گگن (اردو جریدہ)
| مدیر | شمس کنول مسعود اختر، ع۔ م۔ علیم |
|---|---|
| زمرہ | ثقافتی و فکری ماہنامہ |
| ناشر | شمس کنول |
| تاسیس | فروری 1963ء |
| آخری | فروری 1986ء |
| ملک | بھارت |
| مقام اشاعت | بمبئی → بجنور |
| زبان | اردو |
گگن (رسالہ) اردو کا ایک ممتاز ثقافتی و فکری ماہنامہ تھا جس کی بنیاد معروف ادیب و صحافی شمس کنول نے 1963ء میں بمبئی سے رکھی۔ یہ جریدہ اردو صحافت میں اپنی نوعیت کا پہلا کلچرل میگزین سمجھا جاتا ہے جس میں محض ادب ہی نہیں بلکہ سیاست، مذہب، معاشرت، فلم اور نفسیات جیسے متنوع موضوعات پر بھی مضامین شائع کیے جاتے تھے۔ گگن اپنے سیکولر، عقلیت پسند اور قومی نظریے کے سبب ایک منفرد مقام رکھتا تھا۔[1]
پس منظر و آغاز
[ترمیم]گگن کا پہلا شمارہ فروری 1963ء میں شائع ہوا۔ اس وقت اس کے مدیر شمس کنول اور معاونین میں مسعود اختر اور ع۔ م۔ علیم شامل تھے۔ شمارے کی قیمت چالیس نئے پیسے تھی اور دفتر کا پتہ درج تھا:
- دی گگن میگزین، بلاک نمبر A-412، الہاس نگر، ضلع تھانہ (مہاراشٹر)
- مقامِ اشاعت: 89 محمد علی روڈ، بمبئی نمبر 3
اس دور میں گگن کے صفحات پر اعداد کی بجائے اردو الفاظ میں نمبر لکھے جاتے تھے۔ پہلے شمارے کے 41ویں صفحے پر نیائے شرما کا خط شائع ہوا، جس میں انھوں نے لکھا:
- "یہ جان کر خوشی ہوئی کہ تم نے اپنے پیروں تلے بڑھی ہوئی گھاس کو پھر روند ڈالا ہے اور ایک رسالے کے اجرا کے لیے پھر کمربستہ ہو چکے ہو۔ تمھارا جریدہ ضرور منفرد ہوگا۔"[2]
مدیران و اشاعت
[ترمیم]گگن کا قیام اور اشاعت شمس کنول کی ادبی بصیرت کا مظہر تھی۔ اگرچہ اسے ماہنامہ قرار دیا گیا، لیکن شروعات کے دو سال بعد اس کی اشاعت غیر باقاعدہ ہو گئی اور اوسطاً ایک سال میں چار شمارے ہی شائع ہو پاتے تھے۔ بعض اوقات شمارے پر درج مہینہ اور حقیقی اشاعت کے مہینے میں فرق ہوتا تھا، اسی بنا پر بعد میں مہینے اور سن کا اندراج ترک کر دیا گیا۔ ستمبر 1984ء میں مذاہبِ عالم نمبر گگن کا آخری بمبئی شمارہ ثابت ہوا۔ بعد ازاں شمس کنول بجنور منتقل ہوئے جہاں فروری 1986ء میں ایک اور آخری شمارہ نکالا گیا۔ بعد میں انھوں نے علی گڑھ سے ’’افق تا افق‘‘ کے نام سے ایک نیا جریدہ جاری کیا۔[3]
نظریاتی رجحانات
[ترمیم]گگن کی اشاعت خالص عقلیت پسندی، سیکولرزم اور قومیت کے اصولوں پر مبنی تھی۔ رسالے نے اردو رسم الخط کی خامیوں کی نشان دہی کی اور دیوناگری رسم الخط کے نفاذ کی حمایت کی۔ شمس کنول **گاؤ کشی کے مخالف** تھے اور ان کا کہنا تھا کہ قومی رواداری اور ہم آہنگی کا تقاضا ہے کہ مسلمان گاؤ کشی ترک کر دیں۔ رسالے نے ایمرجنسی کے حق میں موقف اختیار کیا، بنگلہ دیش کے قیام پر خصوصی اشاعت پیش کی اور مسلمانوں میں فرقہ پرستی کے خلاف تحریریں شائع کیں۔ یہ رسالہ مسلمانوں میں خاندانی منصوبہ بندی کے حق میں بھی آواز بلند کرتا تھا اور مذہبی و سماجی موضوعات پر مباحث کی نئی جہتیں پیدا کرتا رہا۔[4]
