گوجرہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
گوجرہ
گوجرہ
Gojra
تاریخ تاسیس 1896  ویکی ڈیٹا پر (P571) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
انتظامی تقسیم
ملک Flag of Pakistan.svg پاکستان  ویکی ڈیٹا پر (P17) کی خاصیت میں تبدیلی کریں[1]
دارالحکومت برائے
تقسیم اعلیٰ تحصیل گوجرہ  ویکی ڈیٹا پر (P131) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
جغرافیائی خصوصیات
متناسقات 31°09′00″N 72°41′00″E / 31.15000°N 72.68333°E / 31.15000; 72.68333
بلندی 465 میٹر  ویکی ڈیٹا پر (P2044) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
آبادی
کل آبادی 157863 (2017)  ویکی ڈیٹا پر (P1082) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مزید معلومات
اوقات پاکستان کا معیاری وقت  ویکی ڈیٹا پر (P421) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
رمزِ ڈاک
36120  ویکی ڈیٹا پر (P281) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
فون کوڈ +9246
قابل ذکر
جیو رمز 1176728  ویکی ڈیٹا پر (P1566) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

گوجرہ، صوبہ پنجاب کا ایک شہر ہے۔ یہ فیصل آباد سے 50 کلومیٹر کی مسافت پر ضلع ٹوبہ ٹیک سنگھ میں واقع ہے۔ اس شہر کی آبادی تقریباً ایک لاکھ افراد پر مشتمل ہے۔گوجرہ کی تحصیل کے ایک گاوں 342 ج۔ ب میں حضرت پیرسید محمد حسین شاہ گیلانی چشتی صابری تاج والی سرکار اور پیر سید دلشادحسین شاہ گیلانی چشتی صابری کا دربار ہے جو بہت بڑے اولیاء تھے۔ یہ ہاکی کی وجہ سے جانا جاتا ہے منظورالحسن رشیدالحسن،استاد محمد اسلم روڈا،محمد اقبال بالی،جیسے بڑے کھلاڑی پاکستانی ٹیم میں شامل رہے ہیں۔

مشہور سوغاتیں:

مند کی برفی. مولوی کے پکوڑے. جہانگیر مرغ چنے. شکور جٹ کی برفی گوجرہ کی مشہور سوغات ہیں


ضلع ٹوبہ کی تحصیل گوجرہ تقریبا اڑھائی لاکھ نفوس پر مشتمل ہے اور یہاں ہاکی کے درجنوں نامور کھلاڑیوں نے جنم لیا جنہوں نے عالمی سطح پر پاکستان کا نام روشن کیا۔

گوجرہ کا کل رقبہ سترہ مربع کلومیٹر ہے اور اپنے محل وقوع کی وجہ سے اسے ایک خاص مقام حاصل ہے۔

بیاسی سالہ نذیر احمد غلہ منڈی میں آڑھتی ہیں اور گوجرہ کی تاریخ اور سیاست پر گہری نظر رکھتے ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ یہ علاقہ پہلے مسافروں کے سستانے کے لیے ایک منزل کے طور پر جانا جاتا تھا۔

'چند کاشتکار گھرانوں نے اس علاقے میں رہائش کے لیے جھونپڑیاں تعمیر کر رکھی تھیں جہاں وہ اپنے جانور پالتے تھے جنہیں 'گوجر' کہا جاتا تھا۔'

انہوں نے بتایا کہ اس برادری کے لوگوں کے لیے یہ جگہ شروع میں ایک گزرگاہ کی حیثیت رکھتی تھی اور اسی مناسبت سے اسے 'گوجر راہ' کہا جانے لگا جو بعد میں تبدیل ہوتا 'گوجرہ' بن گیا۔

نذیر احمد کا مزید کہنا ہے کہ رفتہ رفتہ اس علاقے میں آبادی بڑھنے لگی جبکہ زرعی علاقہ اور سب سے بڑی غلہ منڈی ہونے کی وجہ سے قیام پاکستان سے قبل 'امپیریل بینک آف انڈیا' کی ایک برانچ بھی گوجرہ میں قائم تھی۔

