گنگا گووند سنگھ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

گنگا گووند سنگھ پاكپاڑا خاندان (بنگال) کا ایک نامور شخص جو وارن ہیسٹنگز کا دیوان تھا۔ گنگا گووند سنگھ کی شہرت اس کے سیاہ کارناموں کی وجہ سے ہوئی اور ان کی بنا پر اسے ہندوستانی تاریخ میں مقام ملا۔

وہ مغربی راٹھی کائیستھ معاشرے کے لکشمی گھر نسل سے تھا۔ اس کے والد کا نام گورانگ تھا۔ شروع میں وہ بنگال کے نائب صوبیدار محمد رضا خاں کے تحت قانون گو کے عہدے پر تھا، لیکن جب رضا خاں کو معزول کر دیا گیا تو گنگا گووند سنگھ کی ملازمت بھی ختم ہو گئی، 1769ء میں وہ کلکتہ آ گیا اور ایسٹ انڈیا کمپنی میں ملازم ہو گیا۔ کچھ ہی دنوں میں اس کی مہارت اور چابکدستی کی وجہ سے وارن ہیسٹنگز کی نظر اس پر پڑی اور اس نے گنگا کو دیوان مقرر کر دیا۔ محکمہ مالگزاری کی ساری ذمہ داریاں گنگا کے سپرد کی گئیں۔ اس عہدے پر رہ کر وہ خود بھی رشوت لیتا وارن ہیسٹنگز کو بھی اس کے ذریعہ رشوتیں ملتیں۔ مئی 1775ء میں رشوت لینے کے جرم میں گنگا کو محبوس اور ملازمت سے برطرف کر دیا گیا لیکن مانسن کی موت کے بعد جب ہیسٹنگز کو خود مختاری ملی تو اس نے گنگا کو دوبارہ 8 نومبر 1776ء کو دیوان کے عہدے پر بحال کر دیا۔

ہیسٹنگز اس کے ہاتھوں میں کھیلتا تھا۔ بغیر اس کے مشورہ کے ہیسٹنگز کچھ نہیں کرتا۔ اس طرح جب تک ہیسٹنگز ہندوستان میں رہا، گنگا گووند سنگھ ہی کمپنی بہادر کا عملاً سربراہ رہا۔ آمدنی کے محکمہ میں اس کا طوطی بولتا تھا۔

تاہم وارن ہیسٹنگز کے وطن واپس لوٹ جانے پر گنگا کا زوال بھی شروع ہوا اور انہیں نوکری سے نکال دیا گیا۔ تب تک وہ اس کے پاس اتنا مال جمع ہو چکا تھا کہ اس نے اپنی ماں کی یاد میں بارہ لاکھ روپے خرچ کر دیے۔ جب پارلیمنٹ میں ہیسٹنگز کے خلاف فرد جرم عائد کی گئی، تو اس وقت ایڈمنڈ برک نے فرد جرم پیش کرتے ہوئے جو تقریر کی اس میں جا بجا گنگا سنگھ کا بھی تذکرہ کیا۔

مزید دیکھیے[ترمیم]