ہبل
| مضامین علم الاساطیر بسلسلۂ |
| زرخیز ہلال |
|---|
| قبل اسلام معبودان عرب |
|
2 |
ہبل (عربی: هبل) دورِ جاہلیت میں اہلِ مکہ اور قریش کا سب سے بڑا اور مرکزی بت تھا، جسے کعبہ کے اندر نصب کیا گیا تھا اور مشرکینِ عرب اس کی عبادت اور تعظیم کرتے تھے۔[1][2] برطانوی مصنفہ کیرن آرمسٹرانگ کے مطابق کعبہ میں موجود 360 بتوں میں ہبل سب سے اہم مانا جاتا تھا اور غالباً یہ تعداد سال کے دنوں کی علامت تھی۔[3]
لغوی و اصطلاحی مفہوم
[ترمیم]عربی لغت میں لفظ "ہبل" دورِ جاہلیت کے اسی مخصوص بت کا نام تھا جو مکہ میں کعبہ کے اندر رکھا گیا تھا۔[4][1] جاہلی عرب اپنے باطل معبودوں کے لیے "صنم" اور "وثن" جیسی اصطلاحیں استعمال کرتے تھے، جہاں "صنم" سے مراد تراشیدہ اور مجسم صورت والا بت تھا۔ ہبل کو قریش کے اصنام میں مرکزی حیثیت حاصل تھی۔[5][2]
نام کی اصل
[ترمیم]بعض روایات کے مطابق قریش کے اس سب سے بڑے معبود کا نام دراصل "بعل" کی بگڑی ہوئی شکل ہے۔ "بعل" اہلِ شام کا ایک معبود تھا اور اسی سے شام کا قدیم شہر بعلبک منسوب ہے۔ "بعل" کا لغوی معنی قوت ہے اور مجازاً آقا کے معنی میں بھی آتا ہے، اسی لیے قرآن میں "بعل" شوہر کے معنی میں استعمال ہوا ہے۔[6] بعض لغوی روایات میں "بعل" کو ایک سونے کا الگ بت بھی بتایا گیا ہے جس کی عبادت کی جاتی تھی۔[7]
بت کی ہیئت
[ترمیم]ہبل کا بت انسانی شکل کا تھا اور اسے سرخ عقیق سے تراشا گیا تھا۔ اس کا دایاں ہاتھ ٹوٹا ہوا تھا، جسے قریش نے سونے کا بنوا کر لگا دیا تھا۔[6] یہ بت کعبہ کے اندر نصب تھا اور فال نکالنے کے پانسے اس کے سامنے ڈالے جاتے تھے۔[6] ایک اور روایت میں بھی اس کی جسمانی صورت اور سونے کے ہاتھ کا ذکر ملتا ہے۔[8]
ہبل کی ابتدا
[ترمیم]روایات کے مطابق عمرو بن لحی الخزاعی شام کے سفر سے عزیٰ اور منات جیسی دیویوں کی عبادت کا طریقہ لے کر آیا اور یہیں سے اس نے ہبل کی عبادت کو بھی رواج دیا۔
کعبہ میں ہبل کا مقام اور جاہلی رسومات
[ترمیم]دورِ جاہلیت میں ہبل کو خانۂ کعبہ کے اندر نصب کیا گیا تھا اور قریشِ مکہ کے نزدیک تمام اصنام میں اسے خاص اہمیت حاصل تھی۔[2][9]
کعبہ کے گرد انصاب
[ترمیم]تاریخی روایات کے مطابق کعبہ کے گرد تقریباً 300 انصاب (تعظیمی پتھر) نصب تھے، جن کے پاس مشرکین قربانیاں دیتے اور اپنی مذہبی رسمیں ادا کرتے تھے۔[10]
قبائلِ عرب کے دیگر معابد
[ترمیم]ہبل کے علاوہ عرب کے مختلف قبائل کے اپنے خاص بت اور عبادت گاہیں بھی تھیں۔ ثقیف کا صنم "اللات" طائف میں ایک چٹان کی صورت میں تھا، جسے "الربّہ" بھی کہا جاتا تھا۔ مذحج اور بنی حارث بن کعب کا معبد نجران میں "کعبۃ نجران" یا "الربّہ" کہلاتا تھا۔[11][12] اسی طرح دوس، خثعم اور بجیلہ کا صنم "ذو الخلصۃ" تھا، جسے "الکعبۃ الیمانیہ" بھی کہا جاتا تھا۔[13]
"اعلُ ہبل" کا نعرہ
