ہشام بن عروہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
ہشام بن عروہ
(عربی میں: هشام بن عروة ویکی ڈیٹا پر (P1559) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 680  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مدینہ منورہ  ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات سنہ 763 (82–83 سال)  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
بغداد  ویکی ڈیٹا پر (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت Umayyad Flag.svg سلطنت امویہ
Black flag.svg دولت عباسیہ  ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
والد عروہ بن زبیر  ویکی ڈیٹا پر (P22) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
تلمیذ خاص عبد اللہ ابن مبارک  ویکی ڈیٹا پر (P802) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ الٰہیات دان،  محدث،  فقیہ  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شعبۂ عمل علم حدیث  ویکی ڈیٹا پر (P101) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
P islam.svg باب اسلام

ہشام ابن عروہ ابن زبیر قرشی مدنی ہیں، مدینہ منورہ کے مشہور تابعی ہیں، بڑے محدث ہیں، بڑے علما سے ہیں

نام ونسب[ترمیم]

ہشام نام، ابو عبد اللہ اور ابو المنذر ہے کنیت ہے،مشہور صحابی زبیر بن عوام کے پوتے تھے ان کے والد عروہ بھی بڑے جلیل القدر تابعی اور مدینہ کے ساتھ مشہور فقہا میں سے ایک تھے ۔

ولادت[ترمیم]

ہشام کی 61ھ مدینہ میں پیدا ہوئے اکابر صحابہ میں انہوں نے عبد اللہ بن عمرکو دیکھا تھا،ان کا بیان ہے کہ ایک مرتبہ مجھے اور میرے بھائی محمد کو ابن عمر کے پاس بھیجا گیا،انہوں نے گود میں بٹھا کر ہمارا بوسہ لیا [1] غالبا اسی یا کسی اورملاقات میں ابن عمرنے ان کے سرپردستِ شفقت پھیر کر انہیں دعادی۔[2]

شیوخ[ترمیم]

صحابہ میں انہوں نے صرف اپنے چچا عبد اللہ بن زبیراوردوسرے علما میں عبد اللہ بن عروہ،عباد بن عبد اللہ،عمروبن خزیمہ عوف بن حارث بن طفیل،ابی سلمہ بن عبد الرحمن،ابن منکدر وہب بن کیسان،صالح بن ابی صالح السمان ،عبد اللہ بن ابی بکر،عبد الرحمن بن سعد اور محمد بن ابراہیم وغیرہ سے استفادہ کیا تھا۔

تلامذہ[ترمیم]

ان کے تلامذہ میں یحییٰ بن سعید انصاری،ایوب سختیانی،مالک بن انس،عبید اللہ بن عمر،ابن جریج،سفیان ثوری،لیث بن سعد،سفیان بن عینیہ،یحییٰ بن سعید بن القطان اوروکیع ابن جراح لائق ذکر ہیں۔

فقہ[ترمیم]

ان کے والد عروہ مدینہ کے سات مشہور فقہاء میں سے تھے،ان کے تفقہ سے ان کو وافر حصہ ملا تھا،حافظ ذہبی ان کو فقیہ لکھتے ہیں۔[3]

وفات[ترمیم]

بغداد ہی میں 146ھ میں وفات پائی، اتفاق سے اس دن عباسیوں کے ایک بڑے جلیل القدر اورنامور غلام کا بھی انتقال ہو گیا تھا،اس لیے دونوں کے جنازے ایک ساتھ اٹھائے گئے،لیکن منصورنے ہشام کے رتبہ کی وجہ سے ان کے جنازہ کی نماز پہلے پڑھائی ہارون کی ماں خیز ران کے قبرستان میں دفن کیے گئے۔[4][5]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. تاریخ خطیب :14/38
  2. تہذیب التہذیب:11/48
  3. تذکرۃ الحفاظ:1/129
  4. ابن سعد،ج7،ق 22،ص67
  5. مرآۃ المناجیح شرح مشکوۃ المصابیح مفتی احمد یار خان جلد 8 صفحہ 610