گستاف فلابیر

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
گستاف فلابیر

Gustave Flaubert

Gustave Flaubert young.jpg
پیدائش 12 دسمبر 1821(1821-12-12)
روئن، نارمنڈی، فرانس
وفات 8 مئی 1880(1880-50-80) (عمر  58 سال)روئن، نارمنڈی، فرانس
قلمی نام گستاف فلابیر
پیشہ مصنف
زبان فرانسیسی
قومیت Flag of France.svg فرانس
نسل فرانسیسی
اصناف افسانہ، ناول، ڈراما
ادبی تحریک حقیقت پسندی، رومانیت

گستاف فلابیر (/flˈbɛər/;[1] فرانسیسی: [ɡystav flobɛʁ]) (پیدائش: 12 دسمبر 1821ء - وفات: 8 مئی 1880ء) انیسویں صدی کا فرانسیسی کا ناول و افسانہ نگار، ڈراما نویس، مشہور ناول مادام بواری کا خالق، حقیقت پسند مکتبِ فکر کا نمائندہ، افسانہ نویسی کا ماہر اور موپاساں کا سرپرست تھا۔

حالات زندگی[ترمیم]

گستاف فلابیر بمقام روئن، نارمنڈی، فرانس میں ایک ڈاکٹر خاندان میں پیدا ہوا۔ آپ کے والد روئن میں چیف سرجن اور کلینیکل پروفیسر تھے[2][3]۔ ابتدائی تعلیم روئن میں پائی اور پھر قانون کی تعلیم کے لئے پیرس چلے گئے، جس سے انھیں کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ 1846ء میں اپنے باپ اور بہن کی موت کے بعد اس نے پیرس چھوڑ دیا کیونکہ روئن کے قریب کرویاسے (Croisset) کے مقام پر وہ اپنی ماں کے لیے ایک گھر بنانا چاہتا تھا۔ یہی مقام فلابیر کا گھر بن گیا جہاں وہ عمر بھر رہا۔[4]

1846ء سے 1854ء تک شاعرہ لوئزکولے (Louise Colet) سے اس کا گہرا تعلق رہا۔ ان کے محبت نامے محفوظ کر لیے گئے ہیں۔ بعض تذکرہ نگار لکھتے ہیں کہ اس کی زندگی کا صرف یہی ایک جذباتی واقع تھا کیونکہ وہ عمربھر کنوارا ہی رہا۔[5]

ادبی خدمات[ترمیم]

1849ء میں اس نے مشرق کا سفر کیا۔ یونان اور مصر اس کے تخیل و تفکر پر ایسے اثرانداز ہوئے کہ 1850ء میں مشرق سے واپسی پر اس نے اپنی شاہکار کتاب "مادام بواری" 1857ء (Madame Bovary) لکھنا شروع کیا۔ اس کے لکھنے میں تقریباً چھ سال لگے لیکن جب یہ چھی تو عوام نے بڑی پسندیدگی کا اظہار کیا۔ پھر اس نے "سلامبو" (Salammbô) لکھنا شروع کیا جو ایک تاریخ ناول ہے اور 1862ء میں شائع ہوا۔ فلابیر نے اپنے عہد کے طرز معازرت اور طوروطریق کا بھی مطالعہ کیا اور اپنی طفلی و شباب کی یادوں کو کام لاکر 1866ء میں (L’Education sentimentale) لکھی۔ اسی دوران میں کئی مصیبتیں اس پر آپڑیں۔ اس کی صحت گر گئی۔ اعصابی کمزوری مین مبتلا ہوگیا۔ اس کے اچھے دوست یا تو مر گئے یا غلط فہمیوں کے باعث اسے چھوڑ گئے۔ ان حالات اور دوسرے عناصر نے مل کر اسے تنہا اور محزوں کردیا۔ باوجود اس کے اس نے لکھنا ترک نہیں کیا۔ پھر اس کی ایک کتاب ( La Tentation de Saint Antoine) سامنے آئی اور 1877ء میں تین کہانیوں کا مجموعہ (Trois Contes) کے نام سے شائع ہوا۔ وفات سے پہلے اس کی آخری تخلیق (Bouvard et Pécuchet) تھی جس کے بارے میں اسے یقین تھا کہ اس کا شاہکار ہے۔[5]

وفات[ترمیم]

1870ء تک وہ اپنی صحت کھو چکا تھا۔ بالآخر 59 سال کی عمر میں مرگی کے ایک ہی حملے میں 8 مئی 1880ء کو کرویاسے، روئن، فرانس میں اس کا انتقال ہو گیا۔[2]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. "Flaubert". Random House Webster's Unabridged Dictionary.
  2. ^ 2.0 2.1 گستاف فلابیر، دائرۃالمعارف برطانیکا آن لائن
  3. گستاف فلابیر،ڈی لٹریچر نیٹ ورک
  4. جامع اردو انسائیکلوپیڈیا (جلد-1 ادبیات)، قومی کونسل برائے فروغِ اردو زبان، نئی دہلی،2003ء، ص 411-412
  5. ^ 5.0 5.1 جامع اردو انسائیکلوپیڈیا (جلد-1 ادبیات)، قومی کونسل برائے فروغِ اردو زبان، نئی دہلی،2003ء، ص 412