ہائر ایجوکیشن کمیشن

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
ہائر ایجوکیشن کمیشن
250px
اجازت نامہ کا جائزہ
قیام1947ء میں بطور یو جی سی
Current form since 2002
پیش رو اجازت نامہ
  • University Grants Commission (UGC)
دائرہ کارآئین پاکستان
صدر دفتراسلام آباد، پاکستان
نصب العینFacilitating Institutes of higher learning to serve as an Engine of Growth for the Socio-Economic Development of Pakistan
سالانہ بجٹ₨۔ 57.4 billion[1]
اجازت نامہ ایگزیکٹو
  • Prof. Dr. Mukhtar Ahmed، Chairman of HEC
کلیدی دستاویز
ویب سائٹwww.hec.gov.pk

پاکستانی ہائر ایجوکیشن کمیشن پاکستان ميں حصولِ اعلیٰ تعليم کا بنيادی منتظم اور معاون ہے۔ اِس کا اہم مقصد اور ذمہ داری پاکستانی جامعات کی تجديد ہے تا کہ اُنھيں تعليم اور تحقيق و تعمير کا مرکز بنايا جا سکے۔

ایچ ای سی کے مسائل[ترمیم]

ہائر ایجوکیشن کمیشن کا قیام پاکستان میں اعلیٰ تعلیم کے فروغ اور نو جوان نسل کی صلاحیتوں کو ملک و قوم کے بہترین مستقبل کے لیے استعمال کرنے کے لیے کیا گیا۔ہائر ایجوکیشن کمیشن کے مقاصد و اہداف میں اولین ترجیح تحقیق کی ترویج و اشاعت اور عالمی سطح پر پاکستانی نوجوانوں کی صلاحیتوں کو اجاگر کرنا، تحقیق کے شعبہ میں معیار کو بہتر بنانا اور اعلیٰ تعلیم کے فروغ کے لیے فنڈز کی تقسیم کار کا نظام وضع کرنا شامل ہے۔ ہائر ایجوکیشن کمیشن جو پہلے یونیورسٹی گرانٹس کمیشن کے نام سے جانا جاتا تھا پرویز مشرف کے دور میں ہائر ایجوکیشن کمیشن کے نام سے ازسرنو تشکیل پایا جس کے چیئر مین ممتاز ماہر تعلیم ڈاکٹر عطاءالر حمان نے اس ادارے کو عالمی سطح پر ایک بین الاقوامی معیار کا ادارہ ثابت کیا ہائر ایجوکیشن کمیشن نے مختلف ادوار میں تعلیم کے فروغ، فنی مہارتوں کی ترویج اور تحقیق و تدوین کے شعبوں میں گراں قدر خدمات سر انجام دیں۔ہائر ایجوکیشن کمیشن نے سکالرشپس اور تعلیمی وظائف کے ذریعے اعلیٰ تعلیم کے خواہاں طلبہ و طالبات کو استحقاق اور میرٹ کی بنیاد پر اندورن ملک و بیرون ملک تعلیم کے شعبہ میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوانے اور روزگار کے حصول میں خاطر خواہ معاونت فراہم کی۔ہائر ایجوکیشن کمیشن کے تحقیقی، تخلیقی، سائنسی اور فنی میدانوں میں کارہائے نمایاں زبان زدِ عام ہیں۔ موجودہ چئیرمین ہائر ایجوکیشن کمیشن ڈاکٹر طارق بنوری کی تقرری کے بعد سے یہ ادارہ زبوں حالی کا شکار ہے۔ذیل میں ایچ ای سی کے مختلف شعبہ جات اور ان سے منسلک علمی، تحقیقی اور ادارتی اداروں کی مشکلات کی تفصیلات کچھ یوں ہیں۔

1۔پحقیقی منصوبے جو تحقیق کے شعبہ میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں، ان کی فنڈنگ بھی خاطر خواہ نہیں ہے اور وہ بھی تعطل کا شکار ہے۔

2۔تحقیقی جرائد کو چلانے والی ایچ ای سی کی ذیلی باڈیز بھی فنڈز کی عدم دستیابی کی وجہ سے غیر فعال ہو چکی ہیں۔

3۔نصاب ونگ جو مختلف یونیورسٹیز کو تحقیق کے شعبہ میں عملی معاونت فراہم کرتا ہے اس پر بھی کام التوا کا شکار ہے اور کام کرنے والے افراد کو ہٹا دیا گیا ہے۔

4۔ پاکستان میں مختلف یونیورسٹیز میں آٹھ عدد سیرت چیئرز کی رقم آ چکی ہے جس کے لیے 04-11-2016 کو ڈائریکٹر ہیومن ریسورس مینجمنٹ ڈویژن ایچ ای سی کی طرف سے تحقیق کے لیے ملکی اور غیر ملکی سکالرز سے درخواستیں اخباری اشتہار کے ذریعے طلب کی گئی اور فی درخواست مبلغ پانچ سو روپے بطور پروسیسنگ فیس ایچ ای سی کے نامزد بینک میں جمع کروانے کا کہا گیا۔

5۔ 2016 سے سیرت چیئرز کے لیے صرف ایک سکالر رکھا گیا جو فنڈز کی معقول فراہمی نہ ہونے کی وجہ سے استعفا دے گیا حالانکہ فنڈز موجود ہے لیکن افرادی قوت مہیانہیں کی جا رہی۔

6۔تحقیقی جرائد کا فنڈز بھی ٹرانسفر نہیں ہو رہا اور پاکستان کے ایچ ای سی سے منظوری تمام تحقیقی جرائد کی اشاعت التوا کا شکار ہے جبکہ اس مد میں سالانہ دو سے پانچ لاکھ روپے مہیا کئیے جاتے تھے جو ڈیلے ہو رہے ہیں۔

7۔بیرون ملک کانفرنسز میں سکالرز کی شرکت فنڈز کی عدم دستیابی اور Delaying Tactics کی وجہ سے ممکن نہیں رہی۔ [2]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. Rizwan-ul-Haq. "Budget 2013–14: Higher education gets attention, finally". جون 13, 2013. Express Tribune. 07 جنوری 2019 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 7 ستمبر 2013.  الوسيط |archiveurl= و |archive-url= تكرر أكثر من مرة (معاونت); الوسيط |archivedate= و |archive-date= تكرر أكثر من مرة (معاونت);
  2. ہائیر ایجوکیشن کے منصوبے، پروفیسر محمد عمر ریاض عباسی، روزنامہ نوائے وقت، 2 نومبر 2018ء