ان کے مطابق جس جگہ اب ہاکی سٹیڈیم بنایا گیا ہے وہاں کسی زمانے میں بہت بڑی مال منڈی لگا کرتی تھی جسے ایک خاص مقام حاصل تھا۔


رانا محمد افضل تحصیل میونسپل آفیسر گوجرہ تعینات ہیں اور تاریخ میں خاص دلچسپی رکھتے ہیں۔

ان کے مطابق سال 1896 میں 'گوجرہ ٹاؤن' اس وقت بنایا گیا جب لائلپور کی آباد کاری شروع ہوئی۔

'سال 1899 میں لائلپور سے گوجرہ تک ریلوے لائن بچھائی گئی جبکہ زرعی اجناس اور علاقائی اہمیت کی وجہ سے 1904 میں اس علاقہ کو نوٹیفائیڈ ایریا کمیٹی کا درجہ دے دیا گیا اور سال 1925 میں اسے بی کلاس میونسپیلٹی کا درجہ دے دیا گیا تھا۔'

وہ بتاتے ہیں کہ قیام پاکستان کے بعد بھی اس کی اہمیت کم نہ ہو سکی اور سال 1960 میں اس کی بڑھتی ہوئی آبادی اور تجارت کے مجموعی حجم کو دیکھتے ہوئے اسے سیکنڈ کلاس میونسپل کمیٹی بنا دیا گیا۔

ان کے مطابق سال 1982 میں جب ٹوبہ کو ضلع بنایا گیا تو گوجرہ کو تحصیل کا درجہ دے دیا گیا۔

کاروباری شخصیت سینتالیس سالہ حاجی شوکت گوجرہ شہر کی موجودہ حیثیت کے حوالے سے بتاتے ہیں کہ یہاں کے تمام مشہور بازار (مین بازار، صرافہ بازار، ٹینکی بازار، تھانہ بازار اور مہدی شاہ بازار) قیام پاکستان سے قبل کے ہیں جبکہ 'گڈہ خانہ چوک' بھی تاریخی اہمیت کا حامل ہے۔

'یہاں لگنے والی غلہ منڈی میں دور دراز سے آنے والے تاجر اپنی بیل گاڑیاں باندھا کرتے تھے جنہیں مقامی زبان میں گڈہ کہا جاتا تھا۔ تاہم گڈہ خانہ تو ختم ہوگیا لیکن یہ چوک اسی نام سے مشہور ہے۔'

حاجی شوکت کا کہنا ہے کہ گوجرہ کی زرعی اجناس کے علاوہ یہاں جنم لینے والے ہاکی کے کھلاڑیوں نے بھی عالمی سطح پر ملک کا نام روشن کیا ہے۔

محمد اقبال بالی عالمی سطح پر پاکستان کی نمائندگی کر چکے ہیں اور عرصہ دراز سے ہاکی کا کلب چلا رہے ہیں۔

وہ بتاتے ہیں کہ چند دہائیاں قبل تک قومی ٹیم کے گیارہ میں سے آٹھ کھلاڑی گوجرہ کے ہوتے تھے۔

'اسلم روڈا جو کہ وفات پا گئے ہیں ان کے اور میرے کلب میں ہونے والے مقابلے کانٹے دار ہوا کرتے تھے اور یہیں سے پاکستان ہاکی کو بہت سے اچھے کھلاڑی ملے۔'

ان کے بقول 'گوجرہ کے عالمی شہرت یافتہ کھلاڑیوں میں منظور الحسن، رشید الحسن، طاہر زمان، محمد قاسم، ندیم اینڈی، اسلم روڈا، سلیم خالد، طارق عمران، دانش کلیم، عثمان شیخ وغیرہ شامل ہیں۔'

حوالہ جات[ترمیم]

حوالہ جات

  1.   ویکی ڈیٹا پر (P1566) کی خاصیت میں تبدیلی کریں"صفحہ گوجرہ في GeoNames ID". GeoNames ID. اخذ شدہ بتاریخ 26 اکتوبر 2020ء.