[ترمیم]جنگوں کے موقع پر قریشِ مکہ اپنے اس بت کے نام کا سہارا لے کر "اعْلُ هُبَل" (اے ہبل! بلند ہو جا) کا نعرہ لگاتے تھے، جس کا مقصد اپنے بت کی شان اور غلبہ ظاہر کرنا تھا۔[4][9]
اس شرکیہ نعرے کے جواب میں محمد ﷺ نے صحابہ کرام کو حکم دیا کہ وہ اس کا جواب دیں۔ چنانچہ صحابہ نے آپ ﷺ کی تعلیم کے مطابق "اللهُ أعلَى وأَجَلّ" (اللہ ہی سب سے بلند اور سب سے بزرگ ہے) کہہ کر توحید کا اعلان کیا۔[4]
عرب کے دیگر جاہلی اصنام
[ترمیم]ہبل کے ساتھ ساتھ کئی دوسرے بت بھی عبادت کا مرکز تھے:[5]
- اللات، العزیٰ اور منات: یہ حجاز کے سب سے مشہور بت تھے۔
- إساف اور نائلہ: یہ دونوں بت کعبہ میں کسی گناہ کی پاداش میں پتھر بن جانے والے ایک مرد اور عورت کی یاد میں تراشے گئے تھے۔
- قبائلی اصنام: دیگر بتوں میں "عبعب"، "فلس"، "باجر"، "شمس"، "سعد"، "نہم"، "الاقیصر" اور "الکسعہ" کے علاوہ حضرت نوح علیہ السلام کی قوم کے قدیم بت "ود"، "سواع"، "یغوث"، "یعوق" اور "نسر" بھی شامل تھے۔
اہلِ جاہلیت ان تمام بتوں کی تعظیم کرتے تھے اور ان کے مندروں کے لیے "البد" (فارسی سے معرب) یا "الزون" اور "الزونہ" جیسے الفاظ استعمال ہوتے تھے۔[5]
جاہلی بت پرستی کا خاتمہ
[ترمیم]اسلام نے توحید کی دعوت دی اور ہبل سمیت تمام بتوں کی پوجا اور غیر اللہ کے نام پر نذر و نیاز کو باطل قرار دیا۔[4]
فتحِ مکہ کے موقع پر محمد ﷺ نے کعبہ کے اندر اور اردگرد موجود ہبل اور تمام بتوں کو ختم کروا کر خانۂ کعبہ کو شرک سے پاک کیا۔[13][10] روایت کے مطابق ہبل کا بت علی نے توڑا تھا۔[6]
مزید دیکھیے
[ترمیم]حوالہ جات
[ترمیم]- 1 2 أحمد مختار عمر (2008)۔ معجم اللغة العربية المعاصرة۔ القاهرة: عالم الكتب۔ ج 3۔ ص 2321
- 1 2 3 زين الدين الرازي (1999)۔ مختار الصحاح۔ بيروت: المكتبة العصرية۔ ج 1۔ ص 324
- ↑ Karen Armstrong (2000, 2002)۔ Islam: A Short History۔ ص 11۔ ISBN:0-8129-6618-X
{{حوالہ کتاب}}: تحقق من التاريخ في:|تاریخ=(معاونت) - 1 2 3 4 نشوان بن سعيد الحميري (1999)۔ شمس العلوم ودواء كلام العرب من الكلوم۔ بيروت: دار الفكر المعاصر۔ ج 11۔ ص 7042
- 1 2 3 ابن سيده (1996)۔ المخصص۔ بيروت: دار إحياء التراث العربي۔ ج 4۔ ص 68
- 1 2 3 4 شوقي أبو خليل۔ أطلس السيرة النبوية۔ الرياض: دار السلام
- ↑ أبو منصور الأزهري (2001)۔ تهذيب اللغة۔ بيروت: دار إحياء التراث العربي۔ ج 4۔ ص 18
- ↑ هشام بن الكلبي۔ كتاب الأصنام
- 1 2 القاضي عياض (2018)۔ مشارق الأنوار على صحاح الآثار۔ دمشق: دار القلم۔ ج 2۔ ص 490
- 1 2 إبراهيم الحربي (1985)۔ غريب الحديث۔ مكة المكرمة: جامعة أم القرى۔ ج 2۔ ص 794
- ↑ مرتضى الزبيدي (1994)۔ تاج العروس من جواهر القاموس۔ بيروت: دار الفكر۔ ج 2۔ ص 456
- ↑ أحمد مختار عمر (2008)۔ معجم اللغة العربية المعاصرة۔ القاهرة: عالم الكتب۔ ج 3۔ ص 1764
- 1 2 نشوان بن سعيد الحميري (1999)۔ شمس العلوم ودواء كلام العرب من الكلوم۔ بيروت: دار الفكر المعاصر۔ ج 3۔ ص 1881
