ہاشم بن عبد مناف

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
ہاشم بن عبد مناف
(عربی میں: هاشم بن عبد مناف خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقامی زبان میں نام (P1559) ویکی ڈیٹا پر
Abd Manaf of Qurayshi tribe, Muhammad's great-grandfather.jpg 

معلومات شخصیت
پیدائش 1 جنوری 464  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
مکہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
وفات سنہ 497 (32–33 سال)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
غزہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
مذہب توحیدیت[1]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مذہب (P140) ویکی ڈیٹا پر
زوجہ سلمیٰ بنت عمرو  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شریک حیات (P26) ویکی ڈیٹا پر
اولاد عبد المطلب،  اسد بن ہاشم  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں اولاد (P40) ویکی ڈیٹا پر
والد عبد مناف بن قصی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں والد (P22) ویکی ڈیٹا پر
والدہ عاتکہ بنت مرہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں والدہ (P25) ویکی ڈیٹا پر
بہن/بھائی
عبد شمس بن عبد مناف،  مطلب بن عبد مناف،  عبد العمرو،  نوفل بن عبد مناف  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں بہن/بھائی (P3373) ویکی ڈیٹا پر
عملی زندگی
پیشہ بیوپاری  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر

ہاشم بن عبد مناف حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پر دادا تھے۔ ان کی اولاد قریش کے معزز ترین قبیلہ بنو ہاشم کے نام سے مشہور ہے۔ ان کا اصل نام عمرو تھا۔ ہاشم اس لیے نام ہوا کیونکہ وہ مکہ کے زائرین کی تواضع ایک خاص عربی شوربہ سے کرتے تھے جسے ھشم کہا جاتا ہے۔ یہ لقب اس وقت ملا جب ایک قحط کے دوران انہوں نے یہی شوربہ اہلِ مکہ کو کھلایا۔ آپ اولادِ اسمٰعیل علیہ السلام سے تھے۔ مکہ کے مشہور تاجر تھے اور نہایت معزز تھے۔ انہوں نے قریش کے تجارتی قافلے شروع کروائے اور ان کے لیے بازنطینی سلطنت کے ساتھ معاہدے کیے جن کے تحت قریش بازنطینی سلطنت کے تحت آنے والے ممالک میں بغیر محصول ادا کیے تجارت کر سکتے تھے اور تجارتی قافلے لے جا سکتے تھے۔ یہی معاہدے وہ حبشہ کے بادشاہ کے ساتھ بھی کرنے میں کامیاب ہوئے جس کا تمام قریش کو بے انتہا فائدہ ہوا اور ان کے قافلے شام، حبشہ، ترکی اور یمن میں جانے لگے۔ آپ دین حنیف (دینِ ابراہیمی) پر قائم تھے اور بت پرستی نہیں کرتے تھے۔ آپ کی کنیت آپ کے بڑے بیٹے اسد بن ہاشم کی وجہ سے "ابو اسد" تھی۔

طبقات ابن سعد کے مطابق آپ کی اولاد اس طرح تھی:[2]
ہشام بن محمد اپنے والد سے روایت کرتے ہیں۔

  • اسد بن ہاشم" حضرت علی علیہ السلام کے نانا تھے "۔ان کی والدہ کا نام "قَيْلة بنت عامر بن مالك بن جذیمہ " تھا۔ جن کا تعلق قبیلہ خزاعہ سے تھا۔
  • ابو صیفی بن ہاشم۔ ان کی والدہ کا نام "ہند بنت عمروبن ثعلبہ بن الحارث بن مالک بن سالم بن غنم بن عوف بن الخزرج" تھا۔
  • عبدالمطلب بن ہاشم " حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور حضرت علی علیہ السلام کے دادا تھے" ۔ ان کی والدہ کا نام " سلمیٰ بنت عمرو" تھا۔ جن کا تعلق قبیلہ بنو خزرج سے تھا۔
  • نضلہ بن ہاشم۔
  • الشفا بنت ہاشم۔
  • خالدہ بنت ہاشم۔ ان کی والدہ کا نام "ام عبدللہ تھا، جن کا نام واقدہ بنت ابی عدی" تھا۔
  • رقیہ بنت ہاشم۔ ان کی والدہ کا نام "امیمہ بنت عدی بن عبدللہ بن دینار بن مالک بن سلامان بن سعد " تھا ۔ جن کا تعلق قبیلہ قضاعہ سے تھا۔
  • رقیہ بنت ہاشم۔ ان کی والدہ کا نام "سلمیٰ بنت عمرو بن زید بن لبید بن خداش بن عامر بن غنم بن عدی بن النجار " تھا۔ [کم سنی میں ہی انتقال ہو گیا تھا]۔
  • حنہ بنت ہاشم۔ ان کی والدہ کا نام "عدی بنت حبیب بن الحارث بن مالک بن حطیط بن جشم بن قصی (جن کو ثقیف بھی کہتے ہیں) " تھا۔
  • ضعيفہ بنت ہاشم۔

متعلقہ مضامین[ترمیم]

بنو ہاشم

حوالہ جات[ترمیم]

  1. http://en.wikishia.net/index.php/Hashim_b._'Abd_Manaf
  2. طبقات ابن سعد ، حصہ اول ، صفحہ 94