گستاف فلابیر

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
گستاف فلابیر

Gustave Flaubert

(فرانسیسی میں: Gustave Flaubert خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقامی زبان میں نام (P1559) ویکی ڈیٹا پر
گستاف فلابیر

معلومات شخصیت
پیدائش 12 دسمبر 1821[1][2][3][4][5][6][7][8][9][10][11][12]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
روان، فرانس[13][14]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
وفات 8 مئی 1880 (59 سال)[1][2][3][4][5][6][8][9][10][11][12]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
وجۂ وفات دماغی جریان خون  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں وجۂ وفات (P509) ویکی ڈیٹا پر
طرز وفات طبعی موت  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں طرزِ موت (P1196) ویکی ڈیٹا پر
قومیت Flag of France.svg فرانس
عرفیت گستاف فلابیر
نسل فرانسیسی
عملی زندگی
صنف افسانہ، ناول، ڈراما
ادبی تحریک حقیقت پسندی، رومانیت
پیشہ مصنف
پیشہ ورانہ زبان فرانسیسی[15]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں زبانیں (P1412) ویکی ڈیٹا پر
عسکری خدمات
لڑائیاں اور جنگیں فرانسیسی جرمن جنگ 1870-71  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں لڑائی (P607) ویکی ڈیٹا پر
ویب سائٹ
IMDb logo.svg
IMDB پر صفحہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں آئی ایم ڈی بی - آئی ڈی (P345) ویکی ڈیٹا پر
P literature.svg باب ادب

گستاف فلابیر (/flˈbɛər/;[16] فرانسیسی: [ɡystav flobɛʁ]) (پیدائش: 12 دسمبر 1821ء - وفات: 8 مئی 1880ء) انیسویں صدی کا فرانسیسی کا ناول و افسانہ نگار، ڈراما نویس، مشہور ناول مادام بواری کا خالق، حقیقت پسند مکتبِ فکر کا نمائندہ، افسانہ نویسی کا ماہر اور موپاساں کا سرپرست تھا۔

حالات زندگی[ترمیم]

گستاف فلابیر بمقام روئن، نارمنڈی، فرانس میں ایک ڈاکٹر خاندان میں پیدا ہوا۔ آپ کے والد روئن میں چیف سرجن اور کلینیکل پروفیسر تھے[17]۔[18] ابتدائی تعلیم روئن میں پائی اور پھر قانون کی تعلیم کے لیے پیرس چلے گئے، جس سے انھیں کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ 1846ء میں اپنے باپ اور بہن کی موت کے بعد اس نے پیرس چھوڑ دیا کیونکہ روئن کے قریب کرویاسے (Croisset) کے مقام پر وہ اپنی ماں کے لیے ایک گھر بنانا چاہتا تھا۔ یہی مقام فلابیر کا گھر بن گیا جہاں وہ عمر بھر رہا۔[19]

1846ء سے 1854ء تک شاعرہ لوئزکولے (Louise Colet) سے اس کا گہرا تعلق رہا۔ ان کے محبت نامے محفوظ کر لیے گئے ہیں۔ بعض تذکرہ نگار لکھتے ہیں کہ اس کی زندگی کا صرف یہی ایک جذباتی واقع تھا کیونکہ وہ عمربھر کنوارا ہی رہا۔[20]

ادبی خدمات[ترمیم]

1849ء میں اس نے مشرق کا سفر کیا۔ یونان اور مصر اس کے تخیل و تفکر پر ایسے اثرانداز ہوئے کہ 1850ء میں مشرق سے واپسی پر اس نے اپنی شاہکار کتاب "مادام بواری" 1857ء (Madame Bovary) لکھنا شروع کیا۔ اس کے لکھنے میں تقریباً چھ سال لگے لیکن جب یہ چھی تو عوام نے بڑی پسندیدگی کا اظہار کیا۔ پھر اس نے "سلامبو" (Salammbô) لکھنا شروع کیا جو ایک تاریخ ناول ہے اور 1862ء میں شائع ہوا۔ فلابیر نے اپنے عہد کے طرز معازرت اور طوروطریق کا بھی مطالعہ کیا اور اپنی طفلی و شباب کی یادوں کو کام لاکر 1866ء میں (L’Education sentimentale) لکھی۔ اسی دوران میں کئی مصیبتیں اس پر آپڑیں۔ اس کی صحت گر گئی۔ اعصابی کمزوری مین مبتلا ہو گیا۔ اس کے اچھے دوست یا تو مر گئے یا غلط فہمیوں کے باعث اسے چھوڑ گئے۔ ان حالات اور دوسرے عناصر نے مل کر اسے تنہا اور محزوں کر دیا۔ باوجود اس کے اس نے لکھنا ترک نہیں کیا۔ پھر اس کی ایک کتاب ( La Tentation de Saint Antoine) سامنے آئی اور 1877ء میں تین کہانیوں کا مجموعہ (Trois Contes) کے نام سے شائع ہوا۔ وفات سے پہلے اس کی آخری تخلیق (Bouvard et Pécuchet) تھی جس کے بارے میں اسے یقین تھا کہ اس کا شاہکار ہے۔[20]

