ٹیم کی جذباتی فراست

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
(گروہی جذباتی فراست سے رجوع مکرر)
Jump to navigation Jump to search
ٹیم کی جذباتی فراست کی اہمیت کو ظاہر کرنے والی ایک سابق امریکی فوجی کی لکھی کتاب

ٹیم کی جذباتی فراست (انگریزی: Team Emotional Intelligence) یا گروہی جذباتی فراست (انگریزی: Group Emotional Intelligence) جارڈن اور دیگر محققین کی تحقیق کے مطابق انفرادی جذباتی فراستوں کا ایک مجموعہ ہے۔ ان لوگوں نے ٹیم کی جذباتی فراست کی پیمائش کا ایک طریقہ بھی وضع کیا تھا۔[1]

ٹیم کی جذباتی فراست کی مشہور تعریفیں[ترمیم]

حالانکہ ٹیم کی جذباتی فراست کے ضمن میں کئی تعریفیں پیش کی گئی ہیں، ان میں سے چند کو علمی حلقوں میں خاص اہمیت دی گئی ہے۔ ان کی تفصیلات نیچے درج ہے[1]:

شمار مصنف تعریف
1 ڈروسکاٹ اور وولف (Druskat & Wolff 2001ء) یہ ایک گروہ کی صلاحیت ہے جس سے وہ ایسے قاعدے بناتا ہے جس سے کہ گروہ کے موثر حرکیات کے اظہار، واقفیت اور ضابطگی کی حوصلہ فراہم ہوتا ہے اور گروہ کے ارکان کو ساتھ مل کر بہتر انداز میں کام کرنے میں مدد ملتی ہے۔
2 گویل اور اکھیلیش (2007ء) یہ ایک تصور ہے جس کے چار اجزاء ہیں— گروہ کا جذباتی ادراک، گروہ کا سہولت فراہم کرنے والا شعور، گروہ کی جذباتی تفہیم اور گروہ کے جذبات کا نظم۔
3 جارڈن اور لارینس (2009ء) یہ ایک فرد کی واقفیت کو بڑھانے کی صلاحیت اور رویے کا نظم ہے جو مثبت کارکردگی میں معاون ہو۔
4 جونسن ((Jonsen (2011ء) یہ افراد کے گروہ کی صلاحیت ہے جس سے پیچیدہ اور غیر روزمرہ کی صورت حال کو مل کر نمٹا جا سکتا ہے اور یہ فراست کی حامل ٹیمیں اپنے سب سے زیادہ معلومات رکھنے ارکان سے بھی بہتر کارکردگی دے سکتے ہیں۔
5 ڈوناوے ((Dunaway (2013ء) یہ ایک ابھرنے والی انسانی صلاحیت ہے جو معاملوں کو وسعت دیتی ہے۔
6 گھُمن (2011ء) یہ رویوں اور صلاحیتوں میں ترقی دی گئی قابلیت ہے جو ایک گروہ کے ادراک، تسلیم، تفہیم اور جذبات کے نظم کو اس طرح پروان دیتی ہے کہ گروہ کامیابی سے اپنے جذباتی ہیئتوں کا نظم ہو اور ان کے سیاق و سباق، مقصد اور معاملات کی وسیع ترادارہ جاتی جذباتی نظام کے ساتھ سمجھ شامل ہو۔

کام کے گروہ یا کام کی ٹیم کی تعریف[ترمیم]

کوزلوسکی اور بیل (Kozlowski & Bel (2003ء) نے کام کے گروہ (ورک گروپ) یا کام کی ٹیم (ورک ٹیم) کی تعریف یوں کی ہے:

  1. دو یا ان سے بڑھکر افراد کا شامل ہونا۔
  2. ان لوگوں کا موجود ہونا ادارہ جاتی طور پر وابستہ سرگرمیوں کی تکمیل کے لیے ہونا چاہیے۔
  3. ان میں ایک یا اس سے زائد مشترک مقاصد ہونا چاہیے۔
  4. سماجی معاملات کا ہونا
  5. کام کی انجام دہی میں ایک دوسرے پر باہمی انحصار کی ضرورت کا ظاہر ہونا۔
  6. ادارہ جاتی سیاق و سباق سے بندھے ہونا جو ٹیموں کے درمیان بندشیں، رکاوٹیں کھڑی کرتا ہے اور وسیع تر وجود میں دیگر اکائیوں کے بیچ تبدیلیوں پر اثرانداز ہوتا ہے۔

==ٹیم کی جذباتی فراست کی متغیر اقدار==# انفرادی جذباتی فراست: کسی ٹیم میں ایک فرد جذباتی صلاحیتوں کے اعظم ترین یا اقل ترین سطح کے ساتھ دوسروں کی کارکردگی کو بڑھا سکتا ہے یا کم زور بنا سکتا ہے یا پھر اسی طرح ٹیم کی مجموعی کارکردگی پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔

  1. تربیت: برساڈے اور گِبسن (1998ء) نے دلیل پیش کی کہ حساسیت کی تربیت (Sensitivity Training) میں گروہ مصروفیت (Preoccupation) سے ہٹ جاتے ہیں، جس کے نتیجے میں ثقاہت (authority) مصروفیت پر شخصی تعلقات پر ترجیح پاتی ہے۔ اس کے ذریعے تربیتی گروہ میں کھلاپن اور بھروسا پنپتا ہے اور آپس میں جذباتی اعتماد بنتا ہے اس سے گروہی مقاصد کے حصول میں مدد ملتی ہے۔ # ٹیم میں تنوع (team diversity): وولے (Wooley) اور دیگر محققین نے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ ٹیم میں تنوع گروہی فراست اور تخلیق کے وجود میں اہم کردار نبھاتا ہے۔
  2. سماجی معاملات: سماجی صلاحیتیں اور معاملات ٹیم کی جذباتی فراست میں کافی اثر رکھتے ہیں۔ ایک مطالعے کی رو سے گروہی جذباتی فراست قابل لحاظ حد تک گروہی ارکان کی اوسط سماجی حساسیت کے ساتھ مربوط تھی۔
  3. قیادت: برساڈے اور گِبسن (2014ء) نے توجہ مبذول کروائی کہ گروہ کے قائد کا جذبہ گروہی جذبات اور مُوڈ کے تشکیل پانے میں اہم عنصر قرار پاتا ہے اور یہ اُس کی اثر انگیزی کی طاقت پر بھی منحصر ہے۔
  4. گروہی ہم آہنگی: (group cohesiveness): یہ گروہی ارکان کی جذباتی کشش اور پسندیدگی ہے۔ # ٹیم کی معلومات اور اس کا بانٹنا (team knowledge and sharing): ٹیم کی معلومات ٹیم کے ارکان کی مجموعی معلومات ہے۔ ٹیم کی معلومات بانٹنا ٹیم کے ارکان کے درمیان معلومات اور اطلاعات کا بانٹنا ہے۔
  5. ٹیم کا ماحول: یہ ٹیم کی تہذیب، مُوڈ اور تعلقات جن میں بھروسا، گروہی قابلیت اور گروہی شناخت شامل ہیں، پر مشتمل ہے۔[1]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ ا ب پ Irameet Kaur, Charu Shri, K M Mital, "Modelling Enhancement of Team Emotional Intelligence", VISION - The Journal of Business Perspective, Volume 20, Number 3, September 2016, 184-198.