گرش چندر سین

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
گرش چندر سین
গিরিশ চন্দ্র সেন
گرش چندر سین
گرش چندر سین

معلومات شخصیت
پیدائش 1835ء
ضلع ناراین گنج  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
وفات اگست 15، 1910(1910-08-15)
کولکاتا  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
شہریت British Raj Red Ensign.svg برطانوی ہند  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
والد مدھابرام سین
عملی زندگی
پیشہ اسکالر، مبلغ
مادری زبان بنگلہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مادری زبان (P103) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ ورانہ زبان بنگلہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں زبانیں (P1412) ویکی ڈیٹا پر

گرش چندر سین (1835ء – 15 اگست 1910ء) بنگال کے ایک مذہبی محقق، مترجم اور برہمو سماج کے مبلغ تھے۔ انہوں نے سنہ 1886ء میں قرآن کا بنگالی زبان میں ترجمہ کیا، یہ بنگالی زبان میں قرآن کا پہلا ترجمہ تھا۔[1]

ابتدائی زندگی[ترمیم]

گرش چندر سین کی پیدائش بنگلہ دیش کے ضلع ناراین گنج میں واقع پنچودنا گاؤں میں ہوئی۔[2] انہوں نے ابتدائی تعلیم ڈھاکہ کے پوگوز اسکول میں حاصل کی۔.[3]

گرش چندر نے صحافتی اور ادبی سرگرمیوں میں حصہ لینے سے قبل کچھ عرصے میمین سنگھ ضلع اسکول میں بھی پڑھا۔ ابتدائی عمر ہی میں انہوں نے فارسی اور سنسکرت زبانیں سیکھ لی تھیں اور میمین سنگھ میں ڈپٹی مجسٹریٹ کے یہاں کاپی رائٹر کی ملازمت کرتے رہے۔ بیجوئے کرشن گوسوامی اور کیشب چندر سین کی توجہات اور ترغیبات سے وہ برہمو سماج سے متاثر ہوئے اور سنہ 1871ء میں انہوں نے برہمو سماج میں شمولیت اختیار کر لی۔ بعد ازاں اس کی تبلیغ کے لیے گرش چندر نے ہندوستان اور برما کا سفر کیا۔

سنہ 1869ء میں کیشب چندر سین نے اپنے مبلغین میں سے چار افراد کو منتخب کیا اور ان چاروں کو دنیا کے چار قدیم مذاہب کے محقق کا درجہ دیا۔ گرش چندر اسلام کے مطالعے کے لیے منتخب کیے گئے تھے۔

گرش چندر تمام مذاہب کی بنیادوں کے اتحاد کے قائل تھے۔ منتخب ہونے کے بعد انہوں نے اپنے آپ کو اسلام کے مطالعے میں مصروف کر لیا۔ سنہ 1876ء میں عربی زبان سیکھنے اور اسلامی ادب اور اسلامی متون کی تعلیم حاصل کرنے کی غرض سے وہ لکھنؤ گئے۔ پانچ برس (1881-86) کے طویل مطالعے کے بعد انہوں نے قرآن کا بنگالی زبان میں پہلا ترجمہ پیش کیا۔[2]

تصنیفات[ترمیم]

گرش چندر سین نے بنگالی زبان میں کل بیالیس کتابیں شائع کیں۔ پانچ سوال کے مطالعہ کے بعد انہوں نے بنگالی زبان میں قرآن کا پہلا ترجمہ پیش کیا۔ نیز سنہ 1892ء میں مشکاۃ المصابیح کا تقریباً نصف ترجمہ شائع کیا۔ انہوں نے فارسی زبان سے گلستان، بوستان اور دیوان حافظ کا بھی بنگالی میں ترجمہ کیا۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. UAB Razia Akter Banu۔ Islam in Bangladesh۔ آئی ایس بی این 9004094970۔ مورخہ 7 جنوری 2019 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ جون 3, 2016۔
  2. ^ ا ب Sambaru Chandra Mohanta۔ "Sen, Girish Chandra"۔ بہ Sirajul Islam۔ Banglapedia: National Encyclopedia of Bangladesh (اشاعت Second۔)۔ Asiatic Society of Bangladesh۔
  3. M H Haider (اگست 21, 2015)۔ "And Shadows Flee Away"۔ The Daily Star۔ مورخہ 9 جنوری 2019 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ جون 2, 2016۔