ہرمز دوم

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
ہرمز دوم
Coin of the Sasanian king Hormizd II (1, cropped).jpg 

معلومات شخصیت
تاریخ پیدائش صدی 3  ویکی ڈیٹا پر تاریخ پیدائش (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
تاریخ وفات سنہ 309 (8–9 سال)  ویکی ڈیٹا پر تاریخ وفات (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مدفن نقش رستم  ویکی ڈیٹا پر مقام دفن (P119) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت Derafsh Kaviani flag of the late Sassanid Empire.svg ساسانی سلطنت  ویکی ڈیٹا پر شہریت (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
اولاد شاپور دؤم، اردشیر دوم، آذر نرسہ  ویکی ڈیٹا پر اولاد (P40) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
والد نرسی  ویکی ڈیٹا پر والد (P22) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
خاندان خاندان ساسان  ویکی ڈیٹا پر خاندان (P53) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مناصب
ساسانی سلطنت کا بادشاہ   ویکی ڈیٹا پر منصب (P39) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
دفتر میں
302  – 309 
Fleche-defaut-droite-gris-32.png نرسی 
آذر نرسہ  Fleche-defaut-gauche-gris-32.png
عملی زندگی
پیشہ بادشاہ  ویکی ڈیٹا پر پیشہ (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

ہرمز دوم ساسانی سلطنت کا آٹھواں کا بادشاہ تھا۔ وہ ایک رحمدل اور انصاف پسند تھا۔ اس نے لوگوں کو انصاف دینے کے لیے دار العدل قائم کیا۔ اس کا دور حکومت آٹھ سالوں پر مشتمل تھا۔

تخت نشینی[ترمیم]

شہنشاہ نرسی نے ایک رسوا کن معاہد روم سے کیا تھا جس کی رو سے فرات کی بجائے دجلہ کو سرحد مانا گیا۔ اس کے علاوہ دریائے دجلہ کے دائیں جانب پانچ صوبے روم کو دے دیے گئے۔ آرمینیا سے قلعہ زبنتا تک روم کا تسلط مان لیا گیا۔ اس معاہدے کے بعد شہنشاہ نرسی نے خود کو حکومت کے قابل نہیں سمجھا اور اپنے بیٹے ہرمز بن نرسی کو جانشین نامزد کر کے تخت و تاج سے دستبردار ہو گیا۔ ہرمز اپنے والد کی زندگی میں 301ء میں ایران کے آٹھویں ساسانی شہنشاہ کے طور پر تخت نشین ہوا۔ اس نے ہرمز دوم کے نام سے شہرت پائی۔

دار العدل[ترمیم]

شہنشاہ ہرمز دوم ایک رحمدل اور عادل بادشاہ تھا۔ اس نے لوگوں کو عدل و انصاف مہیا کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش کی۔ شہنشاہ ہرمز دوم نے عدل و انصاف کے لیے ایک دار العدل قائم کیا تھا۔ اس دار العدل کا ہر کوئی بلا روک ٹوک کے دروازہ کھٹکھٹا سکتا تھا۔ جس شخص پر کوئی ظلم و ستم ہوتا تو وہ بلا روک ٹوک دار العدل کا دروازہ کھٹکھٹا لیتا تھا۔ غربا بلا جھجک اپنی شکایات بادشاہ کے حضور پیش کرتے تھے اور عدل و انصاف پاتے تھے۔ شہنشاہ ہرمز دوم اپنے عہد حکومت کے آخر تک ملک کو خوش حال اور رعایا کو فارغ البال بنانے کی کوشش کرتا رہا لیکن زمانے نے اسے زیادہ مہلت نہ دی۔

قتل[ترمیم]

شہنشاہ ہرمز دوم کے دور حکومت کے آخری دور میں بحرین کے علاقے پر عربوں نے قبضہ کر لیا تھا۔ بحرین پر قبضہ کرنے کے بعد عربوں نے ایرانی مملکت میں دست اندازی کرنا شروع کر دی تھی۔ ان وجوہات کی بنا پر شہنشاہ ہرمز دوم نے عربوں کے خلاف 309ء میں فوج کشی کی۔ اس فوج کشی کے دوران شہنشاہ ہرمز دوم نے خود بھی لڑائی میں حصہ لیا تھا۔ اس لڑائی کے دوران شہنشاہ لڑتا ہوا مارا گیا تھا۔

یادگار[ترمیم]

شہنشاہ ہرمز دوم کے یادگاری سکوں پر بادشاہ اور ملکہ دونوں کی شہتیں موجود ہیں۔ ہرمز دوم ساسانی عہد کا پہلا بادشاہ تھا جس کے سکوں پر بادشاہ اور ملکہ دونوں کی شہتیں تھیں۔

اولاد[ترمیم]

شہنشاہ ہرمز دوم کے تین بیٹوں کا ذکر تاریخ میں ملتا ہے جن کے نام درج ذیل ہیں۔

  1. آذر نرسی
  2. ہرمز بن ہرمز دوم
  3. شہنشاہ اعظم شاہ پور دوم

شہنشاہ ہرمز دوم کا جانشین آذر نرسی ہوا تھا۔ شہنشاہ اعظم شاہ پور دوم پہلا اور آخری بادشاہ ہے جس کو شکم مادر ہی میں بادشاہ تسلیم کر لیا گیا تھا کیونکہ یہ ہرمز دوم کی وفات کے بعد پیدا ہوا تھا۔ [1]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. تاریخ ایران جلد اول (قوم ماد تا آل ساسان) مولف مقبول بیگ بدخشانی صفحہ 335 تا 338