گڑیا، کارگل جنگ کی متاثرہ خاتون

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

گڑیا، ایک بھارتی مسلمان عورت کا نام ہے جو کارگل کی جنگ سے بہت تکلیف دہ حد تک متاثر ہوئی۔ الیکٹرانک میڈیا اور اخبارات میں اسے شدت سے نشانہ بنایا گیا۔[1] 1999ء میں اس کی شادی عارف سے ہوئی اور شادی کے دس دن بعد ہی اسے کارگل کی لڑائی میں ڈیوٹی پر بلا لیا گیا۔ عارف جنگ سے واپس آنے میں ناکام رہا۔[2] اور فوج نے اسے مفرور قرار دے دیا۔ لیکن پھر حکام کو احساس ہوا کہ وہ جنگ میں پاکستانی قیدی بنا لیا گیا ہے اور اس وقت پاکستان میں ہے۔ اسی اثناء میں چھبیس سالہ عورت یہ سوچنے لگی کہ اس کا شوہر مر چکا ہے اور اس کی دوبارہ اس کے رشتہ دار توفیق کے ساتھ 2003ء میں دوسری شادی کروا دی گئی اور وہ اس کے بچے سے حاملہ ہو گئی۔[3] مگر گڑیا کی زندگی میں ایک سنگین موڑ اس وقت سامنے آیا جب پاکستانیوں نے آخرکار عارف کو رہا کر دیا اور جب وہ گرم جوشی اور خوشی سے گھر واپس آیا تو اس وقت گڑیا اپنے والدین کے ساتھ دہلی کے مضافات میں کلونڈا گاؤں رہتی تھی پھر وہ دہلی سے پچھتر میل دور اترپردیش کے ضلع میروت کے گاؤں منڈالی میں منتقل ہو گئی۔ اس نے میڈیا کو گاؤں کی پنچایت میں بتایا کہ وہ اپنے پہلے شوہر کے ساتھ جانا چاہتی ہے۔ اسلامی سکالر مجمع میں موجود تھے۔ اس نے اس کے فیصلے کو سراہا اور شرعی طور پر فیصلہ کا اعلان کیا۔ کہ گڑیا کی دوسری شادی غیر قانونی ہے۔[1] تاہم رڈیف کی تحقیقاتکے مطابق گڑیا کی اپنے پہلے شوہر کی طرف واپسی کے لیے اس پر بہت دباؤ تھا۔ اس کے خاندان، گاؤں والوں اور سب سے بڑھ کر مذہبی رہنماؤں کا فیصلہ تھا، گڑیا کی نظر میں یہ اس کا نہیں " یہ ہر شخص کا فیصلہ تھا" اس کے ذریعے اس پر دباؤ ڈالا گیا۔ گڑیا کا اپنے سابقہ شوہر کی طرف لوٹائے جانے کا مکمل عمل اس کے دوسرے شوہر توفیق کے علم میں بنا ایک لفظ لائے بنا تھا۔ اس کے چچا ریاض علی نے کہا کہ وہ اس وقت وہاں کے لوگوں کے دباؤ میں تھی۔ اسے بولنے کی اجازت نہیں تھی۔ عالم نے اسے بتایا کہ شریعت کی پیروی کرو اور اپنے شوہر عارف کے ساتھ چلی جاؤ۔[1] اسے کہا گیا اگر وہ نہیں جائے گی تو اس کا بیٹا ناجائز کہلائے گا۔ دوسری طرف توفیق کا بیان تھا کہ گڑیا نے اس واقعے سے پانچ دن قبل اس سے ٹیلی فون پر بات کی تھی اور اس کے بارے میں بتایا کہ وہ بہت دباؤ میں ہے۔ اس کے والد نے اسے خود کشی کی دھمکی دی ہے کہ اگر وہ عارف کے ساتھ نہیں جاتی ۔اور عارف جس نے گڑیا کی واپسی کے لیے یہ دعوی کیا تھا کہ وہ اس کی محبت ہے ،اس نے علان کیا کہ وہ گڑیا کو لے جائے گا مگر اس کےسوتیلے بچے کو نہیں اپنائے گا۔[4]

پہلے شوہر کے پاس تکلیف دہ واپسی[ترمیم]

