گرو نانک

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
گرو نانک
گرو نانک
گرو نانک، بھائی بالا، بھائی مردانا اور سِکھ گرو
پیدائش نانک15 اپریل 1469ءرائے بھوے کی تلونڈی (موجودہ ننکانہ صاحب، پنجاب، پاکستان)
وفات 22 ستمبر 1539ءکرتار پور، مغلیہ سلطنت (موجودہ پاکستان)
آخری آرام گاہ گردوارہ دربار صاحب کرتار پور، کرتار پور، پاکستان
سالہائے فعالیت 1499ء–1539ء
وجۂ شہرت سکھ مت کے بانی
جانشین گرو انگد دیو
والدین مہتا کالو اور ماتا ترپتا

گرو نانکاس آڈیو کے متعلق pronunciation [1] (پنجابی: گرمکھی ਗੁਰੂ ਨਾਨਕ، پنجابی: شاہ مکھی گرونانک، ہندی: गुरु नानक۔ [ˈɡʊɾu ˈnɑnək] Gurū Nānak) کی پیدائش شہر ننکانہ صاحب، لاہور، پنجاب موجودہ پاکستان میں 15 اپریل، 1469ء کو ہوئی، اور وفات 22 ستمبر، 1539ء کو شہر کرتار پور پنجاب، بھارت میں ہوئی۔ گرونانک سکھ مت کے بانی اور دس سکھ گروؤں میں سے پہلے گرو تھے۔ ان کا یوم پیدائش گرو نانک گرپورب کے طور پر دنیا بھر میں ماہ کاتک (اکتوبر–نومبر) میں پورے چاند کے دن، یعنی کارتک پورن ماشی کو منایا جاتا ہے۔[2]

گرونانک کو ’’زمانے کا عظیم ترین مذہبی موجد‘‘ قرار دیا جاتا ہے۔ انھوں نے دور دراز سفر کرکے لوگوں کو اس ایک خدا کا پیغام پہنچایا جو اپنی ہر ایک تخلیق میں جلوہ گر ہے اور لازوال حقیقت ہے۔[3] انھوں نے ایک منفرد روحانی، سماجی، اور سیاسی نظام ترتیب دیا جس کی بنیاد مساوات، بھائی چارے، نیکی، اور حسن سیرت پر ہے۔[4][5][6]

گرونانک کا کلام سکھوں کی مقدس کتاب، گرنتھ صاحب میں 974 منظوم بھجنوں کی صورت میں موجود ہے، جس کی چند اہم ترین مناجات میں جپجی صاحب، اسا دی وار اور سدھ گھوسٹ شامل ہیں۔ سکھ مذہب کے عقائد کے مطابق جب بعد میں آنے والے نو گروؤں کو یہ منصب عطا ہوا تو گرو نانک کے تقدس، الوہیت، اور مذہبی اختیارات کی روح ان میں سے ہر ایک میں حلول کرگئی۔[7]

پیدائش اور ابتدائی زندگی[ترمیم]

بابا نانک مدرسے جاتے ہوئے

نانک نے 15 اپریل 1469ء کو لاہور کے قریب رائے بھوئی کی تلونڈی (موجودہ ننکانہ صاحب، پنجاب، پاکستان) میں جنم لیا۔ ان کے والدین مہتا کالو (مکمل نام کلیان چند داس بیدی)، اور ماتا ترپتا تھے، جو مذہباً ہندو تھے اور تاجر ذات سے تعلق رکھتے تھے۔ ان کے والد تلونڈی گاؤں میں فصل کی محصولات کے مقامی پٹواری تھے۔

