مندرجات کا رخ کریں

گناہ( فقہی اصطلاح)

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے

گناہ (عربی: ذنب، إثم یا معصیت) شریعتِ اسلامی میں کسی ممنوعہ کام (حرام) کو کرنے یا کسی لازمی حکم (واجب) کو جان بوجھ کر چھوڑنے کا نام ہے، جس کی وجہ سے انسان سزا یا ملامت کا مستحق بن جاتا ہے۔[1]

لغوی اور اصطلاحی معنی

[ترمیم]

عربی زبان اور شریعت کی کتابوں میں "گناہ" کے لیے کئی الفاظ استعمال ہوتے ہیں۔ اصولیین کے نزدیک حرام کام کرنے کو ہی گناہ کہا جاتا ہے۔ مشہور کتاب "شرح الکوکب المنیر" میں بتایا گیا ہے کہ حرام کو مختلف وجوہات کی بنا پر ان ناموں سے بھی پکارا جاتا ہے:[1]

  • معصیت: چونکہ شریعت نے اس کام سے صاف منع کیا ہوتا ہے، اس لیے اسے "معصیت" یعنی نافرمانی کہا جاتا ہے۔[1]
  • ذنب: چونکہ اس کام پر جواب دہی اور سزا کی توقع ہوتی ہے، اسے "ذنب" کہا جاتا ہے۔[1]
  • محظور: یہ لفظ "حظر" سے بنا ہے جس کا مطلب روکنا ہے؛ چونکہ شریعت اس کام سے روکتی ہے، اسے "محظور" کہتے ہیں۔[1]
  • اس کے علاوہ اسے اس کے برے نتائج کی وجہ سے "ممنوع"، "قبیح"، "سیئہ"، "فاحشہ"، "إثم" اور "عقوبت" جیسے ناموں سے بھی پکارا جاتا ہے۔[1]

اصول فقہ کے قاعدے کے مطابق واجب اور مستحب کام کرنے سے ثواب ملتا ہے، جبکہ حرام اور مکروہِ تحریمی کام کرنے سے اور واجب کاموں کو چھوڑنے سے، سزا کا حق دار بنتا ہے۔[2] عز الدین بن عبد السلام نے اپنی کتاب میں یہ بھی بتایا ہے کہ گناہ کو کبھی "فسق" (اطاعت سے نکل جانا)، کبھی "إثم" (جس پر دل میں بوجھ محسوس ہو) اور کبھی "فاحشہ" (بہت برا کام) بھی کہا جاتا ہے۔[3]

فقہ کی نظر میں گناہ صرف دل کی کیفیت نہیں بلکہ ایک ایسا قول یا فعل ہے جس سے شریعت کے حکم کی خلاف ورزی ہو۔ اسی لیے فقہا اس بات کو دیکھتے ہیں کہ آیا اس فعل سے کسی کا حق ضائع ہوا ہے، کیا اس پر دنیا میں سزا (حد یا تعزیر) لاگو ہو گی، کیا اس سے کوئی عقد یا عبادت خراب ہو گئی اور کیا اس سے کرنے والا شخص "فاسق" قرار پائے گا یا نہیں۔

گناہ کی بنیادی قسمیں

[ترمیم]

قرآن مجید اور احادیثِ نبویہ سے پتا چلتا ہے کہ گناہ اپنے اثر اور شدت کے لحاظ سے ایک جیسے نہیں ہوتے، بلکہ ان میں چھوٹے اور بڑے کا فرق پایا جاتا ہے۔[4] اس کی سب سے بڑی دلیل سورۃ النساء کی آیت 31 ہے: {إِنْ تَجْتَنِبُوا كَبَائِرَ مَا تُنْهَوْنَ عَنْهُ نُكَفِّرْ عَنْكُمْ سَيِّئَاتِكُمْ} یعنی "اگر تم بڑے گناہوں سے بچتے رہو جن سے تمھیں روکا جاتا ہے، تو ہم تمھارے چھوٹے گناہ معاف کر دیں گے"۔[4]

صغیرہ گناہ

[ترمیم]

صغیرہ وہ چھوٹے گناہ ہیں جن پر نہ تو دنیا میں کوئی مقررہ سزا (حد) رکھی گئی ہے اور نہ ان پر کوئی خاص سخت وعید یا لعنت آئی ہے۔ اگر انسان ان چھوٹے گناہوں پر بار بار قائم نہ رہے تو وہ ان کی وجہ سے فاسق نہیں بنتا اور اس کی گواہی بھی رد نہیں کی جاتی۔ البتہ ایک مشہور فقہی اصول ہے: "لا صغیرة مع الاصرار ولا کبیرة مع الاستغفار"، یعنی بار بار کرنے سے چھوٹا گناہ بھی بڑا بن جاتا ہے اور سچی توبہ و استغفار سے بڑا گناہ بھی معاف ہو سکتا ہے۔

