ہائپیشیا

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
ہائپیشیا
(قدیم یونانی میں: Ὑπατία خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقامی زبان میں نام (P1559) ویکی ڈیٹا پر
ہائپیشیا

معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 350  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
اسکندریہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
وفات سنہ 415 (64–65 سال)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
اسکندریہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
وجۂ وفات کھال کھینچائی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں وجۂ وفات (P509) ویکی ڈیٹا پر
شہریت قدیم روم
Byzantine imperial flag, 14th century, square.svg بازنطینی سلطنت  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
والد تھیون اسکندری  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں والد (P22) ویکی ڈیٹا پر
عملی زندگی
استاذہ ہیروکلس اسکندری  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں استاد (P1066) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ ریاضی دان،فلسفی،ماہر فلکیات،مصنفہ،موجد  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ ورانہ زبان قدیم یونانی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں زبانیں (P1412) ویکی ڈیٹا پر
شعبۂ عمل فلکیات،ریاضی،میکانیات،فلسفہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شعبۂ عمل (P101) ویکی ڈیٹا پر
مؤثر شخصیات افلاطون،ارسطو،تھیون اسکندری،بطلیموس  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مؤثر (P737) ویکی ڈیٹا پر
تحریک نو افلاطونیت  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تحریک (P135) ویکی ڈیٹا پر

ہائپیشا مصر کے شہر اسکندریہ میں 380 عیسوی میں پیدا ہوئی۔ اس کے والدین یونانی تھے۔ اس کا باپ تھیونَ الیگزینڈرسس اسکندریہ یونیورسٹی کا ہردلعزیز پروفیسر اور معروف ریاضی دان تھا۔ نیز وہ اسکندریہ کی لائبریری کا منتظم بھی تھا۔ تھیونَ کو اپنی بیٹی سے بڑی امیدیں وابستہ تھیں۔ وہ چاہتا تھا کہ اس کی بیٹی ہر لحاظ سے ایک مکمل انسان ہو۔ ہائپیشا نے ابتدائی تعلیم یونان کے شہر ایتھنز میں حاصل کی۔ باپ کی رہنمائی میں اس نے آرٹس، ادب، سائنس، فلسفہ اور ریاضی کے مضامین میں دسترس حاصل کر لی۔ باپ کو بیٹی کی جسمانی صحت کا بھی بہت خیال تھا۔ باپ کی ترغیب اور حوصلہ افزائی سے ہائپیشا کشتی بانی، تیراکی اور گھڑ سواری بھی کرتی تھی تاکہ جسمانی طور پر ٹھیک ٹھاک رہے۔ یونان سے مصر واپسی پر ہائپیشا کو اسکندریہ یونیورسٹی میں ریاضی اور فلسفہ پڑھانے کی پیش کش ہوئی جو اس نے قبول کر لی۔ وہ دیافنطس کے علم حساب پر بھی لیکچر دیتی تھی اور دیافنطس کے دریافت کردہ اصولوں کے اطلاق سے غیر متعین مسائل کو حل کرنے طریقوں پر بحث کرتی تھی۔ نیز وہ افلاطون اور ارسطو کی تعلیمات کو اپنے درس و تدریس کے موضوعات میں شامل کر لیتی تھی۔ ہائپیشا ذہین ہونے کے ساتھ ساتھ نہایت خوبصورت اور باوقار خاتون تھی۔ نیز مشفق باپ کی بھرپور توجہ سے وہ فن تقریر میں بھی ماہر تھی۔ یہی وجہ تھی کہ دنیا کے گوشے گوشے سے علم کے متلاشی اس کے لیکچر سننے کے لیے کھنچے چلے آتے تھے۔ یہ ہائپیشا اور اس کے لیکچروں کی بے پناہ مقبولیت کا نتیجہ تھا کہ صرف تیس سال کی عمر میں اسے اسکندریہ یونیورسٹی کے افلاطونی اسکول کی سربراہ بنا دیا گیا۔

وفات[ترمیم]

ہائپیشیا کی موت

اس استاد، سائنس دان اور موجد خاتون کو مسیحیوں نے اس لیے زندہ جلا دیا کہ وہ عورت ہو کر مردوں کو تعلیم دیتی تھی اور بائبل کی تعلیمات کی رو سے یہ ایک سنگین جرم تھا۔ اس سے پہلے یہ مسیحی سکندریہ کے عظیم الشان کتب خانے میں تاریخ، فلسفہ، سائنس اور ٹیکنالوجی کے موضوعات پر بیشمار نادر و نایاب کتابوں کو نذر آتش کر چکے تھے۔ ہائپیشیا کی تحریر سے ایک اقتباس:

افسانوں کو افسانے اور دیو مالائی کہانیوں کو دیو مالائی کہانیاں سمجھ کر پڑھا اور پڑھایا جائے۔ نیز معجزوں کو شاعروں کی تخیل پرواز یا مبالغہ آرائی سے زیادہ اہمیت نہ دی جائے۔ فرضی داستانوں اور توہمات کو سچائی بنا کر پیش کرنا اور پڑھانا افسوسناک ہے۔ ایک معصوم بچے کا ذہن ان افسانوں، توہمات، اور شاعرانہ تخیل پرواز کو حقیقت سمجھ کر قبول کر لیتا ہے۔ پھر بےپناہ ذہنی کوفتوں، الجھنوں، یا المیوں سے گزارنے کے بعد اس پر ان توہمات کی حقیقت آشکارا ہوتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ مرد توہمات کا دفاع یوں کرتے ہیں جیسے وہ سچائی ہوں بلکہ سچائی سے بھی بڑھ کر۔ چونکہ ہر توہم ناقابل فہم ہوتا ہے، یعنی حواس خمسہ سے اس کی تصدیق ہو سکتی ہے نہ تردید، اس کو رد کرنا یا غلط ثابت کرنا آسان نہیں۔ توہم کے برعکس سچائی ایک نقطہ نظر ہے اور اسے بدلا بھی جا سکتا ہے۔

اس کا یہ مقولہ اس کی جان لے گیا کہ میں خدا پر نہیں فلسفے پر یقین رکھتی ہوں۔ مرنے سے پہلے ہائپیشیا جن تکونوں پر کام کر رہی تھی، وہ اس کی موت کے 1300 سال بعد ایک سائنس دان نے دریافت کی۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. Colavito,A. & Petta,A. (April 2004), Hypatia: Scientist of Alexandria. Milan, Italy: Lightning Print Ltd. (ISBN 978-88-488-0420-2).