ان کی ایک بہن تھیں، جن کا نام بی بی نانکی تھا۔ وہ ان سے پانچ سال بڑی تھیں۔ 1475ء میں ان کی شادی ہوئی اور وہ سلطان پور چلی گئیں۔ نانک کو اپنی بہن سے بہت لگاؤ تھا چنانچہ وہ بھی اپنی بہن اور بہنوئی کے ساتھ رہنے کے لیے سلطان پور جا پہنچے۔ تقریباً 16 سال کی عمر میں نانک نے دولت خان لودھی کے ماتحت کام کرنا شروع کیا جہاں بی بی نانکی کا شوہر بھی کام کرتا تھا۔ پوراتن جنم سکھی کے مطابق، یہ نانک کی تشکیل کا مرحلہ تھا اور ان کے بھجنوں میں سرکاری ڈھانچے سے متعلق جو حوالے ملتے ہیں، غالب اندازہ یہی ہے کہ ان کا علم اسی عرصے میں حاصل کیا گیا تھا۔

سکھ روایات کے مطابق، گرو نانک کی پیدائش کے وقت اور زندگی کے ابتدائی برسوں میں کئی ایسے واقعات رونما ہوئے جن سے ظاہر ہوتا تھا کہ نانک کو خدا کے فضل و رحمت سے نوازا گیا ہے۔ ان کے سوانح نگاروں کے مطابق، وہ کم عمری ہی سے اس حقیقت سے پوری طرح آگاہ تھے۔ پانچ برس کی عمر میں نانک کو مقدس پیغامات پر مشتمل آوازیں سنائی دینے لگیں۔ سات برس کی عمر میں ان کے والد نے انھیں اس وقت کے رواج کے مطابق گاؤں کے مدرسے میں داخل کروایا۔ روایات کے مطابق، کم عمر نانک نے حروف تہجی کے پہلے حرف میں، جو حساب میں عدد 1 سے مشابہت رکھتا ہے، جس سے خدا کی وحدانیت یا یکتائی ظاہر ہوتی ہے، مضمر رموز بیان کرکے اپنے استاد کو حیران کردیا۔ ان کے بچپن کی دیگر روایات بھی نانک سے متعلق حیرت انگیز اور معجزانہ واقعات بیان کرتی ہیں، مثلاً رائے بولر سے منقول ایک روایت کے مطابق کم سن نانک جب سوئے ہوئے تھے تو انھیں تیز دھوپ سے بچانے کے لیے ایک درخت، یا دوسری روایت کے مطابق، ایک زہریلا ناگ ان پر سایہ کیے رہا۔

24 ستمبر 1487ء کو نانک نے مل چند اور چندو رانی کی دختر، ماتا سولکھنی سے بٹالا میں شادی کرلی۔ اس شادی شدہ جوڑے کے ہاں دو بیٹے ہوئے، شری چند (8 ستمبر 1494ء – 13 جنوری 1629ء)، اور لکشمی چند (12 فروری 1497ء – 9 اپریل 1555ء)۔ شری چند کو گرو نانک کی تعلیمات سے روشنی ملی اور آگے چل کر انھوں نے اداسی فرقے کی بنیاد رکھی۔

سوانح[ترمیم]

گرو نانک کی زندگی سے متعلق ابتدائی سوانحی ماخذات اب جنم سکھی کی صورت میں موجود ہیں۔ گرنتھ صاحب لکھنے والے بھائی گرداس نے اپنی ورس میں بھی نانک کی زندگی سے متعلق لکھا ہے۔ اگرچہ یہ دونوں مسودات ہی نانک کی زندگی کے کچھ عرصے بعد تحریر کیے گئے، تاہم ان میں جنم سکھیوں کے مقابلے میں کم تفصیل ملتی ہے۔

گیان رتن والی کو بھائی مانی سنگھ سے منسوب کیا جاتا ہے جنھوں نے گرو نانک کی زندگی سے متعلق غلط واقعات کو درست بیان کرنے کی غرض سے اسے تحریر کیا۔ بھائی مانی سنگھ، گرو گوبند سنگھ کے سکھ تھے جن سے چند سکھوں نے درخواست کی تھی کہ انھیں گرو نانک کی زندگی سے متعلق ایک مستند سوانح تیار کرنی چاہیے۔

بھائی مانی سنگھ لکھتے ہیں:

جس طرح تیراک دریا میں سرکنڈے نصب کرتے ہیں تاکہ راستے سے ناواقف لوگ بھی اسے عبور کرسکیں، اسی طرح میں بھائی گرداس کی وار کو بنیاد بناؤں گا اور اسی کے مطابق، اور جو واقعات میں نے دسویں مالک کی بارگاہ میں رہتے ہوئے سنے انھیں پیش نظر رکھتے ہوئے، جو کچھ میرے عاجز دماغ سے بن پڑا، اسے آپ تک بیان کروں گا۔

جنم سکھی کے انجام پر، ایک اختتامیہ موجود ہے جس کے مطابق مکمل کام گرو گوبند سنگھ کی خدمت میں پیش کیا گیا تاکہ وہ اس پر اپنی تصدیقی مہر ثبت کریں۔ گرو صاحب نے اس پر دست خط کیے، اور اسے سکھ عقائد سے متعلق علم حاصل کرنے کا ماخذ قرار دیا۔

ایک دوسری معروف جنم سکھی سے متعلق دعویٰ کیا جاتا ہے کہ اسے گرو کے ایک قریبی ساتھی، بھائی بالا نے تحریر کیا۔ تاہم، اس کے انداز تحریر اور زبان سے محققین، جیسے کہ میکس آرتھر مکالیف، کو یقین ہے کہ یہ ان کے انتقال کے بعد ترتیب دی گئی ہیں۔ محققین کے مطابق، اس دعوے کو تسلیم کرنے میں شکوک و شبہات ہیں کہ اس کا مصنف گرو نانک کا قریبی ساتھی تھا اور ان کے کئی اسفار میں ان کے ساتھ رہا تھا۔

سکھ مت[ترمیم]

مقامی زمیندار، رائے بولر اور نانک کی بہن، بی بی نانکی، کم عمر نانک میں مقدس خصوصیات پہچاننے والے اولین افراد تھے۔ انھوں نے نانک کو مطالعہ کرنے اور سفر کرنے کی ہمت بندھائی۔ سکھ روایات کے مطابق 1499ء کے لگ بھگ، 30 سال کے عمر میں انھیں ایک کشف ہوا۔ وہ غسل کرکے واپس نہ لوٹ سکے اور ان کے کپڑے کالی بین نامی مقامی چشمے کے کنارے ملے۔ قصبے کے لوگوں نے یہ خیال کیا کہ وہ دریا میں ڈوب گئے ہیں؛ دولت خان نے اپنے سپاہیوں کی مدد سے دریا کو چھان مارا، مگر ان کا نشان نہ ملا۔ گم شدگی کے تین دن بعد نانک دوبارہ ظاہر ہوئے، مگر خاموشی اختیار کیے رکھی۔

گرو نانک کو تعظیم پیش کرتے ہوئے

جس دن وہ بولے تو انھوں نے یہ اعلان کیا:

نہ کوئی ہندو ہے اور نہ کوئی مسلمان ہے، بلکہ سب صرف انسان ہیں۔ تو مجھے کس کے راستے پر چلنا چاہیے؟ مجھے خدا کے راستے پر چلنا چاہیے۔ خدا نہ ہندو ہے اور نہ مسلمان، اور میں جس راستے پر ہوں، وہ خدا کا راستہ ہے۔

نانک نے کہا کہ انھیں خدا کی بارگاہ میں لے جایا گیا تھا۔ وہاں انھیں امرت سے بھرا ایک پیالہ دیا گیا اور حکم ملا کہ

یہ نام خدا کی عقیدت کا پیالہ ہے۔ اسے پی لو۔ میں تمھارے ساتھ ہوں۔ میری تم پر رحمت ہے اور میں تمھیں بڑھاتا ہوں۔ جو تمھیں یاد رکھے گا، وہ میرے احسانات سے لطف اندوز ہوگا۔ جاؤ، میرے نام کی خوشی مناؤ اور دوسروں کو بھی اسی کی تبلیغ کرو۔ میں نے اپنے نام کی عنایات سے تمھیں نوازا ہے۔ اسے ہی اپنی مصروفیت بناؤ۔