نمایاں خصوصی شمارے
[ترمیم]گگن کے بائیس سالہ دورِ اشاعت میں دو ضخیم خصوصی نمبر شائع ہوئے:
- ہندوستانی مسلمان نمبر (1975ء)
- مذاہبِ عالم نمبر (1984ء)
ان دونوں شماروں نے اردو جرائد میں فکری اور تاریخی اعتبار سے نمایاں مقام حاصل کیا۔[5]
انتخابِ گگن
[ترمیم]اردو ادیب اسیم کاویانی نے گگن اور شمس کنول کے دوسرے جریدے ’’افق تا افق‘‘ کے 22 برسوں کے منتخب مضامین پر مشتمل مجموعہ انتخابِ گگن 2009ء میں کاویانی پبلشرز، ممبئی سے دو حصوں میں شائع کیا۔ یہ انتخاب گگن کے فکری تسلسل اور تاریخی اہمیت کی ایک جامع دستاویز ہے۔[6]
ناقدین کی آراء
[ترمیم]گگن کے خصوصی شمارے خصوصاً ’’ہندوستانی مسلمان نمبر‘‘ پر ممتاز اہلِ ادب نے رائے دی۔ شانتی رنجن بھٹاچاریہ لکھتے ہیں:
- "واقعی یہ آپ ہی کی ہمت ہے کہ اتنے صفحات کا نمبر نکال ڈالا۔ اردو رسائل کی تاریخ میں آپ کا یہ کارنامہ ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔"
جبکہ مولانا سعید احمد اکبرآبادی نے اسے ’’اپنے موضوع کا انسائیکلوپیڈیا‘‘ قرار دیا۔[7]
فلمی صحافت میں کردار
[ترمیم]شمس کنول ہر سال اپنے جریدے میں معاصر فلموں کی سالانہ رپورٹ شائع کرتے تھے۔ وہ فلمی تجزیے کو سماجی و فکری زاویے سے پیش کرتے اور اردو فلمی صحافت میں ایک نئی روش متعارف کراتے تھے۔[8]
مزید دیکھیے
[ترمیم]حوالہ جات
[ترمیم]- ↑ https://www.rekhta.org/ebooks/gagan-shumara-number-001-shams-kanwal-magazines?lang=ur
- ↑ https://www.rekhta.org/ebooks/gagan-shumara-number-001-shams-kanwal-magazines?lang=ur
- ↑ https://www.rekhta.org/ebooks/intikhab-e-gagan-volume-001-shams-kanwal-ebooks?lang=ur
- ↑ https://www.rekhta.org/ebooks/intikhab-e-gagan-volume-001-shams-kanwal-ebooks?lang=ur
- ↑ https://www.rekhta.org/ebooks/intikhab-e-gagan-volume-001-shams-kanwal-ebooks?lang=ur
- ↑ https://www.rekhta.org/ebooks/intikhab-e-gagan-volume-001-shams-kanwal-ebooks?lang=ur
- ↑ https://www.taemeernews.com/2014/04/Review-on-Hindustani-Musalman-No-of-Gagan.html
- ↑ https://www.inquilab.com/features/articles/in-the-200-year-journey-of-urdu-journalism-film-journalism-has-been-the-weakest-link-50419