ایگناز گولڈزیہر

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
(گولڈزیہر سے رجوع مکرر)
Jump to navigation Jump to search
ایگناز گولڈزیہر
Ignác Goldziher.jpg 

معلومات شخصیت
پیدائش 22 جون 1850[1][2]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
سزیکیسفیحیروار[3]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
وفات 13 نومبر 1921 (71 سال)[4][5]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
بوداپست[3]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
شہریت Flag of Hungary.svg ہنگری  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
رکن روس کی اکادمی برائے سائنس،  سائنس کی روسی اکادمی،  سائنس کی پروشیائی اکیڈمی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں رکن (P463) ویکی ڈیٹا پر
عملی زندگی
مادر علمی جامعہ ہومبولت
جامعہ لیڈن
لائپزش یونیورسٹی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تعلیم از (P69) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ ماہرِ لسانیات،  ماہرِ علم اللسان،  استاد جامعہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ ورانہ زبان ہنگری زبان[6]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں زبانیں (P1412) ویکی ڈیٹا پر
شعبۂ عمل اسلامیات  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شعبۂ عمل (P101) ویکی ڈیٹا پر

گولڈزیہر ایک جرمن یہودی مستشرق جو 22 جون 1850ء کو پیدا ہوا اور 13 نومبر 1921ء کو مرا۔ اس نے اسلام پر انتہائی وقیع کام کیا جس نے بعد میں آنے والے مستشرقین کے لیے راہ ہموار کی۔ وہ پیدا ہنگری میں ہوا لیکن بعد میں جرمنی چلا گيا اور جرمن ہی کہلایا۔

تعلیم[ترمیم]

گولڈ زہیر نے ہنگری کی جامعہ میں تعلیم حاصل کی جہاں اس نے مشہور مستشرقوامبیری(Vambery) سے استفادہ کیا جو خود ترکستانمین ایک درویشکے روپ میں سفر کر چکا تھا۔ گولڈ زہیر بعد میں جرمنی کی جامعہ لاہپزک میں آگیا، جہاں اس نے مشہور عربی دان پروفیسر فلاہشر(Fleischer) سے تلمذ حاصل کیا اور اس کی صحبت سے عربی زبان میں عبور حاصل کیا اسی کی نگرانی میں کام کور کے 1870میں ڈاکٹریٹ کی سند حاصل کی۔ اس نے شاماورمصرکاسفرکیا اور کچھ عرصہ الازھر کے درس میں شریک رہا۔

تصنیفات و تالیفات[ترمیم]

گولڈ زیہر نے اسلام کا مطالعہ کیا اور اپنے اعتراضات اپنی کتاب "دراسات محمدیہ " جو 1890ء میں جرمن زبان میں شائع ہوئی میں پیش کیے۔ انہی اعتراضات کو موجودہ مستشرق دوہراتے رہتے ہیں۔ حالانکہ مسلمان ان اعتراضات کے جواب دے چکے ہیں۔
اس کتاب کی دوسری جلد میں علم حدیثسے بحث کی گئی اسی بحث کی وجہ سے یہ کتاب یورپ بھر کے مستشرقین میں مشہور ہوئی جو آج تک ان کے کام کا بنیادی ماخذ بنی ہوئی ہے، لیکن اس پر مسلمان علما کا تحقیقی جواب بہت سے لوگوں نے دیا جس میں سارے اعتراضات کا تعقب کیا گيا۔ گولڈ زیہر نے حدیث کا جتنا مطالعہ کیا ہے کسی اور نے نہ کیا ہو گا۔ "دائرہ معارف اسلامیہ " میں اس کے متعلق لکھا ہے کہ "گولڈ زیہر نے حدیث کے متعلق جو لکھا ہے ،علم اس کا مرہون منت ہے۔ مستشرقین کی اسلامی تحقیقات پر جتنا اثر انداز گولڈ زیہر ہوا ہے ،اتنا اس کا کوئی دوسرا معاصر مستشرق نہیں ہوا۔ (ضیا ء البنی جلد ہفتم صفحہ 15)۔ اس کو دوسری اہم کتاب علمتفسیر پر ہے جو اس کے لیکچرز کا مجموعہ ہے۔ یہ کتاب بھی مستشرقین کے نزدیک ایک اساسی اور اہم مرجع کی حیثیت رکھتی ہے۔

1. اسلامی عقائد اور قانون کا تاریخی ارتقا[7]

2. الظاهریہ[8]

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. http://data.bnf.fr/ark:/12148/cb121052591 — اخذ شدہ بتاریخ: 10 اکتوبر 2015 — اجازت نامہ: آزاد اجازت نامہ
  2. ایس این اے سی آرک آئی ڈی: https://snaccooperative.org/ark:/99166/w68k8fb2 — بنام: Ignác Goldziher — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017
  3. ^ ا ب مدیر: الیکزینڈر پروکورو — عنوان : Большая советская энциклопедия — اشاعت سوم — باب: Гольдциер Игнац — ناشر: Great Russian Entsiklopedia, JSC
  4. مدیر: الیکزینڈر پروکورو — عنوان : Большая советская энциклопедия — اشاعت سوم — باب: Гольдциер Игнац — ناشر: Great Russian Entsiklopedia, JSC
  5. KNAW past member ID: http://www.dwc.knaw.nl/biografie/pmknaw/?pagetype=authorDetail&aId=PE00000452 — بنام: I. Goldziher — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017
  6. http://data.bnf.fr/ark:/12148/cb121052591 — اخذ شدہ بتاریخ: 10 اکتوبر 2015 — اجازت نامہ: آزاد اجازت نامہ
  7. https://quranwahadith.com/product/introduction-islamic-theology-law-urdu/
  8. https://quranwahadith.com/product/the-zahiris-urdu/