گراہم اسٹینس

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
گراہم اسٹینس
معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 1941  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
پالمز وُڈس، کوینز لینڈ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
وفات 23 جنوری 1999 (57–58 سال)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
کیندوجھر  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
وجۂ وفات نذر آتش  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں وجۂ وفات (P509) ویکی ڈیٹا پر
طرز وفات قتل  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں طرزِ موت (P1196) ویکی ڈیٹا پر
شہریت Flag of Australia (converted).svg آسٹریلیا  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
مذہب مسیحیت
فرقہ پروٹسٹنٹ
زوجہ گلیڈیز اسٹینس  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شریک حیات (P26) ویکی ڈیٹا پر
عملی زندگی
پیشہ مترجم بائبل،  مبلغ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر

گراہم اسٹینس (انگریزی: Graham Staines) آسٹریلوی مسیحی مشنری تھے جنہیں 23 جنوری 1999ء کو ایک ٹولی نے اُنہیں، اُن کے دس سالہ بیٹے فِلپ اور چھ سالہ بیٹے ٹموتھی کو اس وقت جلا دیا تھا جب وہ اوڈیشا میں ایک جیپ میں سو رہے تھے، اس کارروائی میں ملوث افراد نے اپنا تعلق بجرنگ دل سے بتایا تھا۔ سنہ 2003ء میں عدالت نے بجرنگ دل کے کارکن دارا سنگھ کو گراہم اسٹینس اور ان کے بیٹوں کا قاتل اور ٹولی کا سرغنا قرار دیتے ہوئے عمر قید کی سزا سنائی تھی۔[1]

جس وقت گراہم اسٹینس کو ان کے بچوں سمیت زندہ جلا دیا گیا تھا اس وقت اسٹینس خاندان اوڈیشا میں کوڑھ کے مریضوں کے لیے کام کر رہے تھے۔ بجرنگ دل اور آر ایس ایس اس وقت مسیحی مشنریوں کے خلاف تحریک چلا رہے تھے اور ان پر الزام لگا رہے تھے کہ وہ قبائلیوں کا مذہب بدلنے کا کام کر رہے ہیں۔ گراہم اسٹینس کی قتل کی تحقیقات کرنے والے وادھوا کمیشن نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ کیونجھر، منوہر پور (اوڈیشا) کے خمیوں میں کچھ افراد کو بپتسمہ دیا گیا تھا لیکن اسٹینس جبری تبدیلی مذہب کی سرگرمیوں میں ملوث نہیں تھے۔[2] ان کی بیوہ گلیڈیز اسٹینس اس الزام کا انکار کرتی رہی ہیں،[3][4] وہ 2004ء تک اوڈیشا میں کوڑھ کے مریضوں کے لیے کام کرتی رہیں پھر اپنے وطن واپس لوٹ گئیں۔ سال 2005ء میں انہیں اوڈیشا میں اُن کی خدمات کے اعتراف میں چوتھے بڑے شہری اعزاز پدم شری سے نوازا گیا۔[5][6] سال 2016ء میں گلیڈیز کو مدر ٹریسا میموریل انٹرنیشنل ایوارڈ فار سوشل جسٹس سے نوازا گیا۔[7]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. "Two acquitted in Graham Staines murder case"۔ Timesofindia.indiatimes.com۔ اخذ شدہ بتاریخ 2015-04-16۔
  2. "In the age of fake news, flashback to first kill"۔ www.telegraphindia.com (انگریزی زبان میں)۔ اخذ شدہ بتاریخ 2019-05-31۔
  3. "Missionary widow continues leprosy work"۔ BBC News۔ 27 جنوری 1999۔
  4. "Rediff On The NeT: Vir Sanghvi on the Orissa incident"۔ Rediff.com۔ 1999-02-08۔ اخذ شدہ بتاریخ 2015-04-16۔
  5. Soutik Biswas (22 ستمبر 2003)۔ "Widow keeps missionary's memory alive"۔ BBC ,News۔
  6. "South Asia | Missionary widow's emotional return"۔ BBC News۔ 2005-05-18۔ اخذ شدہ بتاریخ 2015-04-16۔
  7. Forgiver feted. Christianity Today Jan. 2016, p.17.