ہاشم انصاری

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

ہاشم انصاری (پیدائش:1921ء - وفات: 20 جولائی 2016ء) تاریخی بابری مسجد اور رام جنم بھومی تنازع کے بزرگ ترین مدعی جو سنہ 1949ء سے اپنی وفات تک اس تنازع کو عدالتی طریقہ کار سے حل کے لیے کوشاں رہے۔ ہاشم انصاری اس تنازع کو غیر سیاسی طریقہ سے حل کرنے کے حق میں تھے لیکن دیگر دعوی داروں کے تئیں ان کا رویہ ہمیشہ مثبت رہا۔ وہ بابری مسجد کی شہادت کو بھارت میں جمہوریت کی موت قرار دیتے تھے۔[1]

حالات زندگی[ترمیم]

محمد ہاشم انصاری کی پیدائش سنہ 1921ء میں اجودھیا کے ایک معمولی گھرانے میں ہوئی۔ ان کے والد پیشے سے درزی تھے جن کی وہیں ایک قریبی بازار میں دکان تھی۔ اپنے والد کے بعد انھوں نے بھی یہی پیشہ اپنایا لیکن ایمرجنسی کے بعد ایک سائیکل کی دکان کھول لی۔ 1975ء میں جب ایمرجنسی نافذ ہوئی تو پولیس انتظامیہ کی فہرست میں ان کا نام ہونے کی وجہ سے انھیں بھی بریلی کے سینٹرل جیل میں بھیج دیا گیا جہاں انھیں آٹھ مہینے تک قید میں رکھا گیا۔ نظریات کے کلی اختلاف کے باوجود ان کے تعلقات اپنے مخالفین سے بڑے خوشگوار تھے۔ اجودھیا کے ترموہی اکھاڑا کے رام کیول داس اور دگمبر اکھاڑا کے رام چندر پرمہنس سے ان کے تعلقات آخری وقت تک اچھے رہے۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ 1992ء کے فرقہ وارانہ فسادات کے دوران میں ان کے ہندو پڑوسیوں نے درمیان میں آکر ان کی جان بچائی تھی۔

بابری مسجد تنازع[ترمیم]

ہاشم انصاری بابری مسجد میں رام للا کی مورتیاں رکھنے کے شاہد تھے۔ جب 22 دسمبر 1949ء میں ہندو مہاسبھا کے ذریعہ بابری مسجد میں رام للا کی مورتیاں رکھی گئیں تو انھوں نے مسجد میں غیر قانونی طور سے داخلہ کے خلاف فیض آباد کورٹ آف سول جج میں مقدمہ دائر کیا۔ امن عامہ کی خلاف ورزی کرنے کی وجہ سے انھیں دوسرے لوگوں کے ساتھ جیل میں بھی ڈالا گیا۔ 1954ء میں جب انھوں نے بابری مسجد میں اذان دی تو انھیں پھر دو سال کے لیے جیل جانا پڑا۔ 1961ء میں جب سنی سینٹرل وقف بورڈ آف اترپردیش کے سات اراکین کی جانب سے اجودھیا مقدمہ میں عرضیاں داخل کی گئیں تو اس میں ہاشم انصاری بھی اہم رکن تھے۔ رام پوجا کے لیے 1987ء میں بابری مسجد کا تالا کھولا گیا اور 1992ء میں اسے شہید کر دیا گیا۔ اجودھیا میں بابری مسجد کی شہادت کے بعد جو بلوہ ہوا اس میں ہاشم انصاری کے گھر کو بھی نذر آتش کر دیا گیا تھا۔ ہاشم انصاری کے مطابق بابری مسجد کے شہادت کے اصل ذمہ دار کانگریسی رہنما اور اس وقت کے وزیر اعظم نرسمہا راؤ تھے۔ ان کا ماننا تھا کہ نرسمہا راؤ کو سارے معاملات کی اطلاعات پہلے سے تھیں لیکن انھوں نے دانستہ کارسیوکوں کے خلاف کوئی قدم نہیں اٹھایا کیوں کہ وہ بھی اس کی شہادت کے متمنی تھے۔ گرچہ نرسمہا راؤ نے مسلمانوں سے وعدہ کیا تھا کہ وہ دوبارہ مسجد کو تعمیر کر دیں گے لیکن انھوں نے اپنا وعدہ پورا نہیں کیا۔

