گووند پانسرے

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
گووند پانسرے
تفصیل= گووند پانسرے

معلومات شخصیت
پیدائش 26 نومبر 1933  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
وفات 20 فروری 2015 (82 سال)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
طرز وفات قتل  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں طرزِ موت (P1196) ویکی ڈیٹا پر
شہریت Flag of India.svg بھارت
British Raj Red Ensign.svg برطانوی ہند  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
جماعت کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں سیاسی جماعت کی رکنیت (P102) ویکی ڈیٹا پر
اولاد سمیتا، اویناش اور میگھا
عملی زندگی
پیشہ سیاست دان،  وکیل  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ ورانہ زبان مراٹھی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں زبانیں (P1412) ویکی ڈیٹا پر

گووِند پانسرے یہ بھارت کے ایک مارکسی رہنما، سماجی مصلح اور بھارتی کمیونسٹ پارٹی کے سرگرم کارکن تھے۔ سال 1984 میں شایع کی گئی ان کی مراٹھی کتاب ’شیواجی کون تھے‘ (शिवाजी कोण होता) کے لیے وہ مشہور ہیں۔

گووند پانسرے اور ان کی بیوی اوما پانسرے پر 16 فروری 2015ء جان لیوا حملہ تھا ہے۔ پانسرے اپنی بیوی کے ساتھ صبح کی چہل قدمی کے لیے گئے تھے۔ تبھی موٹر سائیکل سوار دو نامعلوم افراد نے ان پر بندوق سے جان لیوا حملہ کیا۔ گووند کے گلے میں تین گولیاں لگی تھی اور ان کی بیوی بھی اس حملے میں شدید زخمی ہوئی . دونوں کو علاج کے لیے اسپتال میں بھرتی کروایا گیا تھا۔[1] وہ 20 فروری کو اس جہاں سے انتقال کر گئے۔

سیاسی اور ادبی حلقوں پر قتل کے اثرات[ترمیم]

کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا نے اپنے سینئر رہنما کی موت پر سخت رد عمل کااظہارکیا تھا۔ پارٹی لیڈر اے ابھینکر نے کہا کہ حکومت کو پانسرے کے قاتلوں کو پکڑنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑنی چاہئے۔ تا ہم سماجی کارکن بابا ادھو نے کہا کہ اندھ وشواس (توہم) مخالف کارکن نریندر دابھولکر کی ڈیڑھ سال پہلے قتل کے بعد پانسرے کا قتل ہوا ہے۔ جس سے ان بزدلانہ کاروائیوں کے پیچھے کے عناصر کی منصوبہ بند سازش کا پتہ چلتا ہے۔[2] نین تارا سہگل نے ایک بیان بعنوان ’ان میکنگ آف انڈیا‘ میں اکتوبر 2015ء گائے کا گوشت کھانے کی افواہ پر ایک مسلمان کے قتل کے ساتھ ایم ایم کالبرگی، نریندر دابھولکر اور گووند پانسرے کے قتل کا ذکر کیا اور ساہتیہ اکیڈمی ایوارڈ واپس کر دیا تھا۔ ایسا ہی کئی اور ادیبوں نے بھی کیا۔[3]

حوالہ جات[ترمیم]