اس واقعے کے بعد سے، نانک کو گرو (اتالیق، استاد) کہا گیا اور سکھ مت نے جنم لیا۔

سکھ مت کا بنیادہ عقیدہ انتقام اور کینہ پروری کی بجائے رحم دلی، اور امن کا پیغام پھیلانا ہے۔ سکھ مت حالیہ ترین قائم شدہ مذاہب میں سے ایک ہے۔ سکھ گرنتھ صاحب کی تعلیمات کی پیروی کرتے ہیں؛ یہ مقدس کتاب سکھ مت کے دس میں سے چھ گروؤں کے علاوہ بعض دیگر بزرگوں اور عقیدت مندوں کی تعلیمات پر مشتمل ہیں۔ گرنتھ صاحب کو سکھ مت میں سب سے زیادہ بالادستی حاصل ہے اور اسے سکھ مت کا گیارھواں اور آخری گرو تصور کیا جاتا ہے۔ سکھ مت کے پہلے گرو کی حیثیت سے، گرو نانک کے اس کتاب میں کل 974 بھجن شامل ہیں۔

تعلیمات[ترمیم]

گرو نانک کا نقش

نانک کی تعلیمات سکھ صحیفے گرو گرنتھ صاحب میں موجود ہیں، جو گرمکھی میں لکھے گئے اشعار کا مجموعہ ہے۔

گرو نانک کی تعلیمات سے متعلق دو نظریات پائے جاتے ہیں۔ ایک کی بنیاد، بقول کول اور سامبھی، مقدس جنم سکھی پر ہے جس کے مطابق سکھ مت 15ویں صدی میں اسلام اور ہندومت کی ہم آہنگی کی کوشش یا معاشرتی احتجاج کی تحریک نہیں، بلکہ نانک کی تعلیمات اور سکھ مت خدا کی طرف سے الہام تھا۔ دوسرا نظریہ، بقول سنگھا، کہتا ہے کہ ’’سکھ مت اوتار کا نظریہ یا پیغمبری کا تصور پیش نہیں کرتا۔ بلکہ اس کا محور گرو کا تصور ہے جو خدا کا مظہر نہیں ہوتا اور نہ ہی پیغمبر ہوتا ہے۔ وہ تو بس ایک روشن روح ہوتا ہے۔‘‘

مقدس جنم سکھیاں نانک نے خود نہیں لکھی تھیں، بلکہ بعد ازاں ان کے پیروکاروں نے تحریر کی تھیں جن میں تاریخی صحت کا خیال نہیں رکھا گیا، اور نانک کی شخصیت کو محترم بناکر پیش کرنے کی غرض سے متعدد داستانیں اور قصے تخلیق کیے گئے۔ کول اور سامبھی واضح کرتے ہیں کہ سکھ مت میں ’مکاشفہ‘ کی اصطلاح صرف نانک کی تعلیمات سے مخصوص نہیں، بلکہ اس میں تمام سکھ گروؤں کے علاوہ ماضی، حال اور مستقبل کے مرد و عورتوں کے اقوال بھی شامل ہیں، جنھیں مراقبے اور غور و فکر کے ذریعے الہامی طور پر علم حاصل ہوا۔ سکھ مکاشفات میں غیر سکھ بھگتوں کے اقوال بھی شامل ہیں، جو نانک سے کی پیدائش سے قبل ہی انتقال کرگئے تھے، اور ان کی تعلیمات سکھ صحیفوں میں شامل ہیں۔ منڈیر کے مطابق، ادی گرنتھ اور جانشین سکھ گرووؤں نے مسلسل اس بات پر زور دیا کہ سکھ مت ’’خدا کی طرف سے آوازیں سننے کا نام نہیں ہے، بلکہ یہ یہ انسانی دماغ کی خاصیت تبدیل کرنے سے متعلق ہے، اور کسی بھی شخص کو کسی بھی وقت براہ راست مشاہدہ اور روحانی کاملیت مل سکتی ہے۔‘‘ گرو نانک نے تاکید کی کہ تمام انسان بغیر کسی رسوم یا مذہبی پیشواؤں کے، خدا تک براہ راست رسائی پاسکتا ہے۔