کبیرہ گناہ

[ترمیم]

کبیرہ وہ بڑے گناہ ہیں جن کی سنگینی صغیرہ گناہوں سے کہیں زیادہ ہوتی ہے اور جن کے بارے میں شریعت میں سخت وعیدیں آئی ہیں۔ ان کی مکمل تفصیل نیچے دی گئی ہے۔

کبیرہ گناہ کی پہچان کے طریقے

[ترمیم]

علما کے مابین اس پر تفصیلی بحث ہے کہ کبیرہ گناہ کی اصل پہچان کیا ہے۔ اس کے لیے بنیادی طور پر دو طریقے اپنائے گئے ہیں۔[5]

ضابطہ اور تعریف کے ذریعے پہچان

[ترمیم]
  • سب سے مشہور رائے (وعید کا ضابطہ): زیادہ تر علما کے نزدیک درست بات یہ ہے کہ کبیرہ ہر وہ گناہ ہے جس پر شریعت میں خاص طور پر سخت وعید آئی ہو، جیسے اللہ کا غصہ، لعنت، جہنم کا عذاب یا جنت سے محرومی کا ذکر۔[5][6] اس کی تائید ان احادیث سے بھی ہوتی ہے جن میں "اللہ کا غضب" یا "لعنت" کا ذکر آیا ہو۔[7]
  • حد کا ضابطہ: کچھ فقہا کہتے ہیں کہ کبیرہ گناہ وہ ہے جس پر شریعت نے دنیا میں کوئی مخصوص سزا (حد) مقرر کی ہو۔[5][6]
  • امام الحرمین الجوینی کی رائے: ان کے نزدیک کبیرہ ہر وہ گناہ ہے جس سے یہ ظاہر ہو کہ کرنے والے کے دل میں دین کی بے قدری اور ایمان کی کمزوری ہے۔[5][6]
  • علامہ البرماوی کی رائے: ان کے نزدیک کبیرہ گناہ وہ کام ہے جس سے ظاہر ہو کہ کرنے والا دین کے معاملے میں سست اور بے پروا ہے۔[8]

گنتی کے ذریعے پہچان

[ترمیم]

کچھ پرانے علما نے کبیرہ گناہوں کو گن کر بتانے کی کوشش کی ہے۔ اس میں بھی علما کا اختلاف ہے: کچھ نے ان کی تعداد سات بتائی، کچھ نے ستر، جبکہ کچھ نے سات سو تک بھی گنی ہے۔[5]

مشہور کبیرہ گناہوں کی مثالیں

[ترمیم]

فقہ کی معتبر کتابوں میں یہ کام کبیرہ گناہوں میں شمار کیے گئے ہیں، جن سے بچنا ہر مسلمان پر لازم ہے:

  • قتل ناحق: کسی بے گناہ انسان کو جان بوجھ کر اور ظلم سے قتل کرنا سب سے بڑا گناہ ہے۔[6][8]
  • زنا اور لواطت: یہ دونوں کام سخت ترین گناہوں میں شامل ہیں کیونکہ یہ خاندانی نظام اور نسل کو تباہ کرتے ہیں۔[6]
  • شراب اور نشہ آور چیزیں: شراب پینا یا کوئی بھی ایسی چیز جو عقل کو خراب کر دے، تھوڑی مقدار میں بھی ہو تو کبیرہ گناہ سمجھی جاتی ہے۔[6]
  • چوری اور زبردستی قبضہ: کسی کا مال چوری کرنا یا زبردستی کسی کی زمین یا چیز پر قبضہ کرنا۔[6]
  • قذف: کسی پاک دامن مرد یا عورت پر زنا کی جھوٹی تہمت لگانا۔[6]
  • یتیم کا مال کھانا اور والدین کی نافرمانی: یتیم کا مال ناحق کھانا، والدین کی نافرمانی کرنا، جھوٹی گواہی دینا، جھوٹی قسم کھانا، چغلی کھانا اور وصیت میں جان بوجھ کر وارثوں کو نقصان پہنچانا بھی کبیرہ گناہوں میں شامل ہیں۔[9]

حقوق اللہ اور حقوق العباد کے لحاظ سے گناہ کی تقسیم

[ترمیم]

فقہ میں گناہ کی تلافی اور اس کے احکام اس بات پر منحصر ہوتے ہیں کہ گناہ سے کس کا حق متاثر ہوا ہے:

