مندرجات کا رخ کریں

ہارون مونسونیگو

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
ہارون مونسونیگو
(عربی میں: آرون مونسونيغو)  ویکی ڈیٹا پر  (P1559) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
معلومات شخصیت
پیدائش 9 دسمبر 1929ء   ویکی ڈیٹا پر  (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
فاس   ویکی ڈیٹا پر  (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات 7 اگست 2018ء (89 سال)[1]  ویکی ڈیٹا پر  (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وجہ وفات سکتہ   ویکی ڈیٹا پر  (P509) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مدفن مقبرہ ہار ہمنوحوت   ویکی ڈیٹا پر  (P119) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
طرز وفات طبعی موت   ویکی ڈیٹا پر  (P1196) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت المغرب
اسرائیل   ویکی ڈیٹا پر  (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مناصب
حاخام اکبر
برسر عہدہ
1994  – 2010 
دائرہ اختیار المغرب  
عملی زندگی
مادر علمی ایکس لے باں   ویکی ڈیٹا پر  (P69) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ ربی   ویکی ڈیٹا پر  (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ ورانہ زبان عربی ،  عبرانی   ویکی ڈیٹا پر  (P1412) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

آرون مونسونیگو (عبرانی: אהרון מונסונגו) (9 فروری 1929ء، فاس، مراکش – 7 اگست 2018ء، یروشلم، اسرائیل) ایک مراکشی یہودی مذہبی پیشوا تھے، جنھوں نے مراکش کے حاخامِ اعظم کے طور پر خدمات انجام دیں۔

پیدائش اور تعلیم

[ترمیم]

مونسونیگو کی پیدائش فاس، مراکش میں ہوئی۔ وہ حاخام یدیڈیا مونسونیگو کے بیٹے تھے، جو فاس اور مراکش کے حاخامِ اعظم تھے۔ نوجوانی میں انھوں نے فاس کے "اِم حابانیم" اسکول اور حاخام مئیر اسرائیل کے اسکول میں تعلیم حاصل کی۔

1945 سے 1952 تک انھوں نے فرانس کے شہر ایکس لی باں میں واقع "تشاحامی زارفات" (Chachmei Tsarfat) مدرسے میں تعلیم حاصل کی، جہاں ان کی سرپرستی حاخام ارنست وائل اور حاخام حییم اسحاق چائیکن نے کی۔ 1950 سے 1952 کے دوران وہ اسی دینی مدرسے میں مدرس بھی رہے۔ 1951 میں انھیں پیرس کی آرتھوڈوکس حاخامی کونسل کے تین حاخاموں اور اپنے استاد حاخام حییم اسحاق چائیکن کی طرف سے رَبّی اور حاخام کے طور پر سند دی گئی۔[2]

مراکش میں دینی خدمات

[ترمیم]

1952 میں وہ واپس مراکش آئے اور کاسابلانکا کے "تلمود توراہ" اسکول کے ڈائریکٹر مقرر ہوئے۔ اسی شہر میں انھوں نے "نیویہ شالوم" نامی دینی مدرسہ اور یہودی لڑکیوں کے لیے ایک ثانوی اسکول بھی قائم کیا۔

1960 میں وہ مراکش میں "اوزار ہاتوراہ" تنظیم کے ڈائریکٹر بنے اور 1966 میں فرانس میں بھی اسی تنظیم کے بانی ارکان میں شامل تھے۔
حاخامِ اعظم بننا 1994 میں والد کی وفات کے بعد وہ حاخام شمعون سوئیسا کے ساتھ مشترکہ طور پر حاخامِ اعظمِ مراکش مقرر ہوئے۔ 1998 میں حاخام سوئیسا کی ریٹائرمنٹ کے بعد وہ اس منصب پر تنہا فائز رہے۔

آخری ایام اور وفات

[ترمیم]

صحت کے بگڑنے اور بیوی کی وفات کے بعد وہ دسمبر 2010 میں اسرائیل منتقل ہو گئے اور یروشلم اور مودعین عیلیت میں اپنے بیٹوں کے گھروں میں رہے۔ اپریل 2017 میں انھیں فالج کا حملہ ہوا اور اسپتال منتقل کیا گیا۔ 7 اگست 2018 کو وہ یروشلم میں وفات پاگئے اور وہاں "ہار ہمنوحوت" کے قبرستان میں دفن ہوئے۔

حوالہ جات

[ترمیم]
  1. قومی کتب خانہ اسرائیل جے9یوآئی ڈی: https://www.nli.org.il/en/authorities/987007401755605171 — اخذ شدہ بتاریخ: 3 جنوری 2025
  2. "معلومات عن آرون مونسونيغو على موقع viaf.org"۔ viaf.org۔ 11 مايو 2020 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا {{حوالہ ویب}}: تحقق من التاريخ في: |آرکائیو تاریخ= (معاونت)

بیرونی روابط

[ترمیم]