2010ء میں جب بابری مسجد کا فیصلہ سنایا گیا اور متازع اراضی کو عدالت کے ذریعہ تقسیم کیا گیا تو اس وقت بھی ہاشم انصاری نے اس کے خلاف آواز اٹھائی۔ اس کے خلاف 2011ء میں سپریم کورٹ میں عرضی داخل کرنے والے سب سے پہلے مدعی تھے۔

تنازع اور سیاسیت[ترمیم]

دسمبر 2014ء میں انھوں نے بابری مسجد مقدمہ کی پیروی کرنے سے انکار کر دیا تھا کیوں کہ ان کے مطابق بابری مسجد تنازع کو کچھ مسلم رہنما اپنی سیاست گرمانے کے لیے استعمال کر رہے تھے۔ انھوں نے مقدمہ سے اپنی دست برداری کا اعلان بھی کر دیا تھا لیکن بعد میں انھوں نے کہا کہ انھوں نے پاور آف اٹارنی اپنے بیٹے اقبال انصاری کو سونپ دی ہے۔ دی ہندو اخبار کے نامہ نگار سے بات کرتے ہوئے ان کے بیٹے نے اپنے والد کا مقدمہ لڑنے کا عہد کیا ہے۔

بابری مسجد تنازع حل کی آخری کوشش[ترمیم]

کورٹ کچہری اور بابری مسجد پر سیاسی گرم بازاری سے عاجز آکر انھوں نے 2015ء میں عدالت سے باہر بابری مسجد تنازع کے تصفیہ کے لیے کوششیں بھی کیں۔ فروری 2015ء میں انھوں نے مہنت گیان داس ہنومان گڑھی سے اس سلسلے میں ملاقات کی۔ کچھ دنوں پہلے بھی دونوں کی ملاقات ہوئی تھی اور دونوں نے کہا تھا کہ یہ تنازع بغیر تشدد کے حل ہو جانا چاہیے۔ اسی سال جب 35 ٹن سرخ پتھر ٹرکوں میں لاد کر اجودھیا لایا گیا تو مرحوم انصاری نے اسے سیاسی کرتب سے تعبیر کیا۔ انھوں نے کہا کہ اس طرح کے سیاسی کرتب دکھا کر وشو ہندو پریشد 2017ء کے انتخابات کے لیے بی جے پی کی مدد کر رہی ہے۔ آخر عمر میں بابری مسجد تنازع سے متعلق ان کا یہ نظریہ ہو گیا تھا کہ حکومت کے ذریعہ حاصل کی گئی 67 ایکڑ اراضی پر مسجد ومندر دونوں کی تعمیر ہو اور درمیان میں 100 فٹ اونچی دیوار کھڑی کر دی جائے۔ ان کی بہت تمنا تھی کہ تنازع ان کی زندگی میں ہی حل ہو جائے۔ وہ کہتے تھے کہ وہ دو فیصلوں کا انتظار کر رہے ہیں؛ ایک بابری مسجد تنازع کا فیصلہ اور دوسرا موت کا فیصلہ۔

وفات[ترمیم]

ہاشم انصاری ایک عرصے سے دل کے مرض میں مبتلا تھے اور انھیں پیس میکر لگا ہوا تھا۔ فروری میں ان کی حالت کے زیادہ بگڑ جانے کی وجہ سے انھیں لکھنؤ کے کنگ جارج میڈیکل یونیورسٹی کے آئی سی یو میں داخل بھی کیا گیا تھا۔ کچھ دنوں پہلے فریکچر بھی ہو گیا تھا لیکن پیس میکر لگنے کی وجہ سے آپریشن نہیں کیا گیا۔ وہ ادھر کچھ دنوں سے چلنے پھرنے سے بھی معذور تھے۔ 20 جولائی 2016ء کو ان کی وفات ہوئی۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. "بابری مسجد کے بزرگ ترین مدعی ہاشم انصاری نہیں رہے". بی بی سی اردو لندن. 20 july 2016. اخذ شدہ بتاریخ 21 جولا‎ئی 2016.