ہدووالی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

ہدووالی (انگریزی: Haddowali) ضلع اٹک اور تحصیل جنڈ کا ایک گاؤں ہے۔ اس کی آبادی دس ہزار سے زائد نفوس پر مشتمل ہے۔ یہ گاؤں مکھڈ شریف کے مشرق اور میرا شریف سے مغرب میں واقع ہے۔ مکھڈ شریف دریائے سندھ پر واقع ہے جو صوبہ خیبر پختونخوا اور پنجاب کی سرحد ہے - ہدووالی کے اکثر قبائل کا تعلق علاقے کے ساغری خٹک قبیلے سے ہے - ہدووالی میں اس کے علاوہ بنگش، قریشی، کشمیری اور اعوان برادری بھی سکونت پزیر ہیں -

ہدووالی
Haddowali-burgi-updated.jpg 

انتظامی تقسیم
ملک Flag of Pakistan.svg پاکستان  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں ملک (P17) ویکی ڈیٹا پر

ہدووالی کا نام[ترمیم]

ہدووالی ساغری خٹک جو ایک پشتون قبیلہ ہے، کا آخری گاؤں ہے - شاید اسی نسبت سے اس کا نام "ہدووالی" پڑا - ہدووالی سے مشرق میں اعوان برادری کے گاؤں اور ڈھوک شروع ہوتے ہیں - دوسری روایت کے مطابق اس کی نسبت ایک بزرگ "ہدا" نامی خاتون سے جڑتی ہے - یہ خاتون اس جگہ پر رہتی تھیں جہاں پر گاوں کی موجودہ جامع مسجد ہے - اس وقت یہاں درختوں کا ایک جھنڈ تھا اور اسی جھنڈ میں ایک بیری کے درخت کے نیچے یہ خاتون رہتیں تھیں- روایت کے مطابق وہ خاتون بہت نیک اور پرہیزگار تھیں - دور دور سے لوگ ان سے فیض حاصل کرنے کے لیے آتے تھے - اسی نسبت سے اس گاوں کا نام "ہدا والی " اور پھر "ہدووالی" پڑا -

حدود اربعہ[ترمیم]

ہدووالی کے مشرق میں ڈھوک حبیب اور بروالہ، ڈھوک سرفراز اور میرا شریف جبکہ شمال میں ڈھوک کانڈی، کنجور، چھب اور لکڑمار، مغرب میں کوٹیوالی، خٹک آباد، نکہ خورد، نکہ افغان اور مکھڈ شریف جنوب میں مانجھ غنڈی، انجرا افغاناں، تراپ اور امن پور واقع ہیں -

محل وقوع[ترمیم]

ہدووالی کو مشرق اور مغرب سے خوبصورت پہاڑیوں کے سلسلے نے گھیرا ہوا ہے - ہدووالی کے مشرق میں دریائے سواں جبکہ مغرب میں دریائے سندھ بہتا ہے -

موسم اور آب و ہوا[ترمیم]

گاوں کا موسم گرمیوں میں شدید گرم ہوتا ہے جبکہ سردیوں میں بعض اوقات نقطہ انجماد تک پہنچ جاتا ہے -

اساتذہ کا گاوں[ترمیم]

ہدووالی کے باشندے تعلیمی معیار اور تعلیم کے ساتھ شوق اور لگن میں اردگرد کے علاقے کے لیے مثالی حیثیت رکھتے ہیں- اس گاوں نے وافر مقدار میں قابل، محنتی اور لائق اساتذہ کو پیدا کیا، اسی لیے ہدووالی کو پشتو میں "استجونو کلے" یعنی اساتذہ کا گاوں بھی کہا جاتا ہے -

ہدووالی کی تاریخ[ترمیم]

جتنی معلومات موجود ہیں ان سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ گاوں 1200 عیسوی سے آباد ہونا شروع ہوا - خٹک قبائل دوسرے پشتون قبائل کی طرح بھیڑ بکریوں کو چرا کر گزا کرتے اور ہر وقت متحرک زندگی گزارتے - جمال خان اور اسماعیل خان دو بھائی تھے جنہوں نے اس علاقے میں مستقل پڑاو ڈالا - جمال خان جو بڑے بھائی تھے انہوں نے ہدووالی جبکہ اسماعیل خان جو چھوٹے بھائی تھے نے علاقہ نکہ افغان میں اپنا گزر بسر شروع کیا - تاریخی طور پر گاوں کے باشندے جھونپڑیاں بنا کر رہتے تھے - گاوں کا پہلا کچا مکان 18ویں صدی کے اواخر میں بنا جو جمعدار عباس خان نے بنایا - گاوں کا دوسرا کچا مکان دفعدار محمد خان نے بنایا جو مرزا خیل قبیلے سے تعلق رکھتے تھے -

گاوں کی ہندو برادری[ترمیم]

ہدووالی میں 1947 تک ہندو برادری بھی رہائش پزیر تھی - گاوں میں دو دکان دار ہندو تھے - ایک دکان دار دیوان چند اور ان کے بیٹے کا نام کٹورام تھا- دوسرے دکان دار کا نام منگل رام نیک منگلو تھا - منگلو اور اس کی بیوی بوڑھے تھے اور ان کا کام بھی کمزور تھا - آزادی سے پہلے ان دونوں نے سب سامان فروخت کیا یہاں تک کہ ان کے کھانے کے توے اور دیگچے بھی فروخت ہوئے - دکانداری کے علاوہ ان کی کوئی جائداد نہیں تھی - ہمارے گاوں سے چند معزیزین نے انہیں اونٹوں پر سوار کیا، خود ان کے ساتھ پیدل گئے اور انہیں پنڈی گھیب پہنچایا - جہاں سے ہندوؤں کے قافلے تیار ہوئے- تلہ گنگ، چکوال ہندوؤں کے قافلے فوجی حفاظت کے ساتھ لاہور اور واہگہ بارڈر سے باعزت طور پر رخصت ہوئے -

