخلہ ملتا ہے‘ آپ ان 16 لوگوں کے معیار کا خود اندازہ لگا لیجئے‘ یہ کیسا کالج ہوگا۔

یہ شہر خوشبو کے خام مال کا مرکز ہے‘ یہ لوگ پھولوں کا ست اور رس بیچتے ہیں‘ یہ کتنی بڑی اور قیمتی انڈسٹری ہے‘ آپ اس کا اندازہ صرف ایک چیز سے لگا لیجئے‘ گراس سے گلاب کے پھولوں کا ست ملتا ہے‘ آپ اگر یہ ست خریدنا چاہیں تو آپ کو ایک لیٹر کے 42 لاکھ روپے ادا کرنا پڑتے ہیں‘ یہ غیر معمولی رقم ہے لیکن آپ یہ اندازہ بھی لگائیے‘ اس ایک لیٹر ست سے گلاب کے کتنے پرفیوم بنتے ہوں گے؟ اس سے گلاب کی پرفیوم کی دو لاکھ بوتلیں بنتی ہیں اور آپ اگر ایک بوتل ہزار روپے میں فروخت کریں تو آپ منافع کا اندازہ خود لگا لیجئے۔ خوشبو ایک حساس اور نازک سائنس ہے‘ آپ کو کبھی کسی پرفیوم لیبارٹری میں جانے کا اتفاق ہو تو آپ وہاں موجود لوگوں کو دیکھ کر حیران رہ جائیں گے‘ یہ لوگ دن کا زیادہ تر وقت خوشبو میں گزارتے ہیں‘ یہ سگریٹ اور شراب نہیں پیتے‘ ان کی یادداشت غیر معمولی ہوتی ہے‘ یہ ایک خوشبو سونگھتے ہیں‘ پھر اسے ذہن کے ایک خانے میں محفوظ کرتے ہیں‘ پھر دوسری خوشبو سونگھتے ہیں‘ اسے دوسرے خانے میں محفوظ کرتے ہیں اور پھر ذہن میں موجود دونوں خوشبوؤں کو ملا کر نئی خوشبو بناتے ہیں۔
ان لوگوں کو یہ نئی خوشبو باقاعدہ محسوس ہوتی ہے‘ یہ اس کے بعد ریشم کے رومال پر دونوں خوشبوئیں ملاتے ہیں‘ رومال کو ہوا میں لہراتے ہیں اور اپنی ایجاد کردہ نئی خوشبو کو محسوس کرتے ہیں‘ یہ اس وقت تک دونوں خوشبوؤں کو مختلف مقدار میں ملاتے رہتے ہیں جب تک انہیں ہوا میں وہ خوشبو محسوس نہیں ہوتی جو ماہرین کے ذہن میں ہوتی ہے۔

حوالہ جات[ترمیم]