ہدی شعراوی
| ہدی شعراوی | |
|---|---|
| (عربی میں: هدى شعراوي ede)، (عربی میں: هدى بنت محمد سلطان باشا)[1] | |
| معلومات شخصیت | |
| پیدائش | 23 جون 1879ء [2][3][4] منیا، مصر [5] |
| وفات | 12 دسمبر 1947ء (68 سال)[4] قاہرہ |
| شہریت | |
| رکنیت | مصری نسائیت یونین [6] |
| عملی زندگی | |
| پیشہ | سیاست دان ، سماجی کارکن ، شاعر [6]، صحافی ، مصنف [1]، نسائیت پسند [7]، حقوق نسوان کی کارکن [8]، سفریگیٹ [9] |
| پیشہ ورانہ زبان | مصری عربی [2]، ترکی ، فرانسیسی [6] |
| شعبۂ عمل | سماجی تحریک ، حقوق نسواں [10] |
| اعزازات | |
آرڈر آف دی ورٹوئس (1945) | |
| درستی - ترمیم | |
ہدی شعراوی (عربی: هدى شعراوي، اے ایل اے-ایل سی: Hudá Sha‘rāwī; 23 جون 1879ء – 12 دسمبر 1947ء) ایک مصری نسائيت پسند رہنما اور مصر میں نسائيت کی سرخیل، خواتین کا حق رائے دہی کی حامی قومی پرست اور مصری نسائیت یونین کی بانی تھیں۔
سوانح
[ترمیم]شعراوی جنگ زدہ ماحول میں مصری نسائيت پسند تحریک کی بارسوخ ترین شخصیت تھیں۔ وہ ایک امیر کبیر زمین دار اور صوبائی منتظم نور ہدی محمد سلطان شعراوی کی بیٹی تھیں، [11] ان کا خاندان مصر کے اونچے خاندانوں میں سے ایک تھا۔ [12]13 سال کی عمر میں علی شعراوی سے شاوی کی جو مصری قومی پرست جماعت وفد میں ممتاز حیثیت رکتھے تھے۔ ہدی سے توقع کی جا رہی تھی کہ وہ 1919ء میڑ برطانوی حکومت کے خلاف مدافعت منظم کر کے اپنے شوہر کی مدد کرے گی۔ وہ وفد پارٹی کی خواتین مرکزی کمیٹی کی پہلی صدر بنیں۔ 1923ء میں مصری آزادی کے اعلان اور اپنے شوہر کی وفات کے بعد انھوں نے عورتوں کے حقوق کی جد و جہد کے لیے مصری نساغيت یونین بنائی۔ شعراوی نے عالمی خواتین حق رائے اتحاد میں فعال کردار ادا کیا۔ اور یورپ و شمالی امریکا کی کارکنوں کے ساتھ دوستیاں قائم کیں۔ عروتوں کو انجام کار 1956ء میں مصر میں حق رائے دہی ملا، مکڑ تب تک ہدی شعراوی وفات پا چکی تھیں۔
مصری نسائيت یونین
[ترمیم]مصری حقوق نسواں یونین کی بنیاد 6 مارچ 1923ءref>Mariz Tadros (18–24 مارچ 1999)۔ "Unity in diversity"۔ Al Ahram Weekly شمارہ 421۔ 30 مئی, 2014 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 30 ستمبر 2014 {{حوالہ رسالہ}}: تحقق من التاريخ في: |آرکائیو تاریخ= (معاونت)</ref>[13] کو ہدی شعراوی کے گھر[14] ایک میٹنگ میں رکھی گئی تھی جنھوں نے 12 دسمبر 1947ء کو اپنی موت تک اس کے پہلے صدر کے طور پر خدمات انجام دیں۔ پارٹی کو 1920ء کی دہائی میں وفدیسٹ ویمنز سنٹرل کمیٹی کہا گیا۔[15] مصری فیمینسٹ یونین کا قیام مصری تحریک آزادی کے خلاف نسائی عدم اطمینان کے جواب میں عمل میں آیا، جس نے آزادی کی جدوجہد میں خواتین کے حقوق کو ثانوی حیثیت دی تھی۔