اہم مقامات[ترمیم]

ہائی سکول ہدووالی[ترمیم]

ہائی سکول ہدووالی علاقہ میں تعلیمی مرکز کا کردار ادا کر رہا ہے -

ہدووالی کی برجی[ترمیم]

ہدووالی کے مشرق میں، ہائی سکول کے راستے پر ایک برجی ہے - جس کی اونچائی تقریبا 4 میٹر ہوگی - یہ برجی انگریز حکومت نے ساغری خٹک اور خاص طور پر ہدووالی کے فوجی جوانوں کی خدمات کے صلے میں تعمیر کی - اس طرح کی برجیاں انگریزی حکومت نے عوام کے اعزاز میں مختلف گاوں میں تعمیر کیں تھیں -

ہدووالی کی مشہور شخصیات[ترمیم]

اعظم خان بابا[ترمیم]

اعظم خان ولد سلیم خان کا تعلق ہدووالی کے اللہ خیل قبیلے سے تھا - وہ 19ویں صدی عیسوی کے اواخر میں پیدا ہوئے اور 1972ء میں فوت ہوئے - انہوں نے 100 سال سے زیادہ کی عمر پائ - اعظم خان بابا اپنے وقت کے شاعر اور غزل گو مشہور ہوئے - وہ خوشحال خان خٹک اور رحمان بابا کو بہت شوق سے گاتے تھے - علاقہ نرڑہ میں لوگ ان کو شیر و شاعری کی محافل میں بلاتے- ایک روایت کے مطابق جب چھب سے انجرا ریلوے لائن بچھ رہی تھی اس وقت وہ 14 سال کے تھے اور اپنے علاقے میں قلیل تعداد میں لکھنے پڑھنے والی شخصیات میں سے ایک تھے - اس دور میں اعظم خان بابا نے سکھ ٹھیکیدار کے لیے منشی کا کام کیا اور مزدوروں کی نسبت دو گنا زیادہ معاوضہ حاصل کیا-

کپٹن طورہ باز خان[ترمیم]

طورہ باز خان کا تعلق ہدووالی کے صدرخیل قبلے سے تھا - وہ ہدووالی کے پہلے انریری کپٹن تھے - ان کو یہ اعزاز حاصل رہا کہ وہ وائسرائے ہند یعنی سپریم کمانڈر ہندوستان کے اے-ڈی-سی Aide-De-Camp رہے ہیں - انہیں ریٹائرمنٹ کے بعد برطانوی حکومت کی طرف سے 8 مربع زمین ضلع سرگودھا - چک نمبر 118 شمالی میں الاٹ ہوئ - اس کے علاوہ ایک جاگیر میراشریف نلہڈ بطور انعام ملی -

ماسٹر صدر خان[ترمیم]

ماسٹر صدرخان کا علاقہ نرڑہ کی جانی پہچانی شخصیت ہیں - ان کا تعلق ہدووالی کے خنجر خیل قبیلے سے ہے - خان صاحب یونین کونسل کے چرمین بھی رہ چکے ہیں - ان کے فرزند ارجمند ڈاکٹر طفیل خان کی علاقے میں خدمات جانی پہچانی ہیں -

ہدووالی میں جنگ عظیم دوم کے اثرات[ترمیم]

جنگ عظیم دوم 1939ء سے 1945ء تک جاری رہی - ہدووالی سے نوجوان فوج میں بھرتی ہوئے اور 5 سال گھروں سے دور رہے اور گھروں میں واپس جانے کے لیے ترس رہے تھے - اتحادی فوج جنگ جیت گئی لیکن برطانیہ کی معیشت بہت کمزور ہو گئی- جنگ کے بعد برطانوی سامراج نے ان فوجیوں کو نکالنا شروع کیا - اکثر فوجیوں کی نوکری 5 یا 6 سال کی تھی اس لیے ان کو پینشن نہیں مل سکی - برطانوی سامراج نے ان کو 500 روپے سے 1000 روپے دے کر فارغ کر دیا - اس طرح زیادہ تر فوجی بے روزگار ہو گئے - جنگ ختم ہونے کے بعد خوردنوش کی قیمتیں غلہ اور کپڑا ناپید ہو گیا - انگریزوں نے ہندوستان سے نکلنے کا فیصلہ کر لیا - ساتھ ہی پاکستان اور ہندوستان کی آزادی کا اعلان ہو گیا - علاقے کی ہندو سیٹھوں اور ساہوکاروں نے سرمایہ سمیٹ لیا اور بھارت منتقل ہونا شروع ہو گئے - اس دور میں کم آمدن والے یہی فوجی سب سے زیادہ محتاج، مقروض اور ادھار مانگتے پائے گئے -

ساغری خٹک[ترمیم]

ساغری خٹک، خٹک قبیلہ کا اہم قبیلہ ہے جو علاقہ نرڑہ میں، دریا سندھ کے مشرقی کنارے، دریا کے ساتھ ساتھ آباد ہے -

حوالہ جات[ترمیم]

1۔ تاریخ هدووالی، عمرخان