گرینڈ فادر پیراڈاکس

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

گرینڈ فادر پیراڈاکس (انگریزی: Grandfather paradox) سائنس کی اصطلاح ہے۔آئن سٹائن کے نظریہِ اضافیت کے تحت آپ ماضی میں جا سکتے ہیں مگر یہاں بہت سے پیچیدہ سوالات پیدا ہوتے ہیں۔ جیسے فرض کیجئے کہ آپ ماضی میں جا کر اپنے دادا کو قتل کر دیں تو کیا آپ واپس مستقبل میں آ سکیں گے اور کیا آپ جو اپنے دادا کو قتل کرآئے ہیں تو آپ تو پیدا ہی نہیں ہو سکتے، پھر آپ ماضی میں جا کر اپنے دادا کو کیسے قتل کر آئے؟ ابھی تک تو اس حوالے سے جو تھیوریز آئی ہیں ان کے مطابق آپ ماضی میں تو جا سکتے ہیں مگر وہاں کچھ تبدیل نہیں کر سکتے۔ یعنی آپ صرف ماضی کو دیکھ سکتے ہیں۔ ماہرین نے اس مسئلے ایک اور حل یہ نکالا گیا کہ آپ اپنے ماضی میں نہیں بلکہ اپنی ہی جیسی اپنی کاپی کے ماضی میں جائیں گے اور اُسکے دادا کو ماریں گے نہ کہ اپنے۔ ( اس سے آپ کو کچھ نہیں ہوگا)۔ آپکے دادا آپکے ماضی میں زندہ رہیں گے۔ مگر یہ دراصل حل نہیں ہے کیونکہ آپ ایک طرح سے مسئلے کو نظر انداز کر کے نئی کاپی بنا رہے ہیں۔ اصل مسئلہ جوں کا توں ہے، کہ آپ اگر ماضی میں اپنے دادا کو مارتے ہیں تو آپکا ہونا ناممکن ہے اور اگر آپکا ہونا ناممکن ہے تو آپ اپنے دادا کو کیسے مار سکتے ہیں؟ کوانٹم میکینکس میں ایٹمی ذرات جیسے کے الیکٹران، وغیرہ superposition میں ہوتے ہیں۔ یعنی الیکٹران کا گھماؤ سیدھا یا اُلٹا ایک ہی وقت میں دونوں ممکن ہیں۔ جب تک اسکا مشاہدہ نہ کیا جائے، الیکٹران ایک ہی وقت میں سیدھا اور اُلٹا گھوم رہا ہوتا ہے۔ ایسا ہی کچھ اس مسئلے میں بھی ممکن ہے گویا آپ اور آپکے دادا بیک وقت زندہ اور مردہ دونوں حالتوں میں ہوں۔ حالیہ دنوں میں مگر اسکا ایک اور دلچسپ حل سامنے آیا ہے۔ وہ یہ کہ آپ اپنے دادا کو ماضی میں جا کر مار بھی دیں تب بھی آپ رہیں گے۔ حل یہ ہے کہ وقت یا ماضی میں کوئی خلل آ بھی جائے تو وہ اُسے خود سے ٹھیک کر دیتا ہے۔ یعنی اگر آپ اپنے دادا کو مار بھی دیں تب بھی اُسکے بعد واقعات ایسے تبدیل ہونگے یا خود کو ایسے ترتیب دینگے کہ یہ یقینی بن سکے کہ دادا کو مارنے کو باوجود آپ مستقبل میں موجود ہوں۔ اگر ایک واقعہ ہوچکا ہےاور اُسکے نتیجے میں دوسرا واقعہ ہونا ہے تو وہ جیسے تیسے ہو کر ہی رہے گا۔ آپ کچھ نہیں کر سکتے۔[1]

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]