گوبند مالہی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
گوبند مالہی
(سندھی میں: گوبند مالهي ویکی ڈیٹا پر (P1559) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
معلومات شخصیت
پیدائش 5 اگست 1921ء  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
ضلع نوشہرو فیروز،  بمبئی پریزیڈنسی  ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات 10 فروری 2001ء (80 سال)  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
ممبئی،  بھارت  ویکی ڈیٹا پر (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت برطانوی ہند
بھارت  ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
مادر علمی ڈی جے سندھ گورنمنٹ سائنس کالج  ویکی ڈیٹا پر (P69) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
تعلیمی اسناد بی اے  ویکی ڈیٹا پر (P512) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ ناول نگار،  افسانہ نگار،  ڈراما نگار  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ ورانہ زبان سندھی  ویکی ڈیٹا پر (P1412) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
کارہائے نمایاں پیار جی پیاس  ویکی ڈیٹا پر (P800) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
تحریک ترقی پسند تحریک  ویکی ڈیٹا پر (P135) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
اعزازات
ساہتیہ اکیڈمی اعزاز برائے سندھی ادب  (برائے:پیار جی پیاس) (1973)[1]  ویکی ڈیٹا پر (P166) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
باب ادب

گوبند مالہی (انگریزی: Gobind Malhi) (پیدائش: 5 اگست 1921ء - وفات: 10 فروری 2001ء) بھارت سے تعلق رکھنے والے سندھی زبان کے نامور افسانہ نگار، ناول نگار اور ڈراما نویس تھے۔ وہ ادب کی ترقی پسند تحریک سے وابستہ تھے۔ انھیں بھارتی ساہتیہ اکیڈمی کی جانب سے 1973ء میں ساہتیہ اکیڈمی اعزاز برائے سندھی ادب دیا گیا۔

حالات زندگی[ترمیم]

گوبند مالہی 5 اگست 1921ء کو ٹھارو شاہ، نوشہرو فیروز ضلع، بمبئی پریزیڈنسی میں پیدا ہوئے۔ابتدائی تعلیم آبائی قصبے ٹھارو شاہ سے حاصل کی۔ انھوں نے 1939ء میں میٹرک کیا۔ ڈی جے کالج کراچی میں داخلہ لیا۔ یہاں وہ شاگرد سیاست میں فعال رہے۔ 1941ء میں سوبھو گیان چندانی سے واقفیت حاصل کی اور کمیونسٹ پارٹی سے سے بھی وابستہ رہے۔ 1942ء میں جیل بھی گئے۔ 1943ء میں نئی دنیا کتاب گھر سے وابستہ رہے۔ 1944ء میں ڈی جے کالج سندھ سے بی اے کی سند حاصل کی۔ انھوں نے 1950ء کی دہائی میں سندھی ادیبوں کی ترقی پسند تنظیم کے قیام میں کردار ادا کیا۔[2] تقسیم ہند کے بعد بھارت منتقل ہو گئے۔ان کا پہلا ناول آنسو 1925ء میں شائع ہوا۔ اس کے بعد پیار جی پیاس، شرم بوٹی، محبت جی راہ میں، ہک انسان سو طوفان، مسوری جی رانی، سونھ جا سوداگر سمیت تقریباَ 51 کتابیں شائع ہوئیں۔ انھوں نے اپنی آپ بیتی پانچ جلدوں میں تحریر کی ہے۔ لاتعداد ڈرامے اور افسانے بھی لکھے۔ انھیں ان کے ناول پیار جی پیاس پر 1988ء میں ساہتیہ اکیڈمی کی جانب سے ساہتیہ اکیڈمی اعزاز برائے سندھی ادب سے نوازا گیا۔[3]

وفات[ترمیم]

گوبند مالہی 10 فروری 2001ء کو بمبئی، بھارت میں وفات پا گئے۔[4]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. http://sahitya-akademi.gov.in/awards/akademi%20samman_suchi.jsp#SINDHI — اخذ شدہ بتاریخ: 16 اپریل 2019
  2. ارشاد علی کٹپر says (2020-02-10)۔ "گوبند مالهي کان به ٺارو شاهه نه وسريو هو! ....علي رضا قاضي" (بزبان سندھی)۔ 19 جنوری 2021 میں اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 27 اپریل 2023 
  3. "Sindhi Adabi Board Online Library (سندھی ادبی بورڈ)"۔ www.sindhiadabiboard.org۔ اخذ شدہ بتاریخ 27 اپریل 2023 
  4. "مهان ڪهاڻيڪار گوبند مالهي جي 19هين ورسي، سنڌ جي ثقافت کاتي کيس وساري ڇڏيو" (بزبان سندھی)۔ 19 جنوری 2021 میں اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 27 اپریل 2023