ہسپانیہ
| Reino de España Regne d’Espanya Espainiako Erresuma مملکتِ ہسپانیہ |
|||||
|---|---|---|---|---|---|
|
|||||
| شعار: Plus Ultra |
|||||
| ترانہ: Marcha Real | |||||
| دارالحکومت | میدرد |
||||
| عظیم ترین شہر | میدرد | ||||
| دفتری زبان(یں) | ہسپانوی، کتالان، باسک اور گالیسین | ||||
| نظامِ حکومت
بادشاہ
وزیرِ اعظم |
آئینی ملوکیت جوان کارلوس اول خوسے لوئیس رودریگیس ثاپاتیرو |
||||
| آزادی - مسلمانوں سے آزادی اتحاد |
مسلمانوں سے 1492ء 1469ء |
||||
| یورپی یونین کی رکنیت | یکم جنوری 1986ء | ||||
| رقبہ - کل - پانی (%) |
505992 مربع کلومیٹر (51) 195365 مربع میل 1.04 |
||||
| آبادی - تخمینہ:2007ء - کثافتِ آبادی |
45,200,737 (28) 89 فی مربع کلومیٹر(112) 231 فی مربع میل |
||||
| خام ملکی پیداوار (م۔ق۔خ۔) - مجموعی - فی کس |
تخمینہ: 2007ء 1362 ارب بین الاقوامی ڈالر (11 واں) 33700 بین الاقوامی ڈالر (27 واں) |
||||
| انسانی ترقیاتی اشاریہ (تخمینہ: 2007ء) |
0.949 (13) – بلند |
||||
| سکہ رائج الوقت | یورو (EUR) |
||||
| منطقۂ وقت - عمومی ۔ موسمِ گرما (د۔ب۔و) |
مرکزی یورپی وقت (CET اور CEST) (یو۔ٹی۔سی۔ 1) مستعمل (یو۔ٹی۔سی۔ 2) |
||||
| ملکی اسمِ ساحہ (انٹرنیٹ) |
.es | ||||
| رمزِ بعید تکلم (کالنگ کوڈ) |
+34 |
||||
ہسپانیہ (انگریزی میں Spain، اردو میں ہسپانیہ یا سپین) سرکاری طور پر مملکت ہسپانیہ (Kingdom of Spain) کاستین، کتالان، باسک سمیت بہت سی قدیم قوموں کا ملک ہے۔ مغرب کی جانب يہ پرتگال، جنوب ميں جبل الطارق اور مراکش، اور شمال مشرق ميں انڈورا اور فرانس کے ساتھ ملتا ہے۔
فہرست
تاريخ[ترمیم]
اندلس براعظم یورپ کے جنوب مشرق میں بحر اوقیانوس، آبنائے جبل الطارق اور بحیرہ روم سے ملحق، ملک اسپین میں واقع ایک بڑا گنجان آباد علاقہ ہے۔ جس پر 19 جولائی 711ء کو مسلمان سپہ سالار طارق بن زیاد نے بادشاہ راڈرک (رودریگو)کو شکست دے کر قبضہ کیا تھا۔ سلطنتِ رومہ والے اس ملک کو ہسپانیہ کہتے تھے۔ یہ جرمن قوم "واندلس" (Vandalus) سے موسوم ہے۔
ہسپانیہ کا سیاسی نظام[ترمیم]
اسپین میں ملک کا سربراہ بادشاہ ہے اور موجودہ بادشاہ کا نام خوان کارلوس اول (Juan Carlos I)ہے، سپین میں پارلیمانی نظام ہے جس کے دو ایوان ہیں سینیٹ (ایوانِ بالا) اور کانگرس (ایوانِ زیریں)، حکومت کا سربراہ وزیر اعظم ہوتا ہے جس کو ہسپانوی زبان میں Presidente del Gobierno (یعنی حکومت کا سربراہ)کہتے ہیں۔
سپین کی انتظامی تقسیم[ترمیم]
سپین کو انتظامی لحاظ سے 17 خود مختار علاقوں (Comunidad Auónoma) اور 2 خود مختار شہروں (Ciudad Autónoma) میں تقسیم کیا گیا ہے، ہر علاقے کی ایک علاقائی پارلیمنٹ، ہائی کورٹ اور علاقائی حکومت ہے۔ علاقائی مجالس (پارلیمنٹ) ہر 4 سال بعد عوامی انتخابات کے ذریعے اپنے ممبران کا انتخاب کرتی ہیں جو کہ علاقائی حکومت کے سربراہ (صدر) کا چناؤ کرتی ہیں۔
ہسپانیہ کے مشہور شہر[ترمیم]
مذاہب[ترمیم]
اسپین میں زیادہ تر لوگ عیسائی مذہب کو مانتے ہیں۔ 76 فی صد ہسپانیہ کے باشندے عیسائی ہیں۔ 2 فی صد باشندے دوسرے مختلف مذاہب سے تعلق رکھتے ہیں اور 19 فی صد ایسے لوگ ہیں جو اللہ کے وجود کو نہیں مانتے۔ ہسپانیہ کے ایک عمرانی تحقیقاتی ادارے نے ایک مطالعے کی روشنی میں یہ بات واضح کی ہیں ہے کہ جو 76 فی صد عیسائی ہسپانیہ میں موجود ہیں ان میں سے 54 فی صد لوگ بہت ہی کم یا نہ ہونے کے برابر گرجا گھر جاتے ہیں۔ 15 فی صد لوگ سال میں ایک یا دو مرتبہ گرجا گھر جاتے ہیں۔ 10 فی صد لوگ مہینے میں ایک یا دو مرتبہ گرجا گھر جاتے ہیں اور19 فی صد لوگ ایسے ہیں جو ہر اتوار اور ہفتے میں کئی مرتبہ عبادت کی غرض سے گرجا گھر جاتے ہیں۔ 22 فی صد اسپین کے رہنے والے لوگ ہر مہینے مذہبی تہواروں میں حصہ لیتے ہیں۔
|
||||||||||||||||||||||||||
|
||||||||||||
|
||||||
حوالہ جات[ترمیم]
- جنوب مغربی یورپ
- آئینی بادشاہتیں
- مجلس یورپ کے رکن ممالک
- جنوبی یورپ
- ہسپانیہ
- دو براعظموں میں واقع ممالک
- بحر اوقیانوس کے کنارے واقع ممالک
- بحیرہ روم کے ممالک
- یورپی ممالک
- آزاد خیال جمہوریات
- نیٹو کے رکن ممالک
- یورپی اتحاد کے رکن ممالک
- اتحاد بحیرہ روم کے رکن ممالک
- اقوام متحدہ کے رکن ممالک
- ہسپانوی زبان بولنے والے ممالک اور علاقہ جات
- مغربی یورپ