  • حقوقِ الٰہی: وہ گناہ جن کا تعلق صرف اللہ کے حکم اور معاشرتی نظم کی خلاف ورزی سے ہے، جیسے نماز چھوڑنا، بغیر عذر روزہ نہ رکھنا یا شراب پینا۔ ان کا تعلق زیادہ تر توبہ، قضا، کفارے یا حد سے ہوتا ہے اور معافی کا دار و مدار توبہ پر ہوتا ہے۔
  • حقوقِ بندگان: وہ گناہ جن سے کسی انسان کا مالی، جانی یا عزت کا حق ضائع ہوا ہو، جیسے چوری، قتل، غیبت یا خیانت۔ صرف اللہ سے توبہ کرنے سے یہ گناہ ختم نہیں ہوتا، بلکہ جب تک صاحبِ حق کو اس کا حق واپس نہ کیا جائے یا وہ خود معاف نہ کر دے، ذمہ داری قائم رہتی ہے۔

گناہ کے شرعی اور قانونی اثرات

[ترمیم]

جب کسی شخص کا گناہ ثابت ہو جائے تو فقہ میں اس پر یہ احکام لاگو ہوتے ہیں:

حد اور تعزیر

[ترمیم]

کبیرہ گناہ ثابت ہونے پر دنیا میں شرعی سزائیں یعنی حدود لاگو ہوتی ہیں (جیسے چوری پر ہاتھ کاٹنا یا زنا پر کوڑے مارنا)، جبکہ بعض گناہوں پر حاکم اپنی صوابدید کے مطابق تعزیری سزا دیتا ہے۔[7]

عدالت کا ختم ہونا اور فسق

[ترمیم]

کبیرہ گناہ کرنے یا چھوٹے گناہوں پر بار بار قائم رہنے سے انسان "عادل" نہیں رہتا بلکہ "فاسق" بن جاتا ہے۔[8] اس کا اثر یہ ہوتا ہے کہ عدالت میں اس کی گواہی اور حدیث کی روایت قبول نہیں کی جاتی، جب تک وہ اپنی اصلاح اور سچی توبہ نہ کر لے۔[8][5]

کفارہ اور ضمان

[ترمیم]

بعض گناہوں پر کفارہ ادا کرنا واجب ہوتا ہے، جیسے غلطی سے کسی کو قتل کرنا، قسم توڑنا یا روزے کی حالت میں جماع کرنا، تاکہ اس گناہ کا اثر ختم ہو سکے۔ اگر گناہ سے کسی کا مالی یا جانی نقصان ہوا ہو تو اس کا معاوضہ (ضمان) دینا بھی لازم ہوتا ہے۔

عقد یا عبادت کا خراب ہونا

[ترمیم]

اگر گناہ کا تعلق کسی عقد یا عبادت کی شرط سے ہو، جیسے چرائی ہوئی زمین پر نماز پڑھنا یا سود پر مبنی معاملہ کرنا، تو ایسا عمل شریعت کی نظر میں فاسد یا باطل ہو جاتا ہے۔

مزید دیکھیے

[ترمیم]

حوالہ جات

[ترمیم]
  1. 1 2 3 4 5 6 ابن النجار الفتوحی (1997)۔ شرح الکوکب المنیر۔ بیروت: دار الکتب العلمیہ۔ ج 1۔ ص 386
  2. ↑ سعد الدین التفتازانی (1995)۔ التلویح علی التوضیح لمتن التنقیح۔ بیروت: دار الکتب العلمیہ۔ ج 1۔ ص 17
  3. ↑ عز الدین بن عبد السلام (1987)۔ الامام فی بیان ادلۃ الاحکام۔ بیروت: دار البشائر الاسلامیہ۔ ج 1۔ ص 115
  4. 1 2 شہاب الدین الکورانی (2004)۔ الدرر اللوامع فی شرح جمع الجوامع۔ بیروت: دار الکتب العلمیہ۔ ج 3۔ ص 78
  5. 1 2 3 4 5 6 شہاب الدین القرافی (2015)۔ جزء من شرح تنقیح الفصول۔ مکہ مکرمہ: جامعۃ ام القری۔ ج 2۔ ص 234
  6. 1 2 3 4 5 6 7 8 زکریا الانصاری (1920)۔ غایۃ الوصول فی شرح لب الاصول۔ مصر: دار الکتب العربیۃ الکبری۔ ج 1۔ ص 105
  7. 1 2 محمد الحبش (2010)۔ شرح المعتمد فی اصول الفقہ۔ دمشق: دار الفکر۔ ج 1۔ ص 78
  8. 1 2 3 4 محمد بن عبد الدائم البرماوی (2013)۔ الفوائد السنیۃ فی شرح الالفیہ۔ قاہرہ: مکتبۃ التوعیۃ الاسلامیہ۔ ج 2۔ ص 553
  9. ↑ ابن النجار الفتوحی (1997)۔ شرح الکوکب المنیر۔ بیروت: دار الکتب العلمیہ۔ ج 2۔ ص 402