وفات[ترمیم]

1870ء تک وہ اپنی صحت کھو چکا تھا۔ بالآخر 59 سال کی عمر میں مرگی کے ایک ہی حملے میں 8 مئی 1880ء کو کرویاسے، روئن، فرانس میں اس کا انتقال ہو گیا۔[17]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ ا ب اجازت نامہ: CC0
  2. ^ ا ب http://data.bnf.fr/ark:/12148/cb11902894q — اخذ شدہ بتاریخ: 10 اکتوبر 2015 — اجازت نامہ: آزاد اجازت نامہ
  3. ^ ا ب Gustave Flaubert
  4. ^ ا ب ایس این اے سی آرک آئی ڈی: http://snaccooperative.org/ark:/99166/w6bk1qnc — بنام: Gustave Flaubert — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017
  5. ^ ا ب انٹرنیٹ بروڈوے ڈیٹا بیس پرسن آئی ڈی: https://www.ibdb.com/person.php?id=5980 — بنام: Gustave Flaubert — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017
  6. ^ ا ب دائرۃ المعارف اطالوی ثقافت آئی ڈی: http://enciclopedia.itaucultural.org.br/pessoa516651/gustave-flaubert — بنام: Gustave Flaubert — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017 — مصنف: Itaú Cultural — ناشر: Itaú Cultural — ISBN 978-85-7979-060-7
  7. NE.se ID: https://www.ne.se/uppslagsverk/encyklopedi/lång/gustave-flaubert — بنام: Gustave Flaubert — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017 — عنوان : Nationalencyklopedin
  8. ^ ا ب فائنڈ اے گریو میموریل شناخت کنندہ: https://www.findagrave.com/cgi-bin/fg.cgi?page=gr&GRid=4325 — بنام: Gustave Flaubert — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017
  9. ^ ا ب ISFDB author ID: http://www.isfdb.org/cgi-bin/ea.cgi?2053 — بنام: Gustave Flaubert — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017
  10. ^ ا ب ڈسکوجس آرٹسٹ آئی ڈی: https://www.discogs.com/artist/769158 — بنام: Gustave Flaubert — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017
  11. ^ ا ب NooSFere author ID: https://www.noosfere.org/livres/auteur.asp?numauteur=-48129 — بنام: Gustave FLAUBERT — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017
  12. ^ ا ب بنام: Gustave Flaubert — فلم پورٹل آئی ڈی: https://www.filmportal.de/a55ac306392947bb968b1551227068eb — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017
  13. اجازت نامہ: CC0
  14. مدیر: الیکزینڈر پروکورو — عنوان : Большая советская энциклопедия — اشاعت سوم — باب: Флобер Гюстав — ناشر: Great Russian Entsiklopedia, JSC
  15. http://data.bnf.fr/ark:/12148/cb11902894q — اخذ شدہ بتاریخ: 10 اکتوبر 2015 — اجازت نامہ: آزاد اجازت نامہ
  16. "Flaubert". Random House Webster's Unabridged Dictionary.
  17. ^ ا ب گستاف فلابیر، دائرۃالمعارف برطانیکا آن لائن
  18. گستاف فلابیر،ڈی لٹریچر نیٹ ورک
  19. جامع اردو انسائیکلوپیڈیا (جلد-1 ادبیات)، قومی کونسل برائے فروغِ اردو زبان، نئی دہلی،2003ء، ص 411-412
  20. ^ ا ب جامع اردو انسائیکلوپیڈیا (جلد-1 ادبیات)، قومی کونسل برائے فروغِ اردو زبان، نئی دہلی،2003ء، ص 412