گنیندر موہن ٹیگور

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
گنیندر موہن ٹیگور
معلومات شخصیت
پیدائش 24 جنوری 1826(1826-01-24)
کولکاتا  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
تاریخ وفات 5 جنوری 1890(1890-10-05) (عمر  63 سال)
شہریت Flag of the United Kingdom.svg متحدہ مملکت برطانیہ عظمی و آئر لینڈ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
زوجہ کمل منی
عملی زندگی
مادر علمی کلکتہ یونیورسٹی
پریزیڈنسی یونیورسٹی، کولکاتا  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تعلیم از (P69) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ بیرسٹر
ملازمت جامعہ لندن  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں نوکری (P108) ویکی ڈیٹا پر

گنیندر موہن ٹیگور (24 جنوری 1826ء – 5 جنوری 1890ء) جنہیں گیانندر موہن ٹیگور بھی کہا جاتا ہے کرشن موہن بنرجی کے داماد اور پہلے ایشیائی تھے جنہیں 1862ء میں انگلستان کے بار اسوسی ایشن میں مدعو کیا گیا تھا۔[1]

ابتدائی زندگی[ترمیم]

گنینندر موہن ٹیگور پرسن کمار ٹیگور کے بیٹے اور ہندو کالج کے بانی گوپی موہن ٹیگور کے پوتے تھے۔ یہ ٹیگور خاندان کی پتھوریا گھاٹ شاخ تھی۔ انہیں چالیس روپئے ماہوار وظیفہ ملا کرتا تھا۔ سنہ 1942ء میں موہن کلکتہ میڈیکل کالج میں داخل ہوئے لیکن اپنی طبی تعلیم مکمل نہ کر سکے۔ ہندو کالج میں راج نارائن بوس اور گوبند چندر دت ان کے ہم جماعت تھے۔[1]

جب ہندو کالج شروع ہوا تو ہندو معاشرے کے قدامت پرست حلقوں کا خیال تھا کہ مغربی تعلیم ان کے معاشرے کی مضبوط بنیادوں پر اثر انداز ہوگی، حتیٰ کہ انہوں نے رام موہن رائے کو اس سے دور رہنے پر مجبور بھی کیا۔[2] چنانچہ جلد ہی کالج کے نام اور اس کے نامذہبی نصاب تعلیم میں تضادات واضح ہو گئے اور ہندو کالج کے بہت سے طلبہ نے مسیحیت اختیار کر لی۔[3]

گنینندر موہن نے 1851ء میں کرشن موہن بنرجی کے زیر اثر مسیحیت قبول کی اور انہی کی صاحب زادی کمل منی سے بیاہ کیا۔[1] مسیحیت قبول کرنے کی پاداش میں ان کے والد نے انہیں اپنی جائداد سے عاق کر کے [4] اپنے بھتیجے مہاراجا بہادر جتیندر موہن ٹیگور کو دے دی۔[5] تاہم بعد میں عدالت کی مدد سے گنینندر موہن کو وراثت میں سے کچھ حصہ ملا۔[1]

بقیہ زندگی[ترمیم]

سنہ 1859ء گنینندر موہن ٹیگور علاج کے لیے اپنی بیوی کے ساتھ انگلستان گئے اور صحتیاب ہونے کے بعد وہیں لندن یونیورسٹی میں بنگالی زبان اور ہندو قانون کے پروفیسر ہو گئے۔ سنہ 1864ء میں وہ ہندوستان واپس ہوئے اور 1865ء میں کلکتہ ہائی کورٹ میں ملازمت اختیار کی۔[1]

سنہ 1869ء میں ان کی بیوی کی وفات کے بعد وہ اپنی دونوں بچیوں بھبھیندر بالا اور ستیندر بالا کو لے کر دوبارہ انگلستان منتقل ہو گئے اور وہیں وفات پائی۔[1]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ ا ب پ ت ٹ ث Sengupta, Subodh Chandra and Bose, Anjali (editors), Sansad Bangali Charitabhidhan (Biographical dictionary) Vol I, 1976/1998, (بنگالی زبان میں), p. 184, Sahitya Sansad, ISBN 81-85626-65-0
  2. Collet, Sophia Dobson, The Life and Letters of Raja Rammohun Roy, 1900/1988, p. 76, Sadharan Brahmo Samaj.
  3. Raychoudhuri, Subir, The Lost World of the Babus, in Calcutta, the Living City, Vol I, edited by Sukanta Chaudhuri, p. 73, Oxford University Press, ISBN 0-19-563696-1
  4. Deb, Chitra, Jorasanko and the Thakur Family, in Calcutta, the Living City, Vol I, edited by Sukanta Chaudhuri, p. 65, Oxford University Press, ISBN 0-19-563696-1
  5. Cotton, H.E.A., Calcutta Old and New, 1909/1980, p. 345, General Printers and Publishers Pvt. Ltd.