گن پارک

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
گن پارک یا شہدائے تلنگانہ کے یادگار پر 2 جون، 2014ء کو پھولوں کی زبر دست سجاوٹ دیکھی گئی، جب الگ تلنگانہ ریاست کی فی الواقع تشکیل عمل میں آئی۔

گن پارک یا شہدائے تلنگانہ کا یادگار ایک یادگار ہے جسے ان 369 طلبہ کی یاد میں تعمیر کیا گیا ہے، جو الگ تلنگانہ ریاست کے لیے 1969ء کے احتجاج میں جو ہلاک ہو گئے تھے۔ نو تشکیل شدہ تلنگانہ ریاست نے اعلان کیا ہے کہ ہر سال تلنگانہ کے سبھی ضلعوں میں 2 جون کو شہدائے تلنگانہ کی یاد کے طور پر منایا جائے گا۔ [1] یہ عمارت باغ عامہ، حیدرآباد کے نزدیک واقع ہے۔ [2]

تاریخ[ترمیم]

اس عمارت کو گن پارک کے نام سے موسوم ہونے کی وجہ یہ ہے کہ سابقہ متحدہ آندھرا پردیش کی حکومت نے احتجاجیوں کے خلاف بندوقوں کا استعمال کیا تھا۔ یہی تلنگانہ احتجاج کی علامت ہے اور سیاسی سرگرمی کا مرکز ہے کہ تلنگانہ علاقے کے مسائل کو کیسے اجاگر کیا جا سکتا ہے۔ اپنی تنصیب کے چالیس سال کے بعد بھی یہ عمارت ایک رسمی اجرائی کا انتظار کر رہی ہے اور اس کے خالق کو اس کا مستحقہ مقام درکار ہے۔[3]

اس عمارت کا ڈیزائن اور اس کی تعمیر آئیکا یادا گیری راؤ نے کی، جو ایک "قومی طور مسلمہ سنگ تراش،" اور جے این ٹی میں سنگ تراشی کے پروفیسر رہ چکے ہیں۔[4] حیدرآباد کا بلدیہ میئر لکشمی ناراینا کی جانب سے اس تعمیر کا حکم جاری ہوا تھا اور یہ نمونہ کئی سنگ تراشوں کے متبادلوں میں چنا گیا، جن میں خیر الدین صدیق، آر بی راجو اور چاؤلا شامل تھے۔

جشن تاسیس تلنگانہ[ترمیم]

کومت کی جانب سے 2 جون 2014ء کو ریاست تلنگانہ کے پہلے یوم تاسیس کا بڑے پیمانے پر انعقاد عمل میں لایا گیا تھا۔ اس موقع کی مناسبت سے طلبہ کی جانب سے اسی دن جامعہ عثمانیہ سے گن پارک تک ریالی منظم کی گئی تھی۔ یہ بھی غور طلب ہے کہ حکومت کی جانب سے ریاست تلنگانہ کی یوم تاسیس تقاریب کا انعقاد ریاست گیر سطح پر کیا گیا۔ ریالیاں منظم کرنے والی طلبہ تنظیموں میں تلنگانہ ودیارتھی سمیتی، تلنگانہ اسٹوڈنٹس اسوسی ایشن اور ڈیموکریٹک اسٹوڈنٹس یونین شامل تھے۔[5]

نگار خانہ[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]