گلاب بائی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
گلاب بائی
معلومات شخصیت
پیدائش 1926
بالپوروا, قنوج ضلع, اتر پردیش, India
وفات 1996
بھارت  ویکی ڈیٹا پر (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت British Raj Red Ensign.svg برطانوی ہند
Flag of Indiana.svg انڈیانا  ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
پیشہ Stage performer
Folk musician
وجہ شہرت نوٹنکی
اعزازات
پدم شری

گلاب بائی (1926ء-1996ء) جنہیں گلاب جان بھی کہا جاتا تھا، نوٹنکی کی مشہور و معروف اداکارہ تھی۔[1] وہ روایتی ڈراما کی پہلی خاتون اداکارہ ہے جنہیں کئی لوگوں نے سراہا ہے۔[2][3] وہ گریٹ گلاب تھیٹر کمپنی کا بانی تھیں۔ یہ کمپنی تھیٹر کی دنیا میں ایک کامیاب نام سے طور پر جانی جاتی ہے۔[4] حکومت ہند نے انہیں 1990ء میں چوتھا بڑا شہری اعزاز پدم شری سے نوازا۔[5]

حیات[ترمیم]

گلاب بائی کی ولادت 1926ء میں ضلع فرخ آباد کے بال پوروا نامی گاوں میں ہوئی۔ ان کا تعلق اتر پردیش کے بیدیہ قبیلہ سے تھا جو پسماندہ قبیلہ ہے اور لوگوں کی تفریح کا کام کرتا تھا۔[1][6] انہوں نے روایتی ناچ اور گلوکاری کی تعلیم کانپور گھرانہ کے استاد تری موہن لال اور ہاتھرس گھرانہ کے استاد محمد خان سے حاصل کی اور 1931ء میں بعمر 13 سال استاد تری موہن لال کے ساتھ پہلی بار عام میں اپنا جوہر دکھایا۔ جلد ہی انہوں نے اپنا الگ انداز اختیار کر لیا اور عوام میں گوبا جان کے نام مشہور ہوگئی۔

اپنی مقبولیت کو دیکھتے ہوئے انہوں نے اپنی الگ کمپنی بنائی اور اس کا نام دی گریٹ بلاگ تحیٹر کمپنی رکھا۔ مگر ان کے استاد تری موہن ان کے اس قدم سے خوش نہیں تھے۔[4] کمپنی نے بہت جلد شہرت کی منزلیں طے کرنا شروع دی۔ گلاب جان کی اداکاری، ان کا منفرد انداز اور ان کی ابھرتی جوانی نے عوام کو کشا کشا اپنی جانب متوجہ کیا اور 1960ء کی دہائی میں ان کا دور دورہ تھا۔[2] انہوں نے اپنی چھوٹی بہن سوخ بدن (نندا گوہا) کو بھی اپنے کام میں شامل کر لیا جو بعد کے دنوں میں خود ایک اچھی اداکارہ بن گئیں۔[4] ان کی بیٹی مدھو بھی مشہور اداکارہ تھی۔ بعد کے دنوں میں تھیٹر کا زوال ہونا شروع ہوگیا۔[6]

1990ء میں حکومت ہند نے انہیں چوتھے بڑے شہری اعزاز پدم شری سے نواز کر ان کے کام اور خدمت کو سراہا۔[5] اس کے 6 سال بعد بعمر 70 سال وہ اس دنیا سے انتقال کرگئیں۔[1] دیپتی پریا نے گلاب بائی، دی کوین آف نوٹنکی تھیٹر کے نام سے ان کی زندگی پر ایک کتاب لکھی جسے پینگوئن نے شائع کیا۔[7] مئی 2014ء کو کانپور میں ایک ڈراما کا انعقاد کیا گیا جس میں گلاب بائی زندگی کو دکھایا گیا تھا۔[8]

مزید دیکھئے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ ا ب پ Ananda Lal (2004). "Gulab Bai (1926–96)". The Oxford Companion to Indian Theatre. ISBN 978-0-19-564446-3. اخذ شدہ بتاریخ 28 ستمبر 2015. 
  2. ^ ا ب "Dying Drama". Booji. 2015. 10 مئی 2012 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 28 ستمبر 2015. 
  3. "Amazon profile". Amazon. 2015. اخذ شدہ بتاریخ 28 ستمبر 2015. 
  4. ^ ا ب پ "Biography Page 179". Rediff. 2015. اخذ شدہ بتاریخ 29 ستمبر 2015. 
  5. ^ ا ب "Padma Awards" (PDF). Ministry of Home Affairs, Government of India. 2015. اخذ شدہ بتاریخ 21 جولائی 2015. 
  6. ^ ا ب "Penguin Books profile". Penguin Books. 2015. اخذ شدہ بتاریخ 28 ستمبر 2015. 
  7. Deepti Priya Mehrotra (2006). Gulab Bai: The Queen of Nautanki Theatre. Penguin India. صفحہ 318. ISBN 978-0-14-310043-0. 
  8. "Actors and theatre artists watch the play 'Gulab Bai' in Lucknow". Times of India. 12 مئی 2014. اخذ شدہ بتاریخ 29 ستمبر 2015.