مزید دیکھیے
[ترمیم]ملاحظات
[ترمیم]حوالہ جات
[ترمیم]- 1 2 مصنف: خیر الدین زرکلی — عنوان : الأعلام — ناشر: دار العلم للملایین — : اشاعت 15 — جلد: 8 — صفحہ: 78 — مکمل کام یہاں دستیاب ہے: https://archive.org/details/ZIR2002ARAR
- 1 2 مصنف: فرانس کا قومی کتب خانہ — عنوان : اوپن ڈیٹا پلیٹ فارم — بی این ایف - آئی ڈی: https://catalogue.bnf.fr/ark:/12148/cb124745405 — اخذ شدہ بتاریخ: 10 اکتوبر 2015
- ↑ بنام: Huda Szarawi — نیشنل لائبریری آف پولینڈ (NLP) شناخت کنندہ: https://dbn.bn.org.pl/descriptor-details/9811730264005606
- 1 2 مصنف: باربرا فسٹر — بنام: Huda Szarawi — نیشنل لائبریری آف پولینڈ (NLP) شناخت کنندہ: https://dbn.bn.org.pl/descriptor-details/9811730264005606
- ↑ https://www.lesclesdumoyenorient.com/Huda-Sharawi-1879-1947.html
- 1 2 3 https://www.blackwomenradicals.com/database-source/huda-shaarawi
- ↑ عنوان : Gemeinsame Normdatei — جی این ڈی آئی ڈی: https://d-nb.info/gnd/151529558 — اخذ شدہ بتاریخ: 20 اپریل 2026 — اجازت نامہ: CC0
- ↑ مصنف: CC0 — مدیر: CC0 — ناشر: CC0 — خالق: CC0 — اشاعت: CC0 — باب: CC0 — جلد: CC0 — صفحہ: CC0 — شمارہ: CC0 — CC0 — CC0 — CC0 — ISBN CC0 — CC0 — اقتباس: CC0 — اجازت نامہ: CC0
- ↑ مصنف: CC0 — مدیر: CC0 — ناشر: CC0 — خالق: CC0 — اشاعت: CC0 — باب: CC0 — جلد: CC0 — صفحہ: CC0 — شمارہ: CC0 — CC0 — CC0 — CC0 — ISBN CC0 — CC0 — اقتباس: CC0 — اجازت نامہ: CC0
- ↑ https://meta.wikimedia.org/wiki/Event:Breaking_the_Silence-_African_Women_Against_Gender-Based_Violence — اخذ شدہ بتاریخ: 6 اکتوبر 2026
- ↑ Huda Shaarawi (1986)۔ Harem Years: The Memoirs of an Egyptian Feminist۔ New York: The Feminist Press at The City University of New York۔ ص 15۔ ISBN:978-0-935312-70-6
- ↑ Wédad Zénié-Ziegler (1988)، In Search of Shadows: Conversations with Egyptian Women، زیڈ بکس، ص 112، ISBN:978-0-86232-807-8
- ↑ Earl L. Sullivan (1 جنوری 1986)۔ Women in Egyptian Public Life۔ Syracuse University Press۔ ص 172۔ ISBN:978-0-8156-2354-0۔ اخذ شدہ بتاریخ 2014-10-06
- ↑ Nadje S. Al Ali۔ "Women's Movements in the Middle East: Case Studies of Egypt and Turkey" (Report)۔ SOAS۔ اخذ شدہ بتاریخ 2014-09-21
- ↑ Marilyn Booth (2004)۔ Encyclopedia of the Modern Middle East and North Africa 2nd Edition (vol. 2)۔ USA: Gale۔ ص 770
بیرونی روابط
[ترمیم]| ویکی ذخائر پر ہدی شعراوی سے متعلق سمعی و بصری مواد ملاحظہ کریں۔ |