اثرات[ترمیم]

نانک ایک ہندو گھرانے میں پلے بڑھے تھے اور بھگتی سنت عقائد سے تعلق رکھتے تھے۔ محققین کا کہنا ہے کہ گرو نانک اور سکھ مت کی بنیادیں قرون وسطیٰ کے ہندوستان میں بھگتی تحریک کے نیرنگی (بے ہیئت خدا) عقائد سے متاثر ہوئیں۔ تاہم، سکھ مت صرف بھگتی تحریک کی توسیع نہیں تھی۔ بلکہ سکھ مت کئی معاملات میں بھگتی سنت کبیر اور روی داس سے اختلاف کرتا ہے۔

لوئس فینیچ کے مطابق، سکھ عقائد کی جڑیں غالباً ہندوستان کے سنت-عقائد سے جڑی ہیں، جن کے نظریات نے بھگتی عقائد کی صورت اختیار کی۔ فینیچ مزید کہتے ہیں کہ، ’’مقدس سکھ صحیفے، گرو گرنتھ صاحب اور ثانوی صحیفے، دسم گرنتھ میں ہندوی داستانیں پھیلی ہوئی ہیں، اور عصر حاضر کے سکھوں اور ان کے اسلاف کے مقدس علامتی جہان میں بہت نازک فرق شامل کرتی ہیں۔‘‘

دورے[ترمیم]

جانشینی[ترمیم]

نانک نے بھائی لہنا کو اپنا جانشین گرو مقرر کیا اور ان کا نام گرو انگد رکھا، جس کے معنی ’’بہت ہی اپنے‘‘ یا ’’اپنے حصے‘‘ کے ہیں۔ بھائی لہنا کو اپنا جانشین مقرر کرنے کے کچھ ہی عرصے بعد، گرو نانک 22 ستمبر 1539ء کو کرتار پور میں، 70 برس کی عمر میں انتقال کرگئے۔

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. گرو نانک کو کئی دیگر ناموں سے بھی پکارا جاتا ہے، جیسے بابا نانک یا نانک شاہ۔
  2. "Srī Gurū Nānak Dev" [شری گرو نانک دیو]. انسائیکلوپیڈیا آف سکھ ازم (انگریزی میں). پنجاب یونیورسٹی پٹیالا. اخذ کردہ بتاریخ 1 Agust 2016.  Check date values in: |accessdate= (معاونت)
  3. ہائیر، تارا (1988). Economic History of Sikhs: Sikh Impact Volume 1 (سکھوں کی معاشی تاریخ: سکھ اثرات جلد 1). سرے، کینیڈا: انڈو-کینیڈین پبلشرز. p.14. 
  4. سدھو، داویندر (2009). Civil Rights in Wartime: The Post-9/11 Sikh Experience (زمانۂ جنگ میں شہری حقوق: 9/11 کے بعد سکھ تجربات). ایش گیٹ پبلشنگ لمیٹڈ. p.26. ISBN 978-1-4094-9691-5. 
  5. کھرانا، مینا (1991). The Indian Subcontinent in Literature for Children and Young Adults: An Annotated Bibliography of English-language Books (کم عمر اور بڑے بچوں کے ادب میں ہندوستانی برصغیر: انگریزی کتابوں کی تفسیری کتابیات). گرین ووڈ پبلشنگ گروپ. p.214. ISBN 978-0-313-25489-5. 
  6. پراسون، شری کانت (2007). Knowing Guru Nanak (گرو نانک سے آگاہی). پشتک محل. ISBN 9788122309805. 
  7. "Bhai Gurdas Vaaran" [بھائی گرو داس واران] (پنجابی گرمکھی، انگریزی میں). سرچ گروبانی. اخذ کردہ بتاریخ 1 Agust 2016.  Check date values in: |accessdate= (معاونت)

مزید مطالعہ[ترمیم]

بیرونی روابط[ترمیم]

پیشتر
سکھ گرو
20 اگست 1507ء – 7 ستمبر 1539ء
اگلا
گرو انگد دیو