گل بکاولی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

گل بکاولی : ایک مثنوی ہے، جس کے تخلیق کار دیا شنکر نسیم ہیں۔

مختصر تعارف[ترمیم]

مثنوی کی کہانی مختصراً یہ ہے کہ شہزادہ تاج الملوک اپنے باپ کے اندھے پن کا علاج کرنے کے لیے پریوں کی شہزادی بکاولی کے باغ سے پھول چرالیتا ہے۔ بکاولی اپنے پھول کی تلاش میں نکلتی ہے لیکن شہزادے کو دیکھ کرپہلی ہی نظر میں اس کی محبت میں گرفتار ہو جاتی ہے۔ بکاولی کی ماں اپنی بیٹی کو ایک آدم زاد کے ساتھ پاکر آگ بگولا ہو جاتی ہے اور شہزادے کو زیرِ زمین قید کر دیتی ہے۔ لیکن شہزادی کی وفادارسہیلی دلبر کی وجہ سے غلط فہمیاں دور ہوتی ہیں اورآخر میں تاج الملوک اور بکاولی کی شادی ہو جاتی ہے۔