عارف، ابتدائی جھجک کے بعد یہ بات کے لیے راضی ہو گیا کہ وہ اپنی بیوی کو غیر مولود بچے کے ساتھ قبول کرے گا بشرطیکہ اسے یہ اختیار ہو گا کہ وہ اس بچے کو سن بلوغ تک پہنچنے کے بعد توفیق کے حوالے کر دے گا۔ گڑیا کی زچگی ایک مہینے بعد ہوئی۔ وہ خون کی کمی سے متاثر ہوئی اور کچھ مہینے بعد اسقاط حمل اور تناؤ کے شدید دوروں سے گزری۔ اسے نسوانی امراض کے مسائل سے بھی دوچار ہونا پڑا۔ شوہری کے پاس واپسی کے 15 مہینے بعد وہ خون کے بہاؤ کے شدید انفیکشن سے متاثر ہو کر دہلی کے آرمی ریسرچ اینڈ ریفرل ہاسپٹل میں فوت ہو گئی۔[5] تناؤ کی ایک بڑی وجہ یہ ممکن تھی کہ اس کے دیور اور بھابی اس پر اس بات کے طعنے دیا کرتے تھے کہ وہ منحوس تھی، کیوں کہ شادی کے کچھ ہی دنوں بعد عارف کو جنگ کارگل میں لڑنے کے لیے بلایا گیا، جہاں سے وہ مفقود الخبر ہو گیا۔ [6] گڑیا کو دو شوہر والی ہونے کا بھی طعنہ دیا گیا تھا اور وہ کئی گالیاں اور کافی بے عزتی اور توہین آمیز جملے جھیل چکی تھی۔

گڑیا کی زندگی پر فلم سازی[ترمیم]

اشتہاروں کے فلم ساز پربھاکر شکلا کی پہلی فیچر فلم 'کہانی گڑیا کی' اسی گڑیا کی فلم پر مبنی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حالاں کہ یہ عورت اب مر چکی ہے، تاہم جو مدعا ان واقعات سے ابھرا ہے وہ کافی موزوں ہے۔ ان کے بقول:

میری فلم صرف اس بات پر مرکوز نہیں ہے کہ گڑیا کے ساتھ کیا ہوا، بلکہ وہ ایک گڑیا کے نقطۂ نظر سے مجموعی منظر کشی ہے۔ اب اسے خراج عقیدت پیش کرنے کے علاوہ ہے۔ گڑیا کی موت حد سے زیادہ دماغی ایذا رسانی سے ہوئی تھی جس سے کئی اعضا کام کرنا بند کر چکے تھے۔ ان تمام باتوں میں اس کا گزر جانا ہی سب سے بڑا المیہ تھا، اور یہ فلم یہی سوال پوچھتی ہے کہ یہ اس کے ساتھ کیوں ہوا۔[7]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ ا ب پ "Prisoner of woe: Private horror behind Gudiya's public trial"۔ rediff.com۔ مورخہ 7 جنوری 2019 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ مارچ 23, 2013۔
  2. "Gudiya's child is mine, I will keep him forever: Arif"۔ The New Indian Express۔ مورخہ 7 جنوری 2019 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ مارچ 23, 2013۔
  3. "Gudiya's death upsets filmmaker"۔ Indiaglitz.com۔ مورخہ 7 جنوری 2019 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ مارچ 23, 2013۔
  4. "Gudiya's mute story ends in death"۔ ٹائمز آف انڈیا۔ جنوری 3, 2006۔ اخذ شدہ بتاریخ مارچ 23, 2013۔
  5. "Gudiya did not live happily ever after - Woman scarred by war, separation and reunion dies of miscarriage fallout"۔ Calcutta, India: The Telegraph۔ جنوری 3, 2006۔ مورخہ 7 جنوری 2019 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ مارچ 23, 2013۔
  6. Ayswaria Venugopal (ستمبر 21, 2004)۔ "Father of unborn child counts his losses - Forsaken husband in shock, family blames girl's stepmother for separation"۔ Calcutta, India: The Telegraph۔ مورخہ 7 جنوری 2019 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ مارچ 23, 2013۔
  7. "Film on Gudiya to be screened at Osian's film fest"۔ آؤٹ لک انڈیا۔ اخذ شدہ بتاریخ مارچ 23, 2013۔